ٹِڈّی آئی، تباہی لائی

پاکستان کو ان دنوں دو عشروں کے دوران ٹِڈّیوں کی بدترین افزائش کا سامنا ہے اور اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کی جاچکی ہے۔متعلقہ حکّام صحرائی ٹِڈّیوں کے لشکروں سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔لیکن یہ ٹِڈّیاں بڑے پیمانے پر فصلیں تباہ کر رہی ہیں، جس سے خوراک کی قلت کے خدشات پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں۔وزیر برائےنیشنل فوڈ سکیورٹی مخدوم خسرو بختیار کا قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ ٹِڈّیوں کا حملہ بے مثال اور انتہائی قابل تشویش ہے۔ یہ ٹِڈّیاں گزشتہ برس جون کے مہینے میں میں ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوئی تھیں اور پہلے ہی جنوب مغربی علاقوں میں بڑے پیمانے پر فصلوں کو تباہ کر چکی ہیں۔ ان علاقوں میں سب سے زیادہ کپاس، گندم اور مکئی کی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔پاکستان میں یہ ٹڈیاں جنوبی صوبے سندھ سے سفر کرتی ہوئیں شمال مغربی صوبے خیبرپختون خوا تک پہنچ چکی ہیں۔ انہیں مناسب موسم ملنے اور متعلقہ حکّام کی جانب سے ردعمل میں تاخیرکے باعث ان کی تعداد اور متاثرہ علاقوں میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

SEE NOMINATION →