’میرے ابو‘ انہوں نے میرے ’’پر‘‘ نہیں کاٹے، اونچا اور اونچا اُڑنے کا موقع دیا

کہتےہیں،’’ بیٹیاں ماں کی سَکھی سہیلی، ہم جولی، پر چھائیں ہوتی ہیں‘‘، لیکن مَیں اپنے ابّو کی بیٹی ہوں۔میری زندگی دوسروںسے کچھ مختلف اس لیے بھی ہے کہ مَیں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں۔ مَیں نے اکثر لوگوں کو بیٹوں پر مان کرتے دیکھا ہے، لیکن اپنے ابّو کوکبھی بیٹا نہ ہونے پر کوئی افسوس یا شکوہ کرتے نہیں دیکھا۔ بولنا امّی نے سکھایا، مگر مَیں نےلہجہ ابّو کا پایا، سارا دن امّی کے ساتھ رہتی تھی، لیکن پہلا قدم ابّو کے سامنے اُٹھایا، سوتی امّی سے لپٹ کر تھی، لیکن کہانیاں ابّو سُناتے، پڑھاتی امّی تھیں، لیکن ’’دادا، دادی، نانا، نانی ‘‘ لکھ کے ابّو کو دِکھایا، میری زندگی کی پہلی ڈرائنگ’’ گلاب کا پھول‘‘ تھی اور وہ بھی ابّو ہی سے بنانا سیکھا۔میرے ابّونے میرے پَر نہیں کاٹے، مجھے کُھلے آسمان میں اُڑنےدیا، میرے حوصلوں کو اُڑان بخشی۔ ہاتھ پکڑ کر چلنا نہیں سکھایا، ہاتھ چھوڑ کر خود قدم اُٹھانے کا حوصلہ دیا، فرسودہ روایات کی زنجیروں میں پیر نہیں جکڑے، اعتما د کے سائے میں پھلنے پُھولنے کا موقع دیا۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے یا ملازمت کرنےکی اجازت دیتے ہوئے یہ نہیں کہا کہ ’’میری عزّت کا پاس رکھنا‘‘، بلکہ ہمیشہ ’’گھبرانا نہیں، ڈرنا نہیں، مَیں تمہارے پیچھے کھڑاہوں ‘‘جیسے الفاظ سے ہمّت بندھائی۔کبھی مجھ پر اپنی خواہشات، آرزوؤں کا بوجھ نہیں ڈالا، مَیں نے زندگی میں جو چاہا،وہ کیا، جو آرزو کی ، پوری ہوئی۔

SEE NOMINATION →