چندریان ٹو اور پاکستان

چندریان ٹو اور پاکستان

Media Category: Print
Media Organization: NawaiWaqt
By: zulqarnainhundal

بھارت نے ’چندریان‘ نامی منصوبہ کے تحت اکتوبر 2008 میں اپنا پہلا سیارا چاند پر بھیجا۔یہ سیارا چاند پر لینڈ تو نہ کر سکا۔البتہ چاند کے مدار میں چاند سے 200کلومیٹر اونچائی پردس ماہ تک گردش کرتا رہا۔جس نے چاند پر معدنیات کا جائزہ لیا۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے بعد میں ان معلومات سے چاند کے قطب جنوب پر موجود گڑھوں پرپانی کوبرف کی شکل میں دریافت کیا۔جس سے انسان کے چاند پر قدموں کے امکانات ظاہر ہونے لگے۔ ان معلومات کو بنیاد بنا کر مزید تحقیقات جاری ہیں۔

اسی ضمن میں بھارت نے’چندریان ٹو‘ کے نام سے چاند کے قطب جنوب پر اترنے کا منصوبہ بنایا۔’انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن‘نے اسے ترتیب دیا۔جس پر 140ملین ڈالر کا خرچ ہوا۔جو ’سری ہاری کوٹا اسپیس سینٹر‘ سے22جولائی2019کو چاند پر جانے کے لئے’جیو سنکرونس سیٹلائیٹ لانچ وہیکل مارک3‘کے ذریعے لانچ کیا گیا۔چندریان ٹو ایک ’لونار آربیٹر‘،’لینڈر‘ اور’روور‘ پر مشتمل تھا۔ان تمام مشینوں کو بھارت میں ہی تیار کیا گیا۔اس سیارہ کا اہم سائنسی مشن نقشہ تیار کرنا اور چاند پر پانی تلاش کرنا تھا۔’لینڈر‘ اور’روور‘ نے چاند پر اتر کر وہاں موجود کیمیاء کا جائزہ لینا تھا۔’آربیٹر‘ اور’لینڈر‘نے زمین پر معلومات بھیجنا تھیں۔اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا، تو چاند کے قطب جنوب پراترنے کی پہلی مثال ہوتا۔

Nominated Work

بے جا تنقید تو ہر جگہ ہوتی ہے۔پہلے یہ تنقید گلی، محلوں اور دکانوں میں ہوا کرتی تھی۔دنیا میں سوشل میڈیا کا استعمال بڑھتے ہی، یہ تنقید تیزی سے پھیلنا بھی شروع ہوگئی۔ایسی ہی تنقید پاکستان کے زیر سمندر گیس اور معدنیات کے ذخائر کی دریافت میں ناکامی کے باعث بھی سامنے آئی۔کیکڑا ون کے مقام پر5560 میٹر زیر سمندر کھدائی پر چودہ ارب روپے خرچ ہوئے۔ مخالفین نے حکومت کو اس ناکامی پر خوب آڑے ہاتھوں لیا۔اسی طرح چندریان ٹو کی ناکامی پر انڈین حکومت کو بھی مخالفین کی تنقید کا سامنا ہے۔دنیا میں تحقیقات پر بڑی رقم خرچ ہوتی ہے۔ضروری نہیں کہ پہلی ہی کوشش میں کامیابی ملے۔بہت سے سائنسدانوں نے ناکامیوں سے سیکھا۔تھامس ایڈیسن نے ہزار کے قریب کوششوں کے بعد بلب ایجاد کیا۔تحقیق نہ ہو تو دریافت و تخلیق کیسے ہو۔تحقیقات جدت کو رائج کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ،تحقیقات پر خرچ کرنے والے آج دنیا میں سرفہرست ہیں۔


Click Here To View The Nominated Work