پربت، جھیل، جھرنے اور وادیاں

دنیا بھر میں سیّاحت کا شمار بلین ڈالرز انڈسٹری میں ہوتا ہے جس نے اکثر ترقی یافتہ ممالک کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ نیپال سمیت بہت سے ممالک ایسے ہیں جن کا مکمل دارومدار سیّاحت کی صنعت پر ہے۔ عالمی سطح پر سیاحت کی صنعت کے حجم اوراس کی اہمیت کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر برس مختلف ممالک صرف اس صنعت سے اربوں ڈالرزکمالیتے ہیں۔ جی ہاں ،اربوں ڈالرز۔لیکن کس قدر بدقسمتی کی بات ہے کہ سیّاحوں کی آمد اورسیّاحت سے آمدن کے ضمن میں یورپ تو ایک طرف،ہم جنوبی ایشیا میں بھی کسی خاص مقام کے حامل نہیں ہیں۔حالاں کہ سیّاحت کے لیے پُرکشش مقامات کےضمن میں پاکستان جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ ترقی یافتہ دنیا کے بھی بہت سے ممالک پر برتری رکھتا ہے ۔ لیکن ماضی کی حکومتوں نے کبھی اس سے فائدہ اٹھانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی ۔ اس صنعت کے فروغ میں عدم دل چسپی اور جارحانہ مارکیٹنگ کے ذریعے دنیا کو پاکستان کے زبردست سیّاحتی مقامات سے آگاہ نہ کرنے کی وجہ سے ہم اُن اربوں ڈالرز سے محروم ہیں جو ہمیں اس اہم صنعت سے حاصل ہوسکتے تھے۔اس ضمن میں 2019 میں بھی کچھ خاص نہیں کرسکے۔البتہ بعض مثبت اقدامات اٹھائے گئے جن کا اس جائزے میں ذکر کیا گیا ہے۔

SEE NOMINATION →
کرونا وائرس: خدشات اور امکانات

اس فیچر میں یہ جائزہ لیا گیا تھاکہ دنیا بھر میں کرونا وائرس نے معیشتوںکو کیسے اور کتنا نقصان پہنچایا ہے اور دوسری جانب زندگی کے کن شعبوں اور پاکستان سمیت کن ممالک کو اس سے کس طرح فایدہ پہنچا ہے یا پہنچ سکتا ہے۔چناں چہ یہ لکھا گیا تھا: کرونا وائرس جہاں دنیا بھر میںدہشت کی علامت بن کر ابھرا ہے وہاں اس میں بعض ممالک ،صنعتوں اور شعبوں کے لیے ممکنہ امکانات بھی پوشیدہ نظر آرہے ہیں۔ماہرین ِ اقتصادیات کے مطابق جس طرح ہر بحران میں بعض مواقعے بھی پوشیدہ ہوتے ہیں اسی طرح کی صورت حال ممکنہ طورپر موجودہ حالات میں بھی پیدا ہوتی نظر آرہی ہے،لیکن ابھی اس بارے میں حتمی طورپرکچھ بھی کہنا کسی بھی ماہرِ اقتصادیات کے لیے ممکن نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وائرس کا پھیلاو اتنی تیزی سے جاری ہے کہ ہر تھوڑی دیر بعداس سے متعلق ایک نئی خبر آجاتی ہے جس سے پچھلے اندازے کسی حد تک غیر موثر ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔تاہم اس سب کے باوجود بعض ممالک اور شعبے اس صورت حال میں اپنے لیے مواقعے دیکھ رہے ہیں۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال ٹیکنالوجی سے متعلق بعض ادارے ہیں۔رپورٹس کے مطابق دنیا کے مختلف شہروں میں بسنے والےافرادلاک ڈاون کی وجہ سے ہونے والی بوریت دورکرنے کے لیے دوستوں اور دیگر رشتے داروں سے رابطے رکھے ہوئے ہیں جس کے لیے وہ آن لائن پلیٹ فارمز کا سہارا لے رہے ہیں۔ یورپ میں واٹس ایپ کال اورمیسج میں بیس فی صد اضافہ ہوچکا ہے۔اسی طرح وہاں اسکائپ کے استعمال میںسو فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دفتری کاموں کے لیے ملازمین وڈیو کال کا سہارا لے رہے ہیں اور اسی کے ذریعے میٹنگز کررہے ہیں۔وڈیو کانفرنسنگ کا سافٹ ویئر بنانے والی ایک کمپنی کو کرونا وائرس کے پھیلنے کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں بڑا فائدہ ہوا ہے۔ یوٹیوب، نیٹ فلکس، فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ وغیرہ کے صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اشتہارات دینے والے اداروں نے مذکورہ کمپنیز کو دگنے پیسوں میں اشتہارات دینا شروع کردیے ہیں۔ یہ تو صرف ایک شعبے کا احوال ہے۔ایسے کئی دیگر شعبے بھی ہیںجن میں صحت عامہ سے متعلق آلات ، ادویہ ،طبّی اور حفاظتی سامان تیار کرنے والے ادارے سرِ فہرست ہیں۔اسی طرح ماہرین بعض ممالک کی معیشتوں کےلیے بھی اس بحران میںمواقعےدیکھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اب تک سامنے آنے والی صورت حال میںپاکستان بھی ممکنہ طورپر ان ممالک میں شامل ہے جسے اس بحران سے فایدہ پہنچ سکتا ہے۔ تیل کی قیمتیں کم ہو گئی ہیںاور مزید کمی بھی خارج از امکان نہیں ہے۔اس سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں ۔ سستا تیل خریدنے سے پاکستان کا درآمدی بل کم ہو گا اور یوں ادائیگیوں کا توازن (بیلنس آف پیمنٹس) بہتر ہو جائے گا اوربیرونی اکاؤنٹس کے خسارے میں کمی واقع ہو گی۔

SEE NOMINATION →