ایک کے بعد دوسرا بحران

آٹے اور شکر کی قِلّت اور منہگائی کا بحران۔ کرونا کی وجہ سے پیدا ہونے والا بحران۔ ٹِڈّی دل کا بحران۔ پیٹرول کی قِلّت کا بحران۔ ادویہ کے نرخوں میں من مانے اضافے کا بحران۔ آکسیجن سلنڈر کے نرخوں میں ہوش ربا اضافے کا بحران۔ کرونا کے علاج کے لیےاستعمال ہونے والی ادویہ کے نرخ ہزاروں سے لاکھوں میں پہنچنے کا بحران۔ آج ملک کے طول و عرض میں بہت سے افراد یہ بحث کرتے نظر آتے ہیں کہ آخر ہم کب تک بحرانوں میں گِھرے رہیں گے۔ ایک کے بعد دوسرا بحران آتا ہے اور لوگوں کو ہلا دیتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے آج تک ہم کئی بحرانوں سے گزر ے ۔ قوموںکی تاریخ میں بحران آتے رہتے ہیں، دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کس بحران سے کس طرح نمٹا گیا اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج سے کیا سبق سیکھا گیا۔ پاکستان کی تاریخ ہر طرح کے بحرانوں سے بھری پڑی ہے، لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب ان کی رفتار تیز اور جہتیں وسیع ہوگئی ہیں۔ تاریخ کے طالب علم کے لیے اب یہ سوال پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے کہ بحران کیوں آتے ہیں؟ تاریخ اس کا یہ سادہ سا جواب دیتی ہے کہ جب زندگی کے کسی شعبے میں زوال آتا ہے یا اس شعبے کے لیے اربابِ اختیار غلط حکمت عملی اور ترجیحات کا تعین کرتے ہیں تو اس کے منطقی انجام کے طور پر اس شعبے میں بحرانی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

SEE NOMINATION →
مُٹھی گرم، عمارت بُلند

کراچی کے علاقے گولی مار نمبردومارچ 2020کے پہلے ہفتے میں تین عمارتیں منہدم ہونے کا جو افسوس ناک واقعہ پیش آیااس میں ستّائیس قیمتی جانیں گئیں۔یہ تینوں بلند رہائشی عمارتیں چالیس چالیس گز کے تین پلاٹس پر بنی تھیں، جن میں سے ایک عمارت مکمل طور پرمنہدم ہوگئی جس کی وجہ سے مزید دو عمارتیں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔منہدم ہونے والی عمارت تقریبا پچیس برس قبل ایک منزلہ عمارت کے طورپر تعمیر ہوئی تھی۔پھر اس پر مزید دو تین منزلیں ضابطوں کی خلاف ورزی کرکے بنائی گئیں اور چار پانچ ماہ قبل مزید تعمیرات کی گئیں جس کے نتیجے میں وزن بڑھااور عمارت برابر والی دو عمارتوںپرآگری۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ سانحہ علاقے میں تعینات سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کےمتعلقہ عملے کی مجرمانہ چشم پوشی کی وجہ سے پیش آیا۔حکّام نے متعلقہ افسران کو معطل کردیااور کہا گیا تھا کہ ان کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائےگا،لیکن تادمِ تحریر ایساکچھ نہیں ہواتھا۔ سپریم کورٹ نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیا اور حکّام کو صورت حال بہتر بنانے کی سختی سے ہدایت کی تھی ۔ اس سانحے نے شہر ی منصوبہ بندی اور شہر کا نظم و نسق چلانے کے پورے نظام پرایک مرتبہ پھر سوالات اٹھا دیے تھے۔لیکن ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا۔اس سے پہلے بھی اس خانماں برباد شہر میں بہت بڑےبڑے سانحات رونما ہوچکے ہیں،مگرمتعلقہ حکّام چند دنوں بعد انہیں بھلاکر پھر سے ’’پرانی روش‘‘ کے مطابق’’ کام‘‘ شروع کردیتے ہیں۔شہر میں منصوبہ بندی نام کی چڑیا کہیں نظر نہیں آتی۔یہاں صرف ایک ’’ضابطہ ‘‘ نظر آتا ہے،جسے’’ مُٹھی گرم کرنے کاضابطہ‘‘کہاجاتا ہے۔آپ اس ’’ضابطے‘‘ پر عمل کرکے کہیں بھی کچھ بھی کرسکتے ہیں ۔ اس واقعے کے تناظر میں اس اسٹوری میں کراچی کے اچھے دنوں کی چھ یادیں ہیں۔پھر اس کی منصوبہ بندی میںقیام پاکستان کے بعد کی جانے والی ابتدائی غلطیوں کا تذکرہ ہے۔گے چل کرکراچی کےلیےایک نئے پلان،ناکام ہوتے منصوبوں، ٹھوس منصوبہ بندی اور با اختیار ادارے کے فقدان ، انتظامی کنٹرول کے مسائل ،کراچی ڈیولپمنٹ پروگرام 2000،ماسٹر پلان سے محروم میگا پولیٹن شہر، کراچی،سونے کی چڑیا،بلدیہ عظمی کراچی کا اختیار ،دعوے داربہت،کراچی ڈیولپمنٹ پروگرام 2000 ،وصولی کرنے والے کم نہیںاور کراچی لینڈ یوزپلان 1987 کے عنوانات کے تحت کراچی کے مسائل اور معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔

SEE NOMINATION →