قبائلی علاقوں میں موجود بارودی سرنگیں کتنی خطرناک ہیں؟

قبائلی علاقوں میں موجود بارودی سرنگیں کتنی خطرناک ہیں؟

Media Category: Print
Media Organization: Peshawar Today
By: Islam Gul Afridi

یہ تحقیقاتی کہانی قبائلی اضلاع میں کام کرنے والے کوئلہ، سنگ مرمر، کرومائٹ اور دیگر معدنیات کے نکلنے میں ایک سے زیادہ کان کن برسرار روزگار ہیں تاہم ملک کے دیگر حصوں میں موجود لیبر قوانین کے عدم موجودگی کے وجہ سے اور غیر قانونی کان کنی کے وجہ سے مواتر حادثات رونما ہوتے ہیں اور حال ہی میں ضلع مہمند میں اور بونیر میں سنگ مرمر کے پہاڑ گرنے کے وجہ سے لگ بھگ چالیس مزدور ہلاک ہوئے۔ قبائلی اضلاع میں کام کرنے والے کان کنوں کے تحفظ کے کوئی ضمانت موجود نہیں اور پیسوں کے لالچ میں ان سے غیر قانونی کام کیں جاتے ہیں۔ متاثر فرد کے مرنے یا معذور ہونے کے بعد اُن کے خاندان کے مالی کفالت کا کوئی بندوبست یا نظام نہیں ہوتا۔ بعض اوقات خادثے کے شکار افراد کے لوگوں کے علاج معالجہ اُ ن کے خاندان ہی کراتے ہیں۔ اس حصے میں کان کے مالک، ٹھکیدار اور حکومت کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتا ۔ حادثے میں مرنے یا زخمی ہونے والے افراد کے کوئی حاص مدد نہیں کیا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں ملک کے دیگر علاقوں کی طرح لیبر قوانین بھی لاگو نہیں۔ تاہم فروری 2018میں قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد آئین پاکستان کے توسیع سمیت دیگر قوانین اور اداروں کے رسائی کے اُمید تھی لیکن دوسال گزرجانے کے بعد بھی اس حصے میں کوئی حوصلہ آفزا اقدمات نظر نہیں آتے۔ اس کہانی میں مزدورں، ٹھیکداروں، کا ن ملکان، محکمہ معدنیات اور کان کنوں کے تنظیموں کے سربران سے اس حوالے معلومات حاصل کیں گئے ہیں۔

Nominated Work

قبائلی اضلاع:کان کنوں سے پیسوں کی عوض غیر قانونی مشقت

Click Here To View The Nominated Work
Click Here To View The Nominated Work