پاک افغان تعلقات اور کائنات کی زندگی کو خطرات

یہ کہانی چار سالہ افغان لڑ کی کائنات کی کہانی ہے جس پراسرار بیماری نے بدخل کردیا تھی۔ دودفعہ پاکستان میں اُن کو علاج کے عرض سے لایا گیا لیکن اُن کی صحت میں بہتری کے بجائے مزید بگڑ گئی اور اُن کے والدین نے بے ہوشی کے حالت میں افغانستا ن سے طور خم کے سرحدی گزرگاہ پر پاکستان لانے کی کوشش کیا لیکن اُن کے پاس پاسپورٹ اور ویزہ نہ ہونے کی وجہ سے سرحدی حکام نے واپس کردیا۔ سرحد پر تین دن گزرنے کے بعد مجبورا اُن کو دوسرے ایک خاتون جن وہ نہیں جانتے تھے حوالے کرکے ضلع خیبر کے تحصیل جمرود میں اپنے رشتہ داروں تک پہنچانے کا کہا اور بھی بتایاکہ ان کے علاج کرویا جائے اور آگر ٹھیک ہو جاتا ہے تو واپس افغانستان بھیج دیاجائے اورآگر فوت جاتی ہے وہاں پر اُن کو دفن کیاجائے ۔ کائنات نے بے ہوشی کے حالت میں سرحد پار کرکے اپنے رشتہ داروں کے گھر تو پہنچ لیکن غربت کے وجہ رشتہ داروں کے لئے بھی علاج ممکن نہیں تھا۔ چھ دن اس حالت میں گزریں تو وہاں کے ایک سماجی کارکن اسلام بادشاہ کو پتہ چلا تواُنہوں نے صوبے کے سب سے مہنگے نجی ہستپال رحمان میڈیکل ہسپتال لایاباوجود اس کے اُن کے ساتھ صرف چھ ہزار روپے جیب میں تھے۔ خبر سماجی رابطے پر آنے کے بعد علاقے پارلیمانی ممبران، پاکستان میں افغان سفیر اور دوسرے سرکاری حکام نے نہ صرف مالی تعاون کیا بلکہ کائنات کے دادی اور چھوٹے بھائی کو انسانی جزبے کے تحت طورخم پر بغیر آنے کے اجازت دیاگیا۔ کائنات کے زندگی تو بچ نہ سکی البتہ دونوں ممالک درمیان انسانی ہمدردی کے عنصر زندہ ہونے اثربہت واضح نظر آئے۔ یہی صورتحال دونوں ممالک درمیان کشیدہ تعلقات کے کے بناء سامنے آتے ہیں۔

SEE NOMINATION →
کردار کشی اور رازداری کے حقوق

کردار کشی بنیادی طور پر کسی کے کردار پر انگلی اٹھانے کو کہتے ہیں۔اس سے مراد کسی شخص،ادارے،یا گروہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لئے اس کے بارے جھوٹی افواہیں پھیلانا،الزامات عائد کرنا اور معلومات میں ہیرا پھیری کرنا وغیرہ ہے۔

زمانہ قدیم میں لوگ ذاتی رنجش یاحسد کی بنا پر کسی کی کردار کشی کیا کرتے تھے۔ جو محض ایک محلے میں مقیم چند شخصیات تک محدود ہوتی تھی۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ کردار کشی کا دائرہ کار وسیع ہوتا چلا گیا۔لوگ زبانی کہانیاں گھڑنے لگے،تقاریر کے زریعے محفلوں اور پنڈالوں میں کردار کشی کا سلسلہ کا ر بڑھنے لگا۔نفرت کے بیوپاری اس کی آگ کو سلگانے لگے۔ سلسلہ کار مزید بڑھا تو بات اشتہاروں اور خاکوں تک جا پہنچی۔دور حاضر میں ان سب طریقوں کے ساتھ ساتھ ترمیم شدہ تصاویر اور ویڈیوز نے بھی لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں۔موجودہ دور میں سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے نامور شخصیات کی کردار کشی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔سوشل میڈیا اس کا محور ہے۔گزشتہ روز ایک مشہورگلوکار کی اہلیہ بارے بھی جعلی ویڈیو گردش کرتی رہی۔

SEE NOMINATION →
قبائلی علاقوں میں موجود بارودی سرنگیں کتنی خطرناک ہیں؟

یہ تحقیقاتی کہانی قبائلی اضلاع میں کام کرنے والے کوئلہ، سنگ مرمر، کرومائٹ اور دیگر معدنیات کے نکلنے میں ایک سے زیادہ کان کن برسرار روزگار ہیں تاہم ملک کے دیگر حصوں میں موجود لیبر قوانین کے عدم موجودگی کے وجہ سے اور غیر قانونی کان کنی کے وجہ سے مواتر حادثات رونما ہوتے ہیں اور حال ہی میں ضلع مہمند میں اور بونیر میں سنگ مرمر کے پہاڑ گرنے کے وجہ سے لگ بھگ چالیس مزدور ہلاک ہوئے۔ قبائلی اضلاع میں کام کرنے والے کان کنوں کے تحفظ کے کوئی ضمانت موجود نہیں اور پیسوں کے لالچ میں ان سے غیر قانونی کام کیں جاتے ہیں۔ متاثر فرد کے مرنے یا معذور ہونے کے بعد اُن کے خاندان کے مالی کفالت کا کوئی بندوبست یا نظام نہیں ہوتا۔ بعض اوقات خادثے کے شکار افراد کے لوگوں کے علاج معالجہ اُ ن کے خاندان ہی کراتے ہیں۔ اس حصے میں کان کے مالک، ٹھکیدار اور حکومت کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا ۔ حادثے میں مرنے یا زخمی ہونے والے افراد کے کوئی حاص مدد نہیں کیا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں ملک کے دیگر علاقوں کی طرح لیبر قوانین بھی لاگو نہیں۔ تاہم فروری 2018میں قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد آئین پاکستان کے توسیع سمیت دیگر قوانین اور اداروں کے رسائی کے اُمید تھی لیکن دوسال گزرجانے کے بعد بھی اس حصے میں کوئی حوصلہ آفزا اقدمات نظر نہیں آتے۔ اس کہانی میں مزدورں، ٹھیکداروں، کا ن ملکان، محکمہ معدنیات اور کان کنوں کے تنظیموں کے سربران سے اس حوالے معلومات حاصل کیں گئے ہیں۔

SEE NOMINATION →