ضلع باجوڑ کی پہلی خاتون گولڈ میڈلسٹ

باجوڑ سے تاریخ میں پہلی بار کسی خاتون نے ایم ایس سی فزکس میں گولڈ میڈل حاصل کرلیا اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے شعبہ فزکس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والی طالبہ فاطمہ اقبال نے خیبر نیوز سے بات کرتی ہوئی کہاکہ جب میں نے ایم ایس سی فزکس میں ایڈمشن لیا تب سے ہر کوئی مجھے گھورتے اور کہتے کہ یہ سبجیکٹ لڑکیوں کا نہیں ہے آپ نے کیوں اس میں داخلہ لیا ہے، لیکن میں اپنے ارادے میں پختہ تھی جس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے مجھے اس عظیم اعزاز سے نوازا ۔ فاطمہ اقبال کا کہنا ہے کہ قبائل میں عام طور پر لڑکیوں کے تعلیم میں بہت سے دشواریوں کا سامنا ہوتاہے جس سے ہمارے علاقے کے بہت سے لڑکیاں باوجودخواہش تعلیم کے زیور سے محروم ہوتیں ہیں اسی وجہ سے میں نے عزم کی اور اپنے ابائی ضلع باجوڑ میں اسلامیہ پبلک سکول برائے خواتین بنایا ہے جہاں صرف لڑکیاں ہی تعلیم حاصل کرسکیں گی۔ فاطمہ اقبال کا تعلق قبائلی ضلع باجوڑ سے ہے اور انہوں نے گزشتہ دنوں اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور سے شعبہ فزکس میں گولڈ میڈل حاصل کیا جس کو تعلیمی حلقوں کے علاوہ تعلیم سے شوق رکھنے والے مختلف لوگوں نے سراہا اور ان کو مبارک باد دی ۔ عوام نے فاطمہ اقبال کو دیگر خواتین کے لئے بہترین نمونہ قراردیا۔

SEE NOMINATION →
بلوچستان: ناقص انٹر نیٹ سگنل ،آن لائن کلاسز میں درپیش مسائل

ورونا وائرس کی وبا کے باعث دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تعلیمی سلسلہ تقریبا چھ ماہ تک تعطل کا شکار رہا ۔ اس دوران پاکستان بھر کے طلباء طالبات کو آن لائن کلاسز کے دوران بے پناہ مسائل کا سامنا رہا۔ بلوچستان کے طلباء کے لئے یہ صورتحال کچھ زیادہ ہی ابتر رہی کیونکہ صوبے کی کسی یونیورسٹی میں آن لائن تعلیم کے لئے سہولیات دستیاب نہیں تھیں یہاں تک کے زیادہ تر اساتذہ بھی زوم یا گوگل میٹ جیسے سوفٹ ویئرز استعمال کرنا نہیں جانتے تھے۔ اس رپورٹ کے لئے ڈی ڈبلیو کی نمائندہ نے کوئٹہ کی تمام یونیوسٹیوں کے طلباء سے رابطہ کر کے ان کے مسائل معلوم کئے جن میں انٹر نیٹ سگنلز اور لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ سر ِ فہرست تھا۔ جبکہ بولان، اور کوہ سلیمان سے ارد گرد کے علاقوں میں صورتحال اس قدر کشیدہ تھی کہ وہ مقامی طلباء جو ملک بھر کی یونیورسٹیوں سے اپنے گھروں کو لوٹ آئے تھے مئی ، جون کی شدید چلچلاتی دھوپ میں کھلے میدان یا درختوں پر چھپر بنا کر آن لائن کلاسز لینے پر مجبور تھے کیونکہ صوبے کے دور دراز علاقوں میں انٹر نیٹ انتہائی ناقص ہے۔

SEE NOMINATION →
باجوڑ میں تعلیم کا شعبہ زبوں حالی کا شکار ، 101 گاوں میں سکول نہیں

