کراچی کس طرح وبا سے نمٹ رہا ہے؟

صوبہ سندھ کے دارالحکومت اور روشنیوں کے شہر کراچی کونہ جانے کس کی نظرلگ گئی کے پورے شہرمیں سناٹے کاراج ہے، اس بار اس شہر کو کسی دہشتگردی نہیں بلکہ وبا نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے مگر اس کے باوجود چندلوگ اس وبا کوشکست دینے میں کامیاب ہوگئے جن میں سے کراچی کے علاقے ناظم آباد کی ایک نوجوان لڑکی (سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے ان کا نام ظاہر نہیں کیا جا سکتا) بھی ہیں۔ کورونا کا بہادری سے مقابلہ کرکے صحت مند ہونے والی لڑکی گزشتہ ماہ 9 مارچ کو وبا کا شکار ہوئی ٹھیں اور کئی دن زیر علاج رہنے کے بعد وہ اس وبا کو شکست دینے میں کامیاب ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر انہیں صرف خشک کھانسی، بخار اورالٹیاں آئیں اور ساتھ ہی انہیں پیٹ میں درد بھی ہوا، جس وجہ سے ان کے اہل خانہ انہیں علاقے کے قریبی ہسپتال لے گئے اور ہسپتال والوں نے ابتدائی طور پر انہیں بخار و کھانسی کی ہی دوا دی مگر جب انہیں ایک ہفتہ کے بعد بھی آرام نہ ملا توان کے گھروالوں نے انہیں نجی اسپتال کی ایمرجنسی میں دکھایا، جہاں پر ان کا کورونا کا ٹیسٹ کیا گیا جو بد قسمتی سے مثبت آیا۔

SEE NOMINATION →
سگ گزیدگی کو ہلکا نہ لیں جانور باولا ہو یا نہیں،اس کا لگایا ہوا زخم جان بھی لے سکتا ہے،علاج بہت آسان اور غفلت بہت خطرناک ہے

اکیسویں صدی میں اورشہری علاقوں میں اگر کوئی فرد سگ گزیدگی کے سبب انتقال کرجائے تو ترقی کی بات کرنا کس طرح درست قرار دیا جاسکتا ہے؟کیا اس کے بعد بھی کچھ بچتا ہے؟ کوئی تو بتلائے،کوئی تو سمجھائے۔ شکار پور ،سندھ میں سگ گزیدگی کی ویکسین نہ ملنے پرگزشتہ دنوں ایک اور بچے نے تڑپ تڑپ کر ماں کی آغوش میں دم توڑ ا تو یوں محسوس ہوا کہ دل میں اُمّید نے دم توڑدیا۔ یہ درد ناک واقعہ محکمہ صحت کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس ضمن میں اے آر وی سینٹرکے انچارج ڈاکٹرکا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ شکار پور، جیکب آباد سمیت پورے ڈویژن میں ویکسین کی کمی ہے۔ اس فیچر میں سندھ میںسگ گزیدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات،متعلقہ حکام اور حکومت کے رویے،سگ گزیدگی سے پیدا ہونے والی پے چیدگیوں اور بچاو کی تدابیر کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

SEE NOMINATION →