بلوچستان کی خواتین کے نفسیاتی مسائل

بلوچستان کی خواتین کے نفسیاتی مسائل

Media Category: Blog
By: Saadeqa Khan

15 ویں صدی کی ہانی بی بی سے آج کے ڈیجیٹل دور کی بلوچ عورت تک سب کی داستان کم و بیش ایک جیسی ہے۔ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں تعلیم کے فقدان کے باعث آج بھی خواتین مویشیوں کی طرح زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔ ایسے حالات میں نفسیاتی مسائل کا شکار ہونا ایک لازمی امر ہے۔ مگر ستم یہ ہے کہ زیادہ تر خواتین یہ ادراک ہی نہیں رکھتیں کہ جس ذہنی دباؤ کا نفسیاتی مسئلے کا وہ شکار ہیں وہ ایک قابل علاج مرض ہے ۔ یہاں زیادہ تر خواتین کی شادی 13 سے 17 سال کی عمر میں کردی جاتی ہے اور 25 سال کی عمر تک وہ کئی بچوں کی مائیں بن چکی ہوتی ہیں ۔ شوہر اور سسراال کے نا مناسب رویئے، ظلم و ستم کے علاوہ حمل کے دوران پوسٹ مارٹم ڈپریشن اور زچگی کے وقت نا کافی علاج کی سہولیات کے باعث بلوچستان کی خواتین میں نفسیاتی عوارض کی شرح بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ڈی ڈبلیو کی نمائندہ نے کوئٹہ اور گرد و نواح کے علاقوں میں خواتین سے ان کے نفسیاتی مسائل کے بارے میں معلومات لیں اور ساتھ ہی بلوچستان میں ذہنی عوارض کا شعور اجاگر کرنے کے لئے کوشاں اسلام آباد کی کلینیکل سائیکاٹرسٹ ذوفشاں قریشی سے بھی خصوصی بات چیت کی۔

Nominated Work

بلوچستان کی خواتین کے نفسیاتی مسائل

Click Here To View The Nominated Work