تُم بِن کیسے جیئیں گے؟ پولی تھین بیگز پر صرف پابندی لگانا کافی نہیں،بلکہ لوگوں کو اس کے بغیر زندگی گزارنے اور اس کا متبادل اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی بھی ضرورت ہے

پلاسٹک کی ایجاد کے بعد سے دنیا بھر میں اس کا استعمال بہت تیزی سے بڑھااور اس سے تیار شدہ ہر قسم کی اشیا دنیا بھر میں بہت تیزی سے استعمال ہونا شروع ہوئیں اور پھر وہ کچرے میں بھی شامل ہونے لگیں۔اس مادے کی سب سے تباہ کن خصوصیت یہ ہے کہ یہ دہائیوںبعد بھی پوری طرح تحلیل نہیں ہوتا، یعنی یہ بایو ڈی گریڈ ایبل نہیں ہے اور فطری طریقے سے ماحول کا حصہ نہیں بن پاتا۔اور یوں ماحول کے لیے نقصان کا سبب بنتا ہے۔یہ ماحول کو جس تیزی سے نقصان پہنچارہا ہے وہ بہت تشویش ناک بات ہے۔ اس وجہ سے دنیا بھر میں اس کے محفوظ انداز میں استعمال پر آج کل بہت توجہ دی جارہی ہے اور اس کے کم سے کم اور محفوظ استعمال کے لیے لوگوں کو مختلف انداز سے راغب کیا جارہا ہے۔پاکستان میں بھی اب ایسی ہی کوشش کی جارہی ہے۔لیکن کیا یہ کام یاب ہو گی؟ اور دنیا بھر میں اس ضمن میں کیا ہورہا ہے۔اس فیچر میں ان ہی نکات پر بات کی گئی ہے۔

SEE NOMINATION →
کورونا کے ماحول پر مثبت اثرات، ماحول کو لاحق مسائل اور ممکنہ دیرپا حل

ہم ’لاک ڈائون‘ کے اس دورانیے میں اپنے باغیچوں میں درخت لگا کر ہی آغاز کرسکتے ہیں۔ہمیں زرعی رجحان کو فروغ دینا چاہئے تا کہ سرسبز دنیا فضا میں موجود زہریلی گیسوں کو علیحدہ کر سکے۔ہمیں توانائی کے حصول کے لئے حیاتیاتی ایندھن(Fossil Fuels) کے استعمال کی بجائے قابل تجدید توانائی(Renewable Energy) کے وسائل کو استعمال میں لانا چاہئے، جو ماحول دوست ہونے کے ساتھ بہت کارآمد بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ہمیں فیکٹریوں، کارخانوں سمیت گاڑیوں اور دیگر مشینوں میں توانائی کے موئثر آلات کو استعمال کرنا چاہئے۔ہمیں بڑی سطح پر بجلی گھروں، گاڑیوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں، گیسوں ،کیمیائی مادوں سمیت دیگر مہلک اور ماحول دشمن اخراج کو روکنے کے لئے آلات نصب کرنا چاہئیں، جیسے چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں میںزہریلی گیسوں کو نکالنے کے لئے( Catalytic Converter)استعمال ہوتے ہیں۔

SEE NOMINATION →