ہلاکت خیز وائرس اور ہمارے منفی رویے

بچّوں سے لے کر بزرگوں تک ہماری قوم کے ہر فرد میں بے پروائی، غیر ذمّے داری کُوٹ کُوٹ کر بھری ہے۔حکومت کہے سمندر پر نہیں جانا خطرہ ہے، تو لازماً جاتے ہیں، وَن وِیلنگ میں ہاتھ پَیر گنوانا منظور ہے، پر باز آنا نہیں۔ پان، گٹکا، چھالیا، تمباکو نوشی نہیں چھوڑیں گے، چاہے دنیا ہی کیوں نہ چھوڑنی پڑے۔26 فروری 2020ء کو پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا، مگراس ضمن میںحکومت او رعوام دونوں قطعاً غیر سنجیدہ نظر آئے۔ اصولی طور پر تویہ ہونا چاہیے تھا کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فی الفور انتہائی سخت اقدامات کیے جاتے، بارڈرز سیل کرکے سخت لاک ڈاؤن کردیا جاتااور وائرس کے پھیلاؤ کے ابتدائی مرحلے ہی میں کنٹرول کر لیا جاتا، مگر ہمارے یہاں تو ایک عالم گیر وبا پر بھی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ شروع ہو گئی۔ وفاق اور صوبے روزِ اوّل سے کسی ایک فیصلے پر متفق نظر آئے اور نہ ہی کوئی مؤثر ،مربوط پالیسی ہی سامنے آسکی۔

SEE NOMINATION →
چائنہ کے شہر ووہان سے پھیلتا ہوا، کرونا وائرس!

درحقیقت کرونا وائرس ایک قسم کے وباؤں کا گروپ ہے، جو دودھ دینے والے جانوروں اور پرندوں میں بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ابتدائی طور پریہ وائرس 1960میں دریافت ہوا۔اس کا جینومک سائز قریب 26سے32کلو بیسس ہے،جو ایک آر این اے وائرس کے لئے سب سے بڑا ہے۔یہ گائے اور خنزیر میں ڈائیریا اور مرغیوں میں سانس کی بیماری کا سبب بنتا ہے۔اس وباء کی سات کے قریب اقسام جانداروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ جو انسانوں میں سانس کے وبائی مرض کا سبب بنتا ہے۔اس مرض کے لئے کوئی بھی منظور شدہ دوا یا ویکسین موجود نہیں ہے۔اس وباء کا نام کرونا اس کی مائیکروسکوپی شکل کو دیکھ کر رکھا گیا۔جو شاہی تاج سے مماثلت رکھتی ہے اور لاطینی زبان میں تاج کو’ کرونا‘ کہتے ہیں۔ انسانوں میں منتقل ہونے والے کرونا وائرس کی سات اقسام : کرونا وائرس’229E،0C43،NL63اورHUK1‘مستقل طور پر انسانی آبادی میں گردش کرتے ہیں۔ پوری دنیا میں موجود بچوں اور بڑوں میں سانس کے وبائی مرض کا سبب بنتے ہیں۔ یہ قسم2003میں37ممالک تک پھیلی۔’سارس کرونا‘ نامی اس وباء نے 8000لوگوں کو متاثر کیا،جبکہ 775لوگ جان کی بازی ہا رگئے۔ ستمبر 2012میں مشرق وسطی میں ’مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم‘ سے سینکڑوں لوگ متاثر ہوئے۔ دسمبر 2019میں’ نووال کرونا وائرس‘ کا پتا چائنہ کے شہر ووہان میں بے جا نمونیا کے پھیلنے سے لگا۔ جس کا نام ’ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن ‘نے ’ہیومن کرونا وائرس نووال 2019 ‘رکھا۔

SEE NOMINATION →
’کووِڈ 19‘ ایک معمولی وائرس کے سامنے پوری دنیا بے بس

انسانوں میں منتقل ہونے والے اس وائرس کے خاتمے کے لیے تاحال کوئی ویکسین تیار نہیں کی جا سکی ہے۔ کووِڈ 19کیا ہے، کیوں، کس طرح پھیلا ،وغیرہ وغیرہ پر تو بہت کچھ لکھا جا چُکاہے اور انٹرنیٹ پر مسلسل اَپ ڈیٹس بھی آ رہی ہیں۔ سو، ہم اس حوالے سے بات نہیں کریںگےکہ ہمارے ذہن میں تو کئی دوسری باتیں گردش کر رہی ہیں۔ جیسے جب وائرس پھیلاتو ’’انٹرنیٹ مفتیان‘‘، اسلام کے نام نہاد ’’عَلم برداروں‘‘ نے ’’گیان‘‘ بانٹنا شروع کردیا، ’’ حرام گوشت کھانے والوں پر اللہ کا عذاب ہے، چینی باشندوں کے ساتھ ٹھیک ہو رہا ہے، شُکر ہے ہم ایسا کچھ نہیں کھاتے ۔‘‘ وغیرہ وغیرہ جیسے لاتعداد جملے سُننے اور پڑھنے کو ملے۔ لیکن کیا ہمارے ذہنوں میںایک بار بھی یہ خیال آیاکہ جب حرام گوشت کھانے والوں کا اتنا بُرا حال ہو سکتا ہے، تو حرام مال کھانے والوں پر اس عذاب کی نوعیت کیا ہوگی؟؟ کئی لوگ تو وائرس کو ’’یہودی سازش‘‘ بھی کہتے نظر آئے اوراب دنیا بھر کی تمام تر نظریں انہی یہودیوں پرگڑی ہیں کہ وہ کب ویکسین تیار کرکے ہمیں اس مصیبت سے باہر نکالیں۔ ہم دوسروں پر الزام ، کفر کے فتوے لگانے میں توکسی سے پیچھے نہیں ، لیکن کبھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی توفیق نہیں کرتے۔کورونا کے حوالے سے عوام کے ذہنوں میں کئی سوالات،کئی باتیں گردش کر رہی ہیں۔درج نکات کے ذریعےدنیا بھر کے طبّی ماہرین کی آراء، ہدایات، احتیاطی تدابیر وغیرہ سے آگاہی کی کوشش کرتے ہیں۔

SEE NOMINATION →