تُم بِن کیسے جیئیں گے؟ پولی تھین بیگز پر صرف پابندی لگانا کافی نہیں،بلکہ لوگوں کو اس کے بغیر زندگی گزارنے اور اس کا متبادل اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی بھی ضرورت ہے

تُم بِن کیسے جیئیں گے؟ پولی تھین بیگز پر صرف پابندی لگانا کافی نہیں،بلکہ لوگوں کو اس کے بغیر زندگی گزارنے اور اس کا متبادل اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی بھی ضرورت ہے

Media Category: Print
Media Organization: Daily Jang, Karachi
By: Rizwan Ahmed

پلاسٹک کی ایجاد کے بعد سے دنیا بھر میں اس کا استعمال بہت تیزی سے بڑھااور اس سے تیار شدہ ہر قسم کی اشیا دنیا بھر میں بہت تیزی سے استعمال ہونا شروع ہوئیں اور پھر وہ کچرے میں بھی شامل ہونے لگیں۔اس مادے کی سب سے تباہ کن خصوصیت یہ ہے کہ یہ دہائیوںبعد بھی پوری طرح تحلیل نہیں ہوتا، یعنی یہ بایو ڈی گریڈ ایبل نہیں ہے اور فطری طریقے سے ماحول کا حصہ نہیں بن پاتا۔اور یوں ماحول کے لیے نقصان کا سبب بنتا ہے۔یہ ماحول کو جس تیزی سے نقصان پہنچارہا ہے وہ بہت تشویش ناک بات ہے۔ اس وجہ سے دنیا بھر میں اس کے محفوظ انداز میں استعمال پر آج کل بہت توجہ دی جارہی ہے اور اس کے کم سے کم اور محفوظ استعمال کے لیے لوگوں کو مختلف انداز سے راغب کیا جارہا ہے۔پاکستان میں بھی اب ایسی ہی کوشش کی جارہی ہے۔لیکن کیا یہ کام یاب ہو گی؟ اور دنیا بھر میں اس ضمن میں کیا ہورہا ہے۔اس فیچر میں ان ہی نکات پر بات کی گئی ہے۔

Nominated Work

تُم بِن کیسے جیئیں گے؟ پولی تھین بیگز پر صرف پابندی لگانا کافی نہیں،بلکہ لوگوں کو اس کے بغیر زندگی گزارنے اور اس کا متبادل اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی بھی ضرورت ہے

Click Here To View The Nominated Work
Click Here To View The Nominated Work