باجوڑ: تعلیم کا شعبہ تباہی وبربادی کا شکار ضلع باجوڑ کے101گاوں میں سکول نہیں 2007سے قبائلی علاقوں میں نئے تعلیمی اداروں کے قیام پر پابندی آج بھی برقرار والدین بچیوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں لیکن سکول ہی موجود نہیں تو وہ کیا کریں کہاں جائیں لڑکیوں کیلئے جہاں پرائمری سکول ہیں وہاں مڈل سکول نہیں ، جہاں مڈل ہے وہاں ہائی سکول نہیں 68تعلیمی ادارے ایسے ہیں جن کی عمارتیں تو بن گئی ہیں مگر ابھی تک سٹاف فراہم نہیں کیاگیا باجوڑ میں سکولوں کی کمی کے باعث 75ہزار 5سو 89بچے سکولوں سے باہر ، مزدوری میں مصروف ہیں ضلع باجوڑ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا اور رقبے کے لحاظ سے چھوٹا ضلع ہے تحریر : حسبان اللہ ضلع باجوڑ کے تحصیل وڑ ماموند کے گاؤں ڈبر سے تعلق رکھنی والی بچی ہنسا ء بی بی نے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد سکول اسلئے چھوڑدیا کہ اُس کے گاؤں کے قریب کوئی مڈل سکول نہیں تھا جبکہ جس پرائمری سکول میں وہ زیر تعلیم تھی وہ اُس کے گاؤں سے دو کلومیٹر دور تھا ۔ ہنساء بی بی کے والد کا کہنا ہے کہ ہنساء بی بی کاروزانہ سکول آناجانا بہت مشکل تھا اور اس کے باوجود بھی اپنی بیٹی ہنساء بی بی پر پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کیا ۔ ہنساء بی بی کے گاؤں ڈبر میں لڑکیوں کیلئے کوئی پرائمری سکول نہیں ہے ۔ ہنساء بی بی ایک ذہین طالبہ ہے اور وہ اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہے مگر اُس کے گاؤں کے آس پاس لڑکیوں کیلئے کوئی بھی مڈل سکول نہیں ہیں۔ اس کے گاؤں کے سینکڑوں بچیاں حصول تعلیم سے محروم ہیں ۔ یہاں کے باسی اپنے بیٹیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتے ہیں مگر حکومت کی جانب سے اس گاؤں میں ابھی تک پرائمری سکول قائم نہیں کیاگیاہے ۔ڈبر گاؤں سے لڑکیوں کا پرائمری سکول دو کلومیٹر واقع ہے اور اس گاؤں میں ذیادہ تر بچیاں پیدل سکول جاتی ہیں کیونکہ اس علاقہ میں گاڑیوں کی آمدورفت بہت کم ہیں۔ ماموند کے علاقہ ڈبرکے قبائلی مشر حاجی محمد یوسف نے بتایا کہ ہمارے گاؤں میں لڑکیوں کا مڈل سکول نہیں ہے جبکہ پرائمری سکول بھی دوسرے علاقہ میں قائم کیاگیاہیں جوکہ ڈبر گاؤں سے کافی دور ہے ۔ اور اس کے علاوہ بوائز کیلئے مڈل سکول تو بنایاگیا ہے مگر ابھی تک سٹاف فراہم نہیں کیاگیاہے جس کیوجہ سے ڈبر گاؤں کے بچے پرائمری تعلیم کے بعد دوسرے علاقوں میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے جاتے ہیں ۔ ہم نے بار بار حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈبر میں لڑکیوں کیلئے پرائمری سکول قائم کیاجائے اور بوائز کیلئے قائم کیاگیا مڈل سکول کو فعال بنایا جائے ۔ ضلع باجوڑ کے تحصیل اتمانخیل علاقہ حیاتے جو کہ تحصیل اتمانخیل کا ایک گنجان آباد علاقہ ہے اور اسکی آبادی 60ہزار نفوس پر مشتمل ہیں۔ علاقہ حیاتے میں 60ہزار آبادی کیلئے قائم واحد لڑکیوں کے پرائمری سکول میں بچیاں چہارم تک تعلیم حاصل کرنے کے بعدمزید تعلیم جاری نہیں رکھتے اور تعلیم ادھورا چھوڑ جاتے ہیں۔ علاقہ کے مقامی شخص مستقیم خان کے مطابق باجوڑ کے تحصیل اتمانخیل کا علاقہ حیاتے ایک گنجان آباد علاقہ ہے اور یہاں پر 2001میں قائم ہونیوالا واحد پرائمری سکول کو تاحال مڈل کا درجہ نہیں دیاجاسکا ۔مستقیم جان کا کہنا ہے کہ ہم نے بار بار محکمہ تعلیم باجوڑ کے حکام کو مطلع کیا مگر اُن کا موقف ہے کہ ہم نے سکولوں کی اپ گریڈیشن کیلئے انرولمنٹ کی پالیسی بنائی ہے اور جس سکول کا انرولمنٹ ذیادہ ہو اُس کو اپ گریڈ کرتے ہیں۔ لیکن مقامی لوگ کہتے ہیں کہ مذکورہ تعلیمی ادارے میں پہلے تعداد 600تھی اور اب 300تک آگئی ہے کیونکہ ذیادہ تر والدین اپنی بچیوں کو اس لئے نہیں بھیجواتے کہ چہارم کے بعد ویسے بھی مزید تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے اور اس وجہ سے ذیادہ تر والدین کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہیں۔ اُن کے مطابق علاقہ حیاتے میں قائم واحد گرلز پرائمری سکول(اوگئی شاہ) کیلئے عمارت میں مڈل سکول کے ضروریات پوری کرنے کیلئے کمرے موجود ہیں لہذا اس سکول کو مڈل کا سینکشن دیاجائے تو یہاں کے بچیاں مزید تعلیم جاری رکھ سکیں گے ۔ محکمہ تعلیم حکام کے مطابق سکولوں کی اپ گریڈیشن یعنی پرائمری سے مڈل کو منتقل کرنے کیلئے انرولمنٹ پالیسی بنائی گئی ہے اور سب سے پہلے اپ گریڈیشن اُس سکول کی ہوتی ہے جس میں بچوں کی تعداد ذیادہ ہو ۔ ضلع باجوڑ کے تحصیل سلارزئی کا ایک گاؤں اسلام گٹ جوکہ ایک پہاڑی اور سرحدی علاقہ ہے ۔ یہاں پر قیام پاکستان سے لیکر اب تک کوئی بھی سرکاری سکول قائم نہیں کیاگیاہے ۔ چار سو گھرانوں پر مشتمل اسلام گٹ گاؤں میں ایک پراجیکٹ (این جی او ) نے عارضی سکول قائم کیا مگر وہ بھی بند ہوگیا ہے۔ اب لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت دو اساتذہ بھرتی کرکے اپنے بچوں کی پڑھائی کیلئے تعینات کیا ہے ۔ یہاں کے ایک رہائشی محمد طاہر نے بتایا کہ ہم نے با ر بار حکومت کو درخواست دی کہ ہمارے علاقہ میں سکول قائم کیاجائے کیونکہ ہماری بچے حصول تعلیم سے محروم ہیں ا ور پرائمری تعلیم حاصل کرنے کے بعد ذیادہ تر بچے تعلیم ادھورا چھوڑ کر اندرون وبیرون ملک مزدورویوں کیلئے جاتے ہیں ۔ ضلع باجوڑ اور تمام قبائلی اضلاع میں نئے سکولوں کی تعمیر پر پابندی قبائلی اضلاع اور باجوڑ میں 2007کے بعد کوئی نیا سکول نہیں بنا ۔ محکمہ تعلیم کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وفاقی حکومت اور اب صوبائی حکومت نے قبائلی اضلاع میں نئے سکولوں کے تعمیر پر پابندی عائدکی ہیں اور سال2007کے بعد تمام قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں کوئی نیا سکول تعمیر نہیں کیاگیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ 68تعلیمی ادارے ایسے ہیں جن کے عمارتیں تو بن گئی ہیں مگر ابھی تک سٹاف فراہم نہیں کیاگیاہیں۔ ان میں ایسے ادارے بھی ہیں جو 2003میں بنائے گئے ہیں مگر ابھی تک سٹاف فراہم نہیں کیاگیا جبکہ اس کے علاوہ ان میں اپ گریڈ ہونیوالے سکول بھی شامل ہیں جن کی اپ گریڈ یشن کی گئی ہیں مگر سٹاف فراہم نہ کرنے سے سکول فعال نہ ہوسکے۔ تحریک انصاف کے اراکین صوبائی اسمبلی انورزیب خان اور انجینئر اجمل خان نے سکولوں پر عائد پابندی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ یہ سابق حکومت کی جانب سے پابندی عائد کی گئی تھی جوکہ اب بھی برقرار ہے اور انشاء اللہ ہم اس کے خاتمے کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں ۔ ہم نے مختلف علاقوں میں لڑکوں اور لڑکیوں کے پرائمری سکول، مڈل ، ہائی اور ہائیر سیکنڈری سکولوں کی ڈیمانڈ کی ہیں لیکن پالیسی کے باعث رواں سال سالانہ ترقیاتی پروگرام میں کوئی نئے سکول کی تعمیر شامل نہیں ہیں تاہم حکومت نے پہلے سے قائم مختلف سکولوں میں 2ہزار نئے کمرے تعمیر کرنے کی منظوری دی ہیں جس سے سکولوں میں ڈراپ آؤٹ کی شرح کم ہوجائیگی اور جو سکول پہلے سے قائم ہیں اور وہاں سٹاف فراہم نہیں کیاگیا ہیں وہاں سٹاف بھی جلد فراہم کیا جائیگا ۔ باجوڑ کے101گاؤں میں سکول نہیں ہیں قبائلی علاقے جو کہ اب خیبر پختونخواہ میں ضم ہوگئے ہیں ۔ا ن میں ضلع باجوڑآبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا اور رقبے کے لحاظ سے چھوٹا ضلع ہے۔ ضلع باجوڑ کی آبادی 2017کے مردم شماری کے مطابق 1093684ہیں۔ جن میں ماموندتحصیل کی آبادی 311873، سلارزئی تحصیل کی 268517، خار تحصیل کی 247510،اتمانخیل تحصیل کی 107356، تحصیل ناوگئی کی آبادی 79002،تحصیل برنگ کی آبادی 76558اور تحصیل برچمر کنڈ کی آبادی 2868ہیں۔ ضلع باجوڑ میں تعلیم کے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اور باجوڑ کے زیادہ تر گاوٴں میں پرائمری سکول نہیں ہے۔ محکمہ تعلیم کے 2015میں کی جانے والے سروے کے مطابق 101گاوٴں ایسے ہیں جہاں پر یا تو گرلز سکول نہیں یا بوائز سکول نہیں اور یا تو دونوں نہیں ہے اور اس طرح 101گاؤں میں 140پرائمری سکولوں کی ضرورت ہیں۔ تحصیل ماموند میں 33گاوٴں ایسے ہیں جہاں لڑکیوں کے سکول نہیں ہیں اور 23گاوٴں ایسے ہیں جہاں بوائز سکول نہیں ہے۔ تحصیل اتمان خیل میں 16گاوٴں ایسے ہیں جہاں لڑکیوں کے سکول نہیں ہیں جبکہ 11گاوٴں ایسے ہیں جہاں لڑکوں کے سکول نہیں ہیں۔ تحصیل خار کے چار گاوٴں ایسے ہیں جہاں لڑکیوں کے جبکہ 6گاوٴں ایسے ہیں جہاں لڑکوں کے سکول نہیں ہیں۔ تحصیل سلارزئی کے14گاوٴں میں لڑکیوں کے سکولوں کی ضرورت ہیں جبکہ 2گاؤں میں لڑکوں کے سکولوں کی ضرورت ہیں ۔تحصیل چمرکنڈ میں دو گاوٴں ایسے ہیں جہاں لڑکیوں کے سکول نہیں ہیں۔ تحصیل برنگ میں 20گاوٴں ایسے ہیں جہاں لڑکیوں کے سکول نہیں ہے جبکہ 2 گاوٴں ایسے ہیں جہاں لڑکوں کے سکول نہیں ہے ، تحصیل ناوگئی میں 6گاوٴں ایسے ہیں جہاں گرلز سکول نہیں ہے جبکہ ایک گاوٴں ایسا ہے جہاں لڑکوں کا سکول نہیں ہے۔ محکمہ تعلیم باجوڑ کے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر حمید اللہ جان کے مطابق آبادی کے تناسب سے مزید 250سکولوں کی ضرورت ہیں کیونکہ تمام قبائلی اضلاع میں ضلع باجوڑ کی آبادی ذیادہ ہیں اور آبادی کے تناسب سے مزید 250 پرائمری سکولوں کی ضرورت ہیں۔ لڑکیوں کیلئے ہائی سکولز نہ ہونے کی برابر آبادی کے لحاظ سے بڑے تحصیل ماموند میں اب تک لڑکیوں کاہائی سکول قائم نہیں کیاگیا ۔ضلع باجوڑ کا تحصیل ماموند جو کہ آبادی کے لحاظ سے ضلع کا بڑا تحصیل ہے ،سب سے ذیادہ ضرورت ماموند میں سکولوں کی ہے۔ماموند میں آبادی کے تناسب سے سکولوں کی قیام کی اشد ضرورت ہے ۔ماموند تحصیل میں کوئی گرلز ہائی سکول نہیں ہے اور یوں بچیاں پرائمری اور مڈل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد تعلیم ادھورا چھوڑجاتے ہیں۔اس کے علاوہ دیگر تحصیلوں میں بھی لڑکیوں کے ہائی سکول بہت کم ہیں۔تحصیل خار میں لڑکیوں کیلئے چار ہائی سکول ہیں۔ ناوگئی ،سلارزئی اور برنگ میں دو دو ہائی سکول قائم ہیں جبکہ اتمانخیل میں لڑکیوں کیلئے صرف ایک ہائی سکول ہیں۔ لڑکیوں کیلئے جو ہائی سکولز ہیں اُن میں سائنس ٹیچر نہ ہونے کیوجہ سے طالبات کی پڑھائی متاثر ہورہی ہیں۔ لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیوں کے سکولوں کی تعداد بہت کم ہیں۔ ضلع باجوڑ میں لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں پر اگر نظر ڈالا جائے تو لڑکیوں کے سکول لڑکوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ ضلع باجوڑ میں لڑکوں کے ڈگری کالجز کی تعداد 3ہیں جبکہ لڑکیوں کیلئے پورے باجوڑ میں صرف ایک ڈگری کالج قائم ہے ۔ ضلع میں لڑکوں کے پرائمری سکولوں کی تعداد 336جبکہ لڑکیوں کی پرائمری سکولوں کی تعداد173ہیں ۔ اس کے علاوہ لڑکوں کے مڈل سکولوں کی تعداد 33جبکہ لڑکیوں کے مڈل سکولوں کی تعداد 23ہیں۔ لڑکوں کے ہائی سکولوں کی تعداد 32جبکہ لڑکیوں کے ہائی سکولوں کی تعداد 11ہیں۔ لڑکوں کے ہائیر سیکنڈری سکولز 2ہیں جبکہ لڑکیوں کیلئے کوئی ہائیر سیکنڈری سکول نہیں ہیں۔ ضلع باجوڑ میں سکول سے باہر بچوں کی تعداد باجوڑ میں محکمہ تعلیم کے 2015ءء میں ہونیوالے سروے کے مطابق (75589) بچے سکولوں سے باہر ہیں اور اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سکولوں کی کمی ہیں۔اس سروے کے بعد سکول سے باہر بچوں کی تعداد معلوم کرنے کیلئے کوئی سروے نہیں کیاگیا اور اس تعداد میں مزید اضافہ ہواہے ۔ لڑکیوں کی سکولوں میں سٹاف کی کمی ضلع باجوڑ کے ذیادہ تر سکولوں میں سٹاف کے کمی کا مسئلہ ہمیشہ سے رہا ہے اور خصوصاََ لڑکیوں کے سکولوں میں سٹاف کی بہت کمی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ قبائلی اضلاع اور خصوصاََ باجوڑ کے لوگ پردہ کے ذیادہ پابند ہیں اور عام ٹرانسپورٹ میں عموما بے پردگی کا احتمال ذیادہ ہوتاہے اسلئے وہ لوگ جن کے پاس اپنی گاڑی نہیں ہوتی وہ یا تو لڑکیوں کو سکول نہیں بھیجتے یا بلوغت کے بعد لڑکیوں کو سکول سے نکالا جاتاہے ۔ صرف اُن علاقوں میں بلوغت کے بعد لڑکیاں تعلیم جاری رکھتی ہیں جہاں ہائی سکول اُن کے قریب ہو ۔ اس کے علاوہ جن علاقوں میں سڑکیں نہیں ہیں وہاں پر ٹرانسپورٹ کابڑا مسئلہ رہاہے اور گاڑیوں کی آمد ورفت کم ہونے کے باعث اکثر لوگ بچیوں کو سکول نہیں بھیجواتے ۔ مہنگائی کیوجہ سے بچیوں کے تعلیم پر اثرات ڈراپ آؤٹ یا داخلہ نہ لینے کی وجوہات میں ایک مہنگائی بھی ہے اور مہنگائی کا اس میں اہم کردار ہے کیونکہ ذیادہ تر لوگ تعلیم کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتے ۔ خرچہ کا مقصد کہ بچیوں کے سکولوں کو آنے جانے کیلئے ٹرانسپورٹ کا خرچہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہیں اور اکثر لوگ مہنگا ئی کیوجہ سے بچوں پر تعلیم نہیں کرسکتے ۔ لڑکیوں کیلئے روزگار کے مواقع نہ ہونا عام طورپر لڑکوں کے تعلیم پر اس لئے توجہ دی جاتی ہے کہ وہ بڑے ہوکر یا لکھ پڑھ کر کوئی روزگار تلاش کرینگے اور گھرانے کی معاشی حالت بدلی گی لیکن لڑکیوں کیلئے روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہے اسلئے اُن کو یا تو سکول میں داخل نہیں کیا جاتا یا سکول چھوڑوایا جاتاہے ۔ باجوڑ میں شرح خواندگی کا تناسب ضلع باجوڑ میں خواتین کے شر ح خواندگی میں پانچ سال کے دوران 3.5فیصد اضافہ ہوا۔ ضلعی انتظامیہ باجوڑ کے ویب سائٹ پر فراہم کئے گئے معلومات کے مطابق محکمہ شماریات کے مردم شماری 2017ءء اعداد وشمار کے مطابق ضلع باجوڑ کی شرح خواندگی کا تناسب 20فیصد ہیں مردوں کی شرح 29.95فیصد جبکہ خواتین کی شرح خواندگی کا تناسب 7.8فیصد ہیں۔ 2013ءء تک یہ اعداد وشمار کچھ یوں تھا ۔ ضلع باجوڑ کا شرح خواندگی 17.39فیصد تھا۔ مردوں کا شرح خواندگی 27.95جبکہ خواتین کا شرح خواندگی 4.75فیصد تھی ۔ نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ گھر کی دہلیز پر تعلیم فراہم کرنے میں مددکرتاہے ضلع باجوڑ نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کی جانب سے مختلف علاقوں میں 26فیڈر سکولز قائم کئے گئے ہیں جو اُن بچوں کو گھر کی دہلیز پر تعلیم کرتے ہیں جن کے علاقوں میں سکولوں کو رسائی مشکل ہوتی ہے یعنی اسکول اُن کے گھر سے دور ہوتے ہیں۔ یہ فیڈر سکول قریبی پرائمری سکول کیساتھ منسلک ہوتے ہیں اور جب بچہ اپنی تعلیم فیڈر سکول میں پورا کرتاہے تو اُس کو سرٹیفکیٹ پرائمری سکول کی جانب جاری کیاجاتاہے ۔ فیڈر سکولوں میں جو زیر تعلیم بچے ہیں وہ دراصل میں پرائمری سکول کے طلبہ ہوتے ہیں اور ہم پرائمری سکولوں کو سپورٹ فراہم کرتے ہیں ۔ این سی ایچ ڈی ضلع باجوڑ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد ریاض نے بتایا کہ این سی ایچ ڈی کے بنیادی تین مقاصد ہیں جن میں ایک معیاری تعلیم کی فراہمی ، 100فیصد انرولمنٹ کو یقینی بنانا اور ڈراپ آؤٹ کو صفر فیصد پر لانا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع باجوڑ میں داخلہ نہ لینے اور ڈراپ آؤٹ کے کئی وجوہات ہیں جن میں ایک یہ کہ ذیادہ تر علاقوں میں سکولز نہیں ہیں۔ اور جن علاقوں میں سکولز نہیں ہوتے تو وہاں کے والدین اپنے بچوں کو دور دراز قائم سکولوں میں نہیں بھیجواتے ۔ اس کے علاوہ ذیادہ تر سکولوں میں گنجائش سے ذیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں جس کیو جہ سے ڈراپ آؤٹ ہوتاہے ۔ جبکہ غربت کیوجہ سے ذیادہ تر بچے اپنے گھروں کے ذریعہ آمدن ہوتے ہیں کیونکہ غربت کیوجہ سے اکثر بچے مزدور ی کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں اے ڈی محمد ریاض نے بتایا کہ والدین میں شعور کی کمی کے باعث ذیادہ تر بچے اس وجہ سے سکولوں سے باہر ہیں کہ وہ غریب ہیں لیکن ایک پانچ کا سال بچہ مزدوری کا قابل نہیں ہوتااسلئے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو سکولوں میں داخل کرائیں ۔ محمد ریاض نے کہا کہ نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ کے زیر اہتمام ہر سال تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے مختلف دن منائے جاتے ہیں جیسا کہ شرح خواندگی کا عالمی دن ، داخلہ مہم ہفتہ (انرولمنٹ ویک ) وغیرہ وغیرہ ۔ انھوں نے بتایا کہ این سی ایچ ڈی سال میں دو مرتبہ داخلہ مناتی ہے جن میں پہلا فیز اپریل سے لیکر اگست تک ہوتاہے جبکہ دوسرا فیز ستمبر سے لیکر دسمبر تک ہوتاہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سکول میں داخلہ لینے کیلئے وقت کی کوئی پابندی نہیں اور اپریل سے لیکر دسمبر تک کسی بھی وقت والدین اپنے بچوں کو سکولوں میں داخل کرواتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ این سی ایچ ڈی کے جن 26گاؤں میں سکول قائم ہیں وہاں پر ہم اپنے سکول کے(یونیورسل پرائمری ایجوکیشن رجسٹرڈ) میں اُن بچوں کابھی اندراج کرتے ہیں جو نئے پیدا ہوتے ہیں تاکہ بعد میں ہمیں داخلہ مہم میں آسانی ہو ۔ایک سوال کے جواب میں اے ڈی محمد ریاض نے کہا کہ ہمارے ان 26سکولوں میں ان رولمنٹ کی شرح 96فیصد جبکہ ڈراپ آؤٹ کی شرح 2سے 3فیصد ہیں ۔اُن کے مطابق ضلع باجوڑ میں سکولوں سے لڑکیوں کے ڈراپ آؤٹ کی بنیادی وجہ سکولوں کی کمی،سکولوں تک رسائی نہ ہونا ، علاقائی رسم ورواج اور غربت شامل ہیں۔ ہمارے سکولوں میں ایک سکول قدم چینہ میں واقع ہے جس میں اب تک تین بچوں نے سکول چھوڑا ہے ۔ ان میں ایک بچہ مزدوری کیلئے کراچی گیا ہے جبکہ دو بچیوں کو والد نے اس وجہ سے نکالا کہ بقول اُن کے اب بچیوں کی عمر یں ذیادہ ہیں اوراُس نے علاقائی رسم ورواج کے مطابق بچیوں کو نکالا۔ اے ڈی محمد ریاض نے مزید بتایا کہ جب کوئی بچہ سکول نہیں آتا تو ہم چھ ایسے اقدامات اُٹھاتے ہیں کہ بچہ سکول آجائے سب سے پہلے کلاس کا بڑا لڑکا اُس بچے کے گھر جاکر بچے کو قائل کرنے کی کوشش کرتاہے ، دوسرا یہ کہ ٹیچر اُس کے والد سے بات کرتاہے ، تیسرا یہ کہ کمیونٹی میں ہمارے رضاکارہوتے ہیں اور اُن کے ذریعے والد کو پیغام پہنچاتے ہیں ، اُس کے بعد اثر ورسوخ رکھنے والے قبائلی مشران کے ذریعے اُس خاندان کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بعدمیں گاؤں میں اعلان کرتے ہیں کہ مذکورہ بچہ سکول نہیں آتا جبکہ آخر میں ہمارا فیڈر سکول کا ٹیچر ہمارے فیلڈ سپروائزر کو مطلع کرتاہے اور پھر اُس کا نام داخل خارج رجسٹرڈ میں لکھا جاتاہے ۔ این سی ایچ ڈی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ ضلع باجوڑ کے اکثر علاقوں میں بچوں کی رسائی سکولوں تک مشکل ہوتی ہے تو اس مقصد کیلئے ہم نے مزید 159فیڈر سکول قائم کرنے کیلئے پروپوزل اپنے ہیڈآفس کو بھیجا ہے جس کی ابھی تک منظور ی نہیں ہوئی ہیں۔

SEE NOMINATION →
Reading books is what strengthen your mind and brain

Books are considered our honest friends wherever we need help they are ready to provide us every figure in the world. Human beings live their lives to energized themselves from food and energy drinks and to be alerted to move the body from one place to another. In the same case reading books are a chockfull of treasures among them that makes one's mindset perform well. The food we eat gives us the energy to work the body as well as reading books nourishes our minds play the best role. Honestly speaking, a person without reading books is considered a human lack of good behavior and attitude. These give us mental relaxation to cogitate positively. People usually study to broaden themselves with knowledge and exactly books are known to be knowledge providers. We read various books to enhance our learned information for more clarification since the information can listen everywhere without any facts and figure but books can make that information more clearly in detail. Books vice-versa analyze the information that you listen to and give more knowledge on the said theme. Getting an education is what takes you from darkness into the lightening your future, it doesn’t only tell you to have only knowledge in mind rather compels you to be good at heart to anyone surrounding you. It brings a man to be generous with all humans. We as a human must be studious to use our mindset by thinking drastically. As it is believed that good thinking comes from mind and brain and they are widely sharpened from reading books. So, all are supposed to read books to know the world, think positively, and to have good behaviors in life.

SEE NOMINATION →