تھانوں کے رنگ ڈھنگ کب بدلیں گے؟

ابھی ساہیوال کے سانحے کے زخم مندمل نہیں ہوئے تھے کہ صلاح الدین کی پولیس کی حراست میں موت اور اسے بہت بھونڈے انداز میں چھپانے کی کوشش کا افسوس ناک واقعہ سامنے آگیا۔اس کے بعد پنجاب پولیس کے بعض اہل کاروں کی جانب سےبنائے گئے پرائیویٹ ٹارچر سیل کی وڈیو سامنے آگئی اور اس ٹارچر سیل میں بدترین تشددکا نشانہ بننے والے ایک شخص کی موت کی خبر نےشہ سرخیاں بنائیں۔ گزشتہ دنوں سب سے زیادہ افسوس ناک واقعات صوبہ پنجاب کے علاقے چونیاں میں پیش آئے جہاں کئی بچوں کو کئی ماہ قبل اغوا کرلیا گیا تھا اورگزشتہ دوتین ہفتوں میں ان کی لاشیں اور باقیات ملیں ۔ان واقعات کے ضمن میں پولیس کی جو مجرمانہ غفلتیں اور نا اہلیاں سامنے آئی ہیں انہوں نے پھر پولیس کے محکمے میں ٹھوس اور موثر اصلاحات کی ضرورت اجاگر کردی ہیں۔پاکستان میں ہر تھوڑے عرصے بعد اسی طرح کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ یا سانحہ پیش آجاتا ہے کہ اس کی وجہ سے ملک میں قانون ،پولیس اور انصاف کی فراہمی کے نظام کے بارے میں بحث چھڑ جاتی ہے۔اگر چہ ایسا دہائیوں سے ہوتا چلا آرہا ہے، لیکن اس کا حاصل کچھ نہیں ہوتا۔

SEE NOMINATION →