چائنہ کے شہر ووہان سے پھیلتا ہوا، کرونا وائرس!

چائنہ کے شہر ووہان سے پھیلتا ہوا، کرونا وائرس!

Media Category: Print
Media Organization: NawaiWaqt
By: zulqarnainhundal

درحقیقت کرونا وائرس ایک قسم کے وباؤں کا گروپ ہے، جو دودھ دینے والے جانوروں اور پرندوں میں بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ابتدائی طور پریہ وائرس 1960میں دریافت ہوا۔اس کا جینومک سائز قریب 26سے32کلو بیسس ہے،جو ایک آر این اے وائرس کے لئے سب سے بڑا ہے۔یہ گائے اور خنزیر میں ڈائیریا اور مرغیوں میں سانس کی بیماری کا سبب بنتا ہے۔اس وباء کی سات کے قریب اقسام جانداروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
جو انسانوں میں سانس کے وبائی مرض کا سبب بنتا ہے۔اس مرض کے لئے کوئی بھی منظور شدہ دوا یا ویکسین موجود نہیں ہے۔اس وباء کا نام کرونا اس کی مائیکروسکوپی شکل کو دیکھ کر رکھا گیا۔جو شاہی تاج سے مماثلت رکھتی ہے اور لاطینی زبان میں تاج کو’ کرونا‘ کہتے ہیں۔
انسانوں میں منتقل ہونے والے کرونا وائرس کی سات اقسام :
کرونا وائرس’229E،0C43،NL63اورHUK1‘مستقل طور پر انسانی آبادی میں گردش کرتے ہیں۔
پوری دنیا میں موجود بچوں اور بڑوں میں سانس کے وبائی مرض کا سبب بنتے ہیں۔
یہ قسم2003میں37ممالک تک پھیلی۔’سارس کرونا‘ نامی اس وباء نے 8000لوگوں کو متاثر کیا،جبکہ 775لوگ جان کی بازی ہا رگئے۔
ستمبر 2012میں مشرق وسطی میں ’مڈل ایسٹ ریسپائریٹری سینڈروم‘ سے سینکڑوں لوگ متاثر ہوئے۔
دسمبر 2019میں’ نووال کرونا وائرس‘ کا پتا چائنہ کے شہر ووہان میں بے جا نمونیا کے پھیلنے سے لگا۔
جس کا نام ’ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن ‘نے ’ہیومن کرونا وائرس نووال 2019 ‘رکھا۔

Nominated Work

روئے زمین پر انسانوں سے دیگر جانداروں کا رشتہ بھی اتنا ہی پرانا ہے، جتنا خود انسان کا زمین سے ہے۔انسان جانوروں ،پرندوں اور دیگر جانداروں کو اپنے مقاصد، خاص کر خوراک کے لئے استعمال کرتا آیا ہے۔ وبائیں بھی نسل در نسل جانداروں سے انسانوں تک منتقل ہوتی گئیں۔زمانہ قدیم میں ان وباؤں کی تشخیص خاصہ مشکل ،شاید ناممکن کام تھا۔تاہم دیگر ماحولیاتی بیماریاں خاصی کم ہوں گی۔


Click Here To View The Nominated Work