ماحولیاتی تبدیلی:سوات میں ایشیاء کے بڑے ٹراؤٹ ہیچری کو خطرات لاحق

یہ تحقیقاتی کہانی پاکستا ن کے صوبے خیبر پختونخوا کے دورافتادہ علاقے ضلع سوات میں ایشاء کے بڑے ٹراؤٹ ہچری جہاں پر سالانہ تیس لاکھ سے زیادہ ٹراؤٹ کے بچے پیدا کیں جاتے ہیں اور ملک کے مختلف سرد علاقوں میں ان کو فام میں پالانے کے لئے فروخت کیں جاتے ہیں۔ لیکن پچھلے کئی سالوں سے چھوٹے بچوں کے اموات اور بیماروں میں کافی اضافہ ہوچکا ہے جس کے وجہ سے اس صنعت کو کافی خطرہ ہے۔ماہرین کے مطابق 2010میں سیلاب کے بعد ٹراؤٹ مچھلی کے بیماریوں میں اضافہ شروع ہوا اور موجودہ وقت میں کئی ایسے بیماریاں جس کے تشحص اب تک ممکن نہیں کیونکہ حکومتی سطح پر قائم لیباٹری میں جدید سہولیات اور تربیت یافتہ عملے کی کمی ہے۔ ماہرین اور محکمہ ماہی پروری کے مطابق مسلسل درجہ حرات میں اضافے کی وجہ سے بھی ٹراؤٹ کے زندگی کو کافی مسائل کے سامنا کرنا پڑرہاہے کیونکہ بڑے مچھلیوں کے لئے 18ڈگری سینٹی گریڈ اور انڈوں کے حصول اور بچوں کے پیدائش کے لئے 12ڈگری سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ تقریبا تین لاکھ کلو گرام ٹراؤٹ مچھلی سوات سے پاکستان کے مختلف شہر وں میں کھانے کے لئے بھیج دیاجاتاہے جس کی مالیت کرڑوں روپے بنتا ہے۔ یہ کافی مشکل کہانی تھا کیونکہ اس کے فائل کرنے میں کئی ماہ کا عرصہ لگا کیونکہ انڈوں اور بچوں کے حصول کا سیزن سخت سردی جبکہ بڑے مچھلیوں کو شدید گرمی میں بھیجاجاتا ہے۔ حکومتی سطح پر اقدمات کے حوالے سے بھی کہانی معلومات کو شامل کیاگیا ہے جبکہ مقامی فام مالکان، ہوٹلز مالکان، سیاحوں، ماہرین، حکومتی حکام، محکمہ ماہی پروری، محکمہ موسمیات، پشاور یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیات اور دیگر متعلقہ افراد سے معلومات آکٹھے کیں گئے ہیں۔

SEE NOMINATION →