زیتون کا انقلاب آنے والا ہے؟

پاکستان میںموجودہ حکومت سمیت مختلف حکومتوں کے ادوار میںزیتون کی کاشت کے بڑے بڑے منصوبے شروع کیے گئے۔آج ان منصوبوں کو شروع ہوئےبرسوں بیت چکے ہیں۔ لیکن اس کے ملک اور متعلقہ صوبوں کی اقتصادی حالت ، متعلقہ کاشت کاروں کی زندگی ،متعلقہ علاقوں کی پس ماندگی دور ہونے اور ملک میں تیل کی درآمد کے بل پرکس قسم کے اثرات مرتب ہوئے ہیں ؟عام آدمی اور ٹیکس دینے والے ان افراد کو جن کے ٹیکس کی رقوم سے یہ منصوبے شروع کیے گئےتھے ،اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ہمارے ملک میں جنگلی زیتون کے لاکھوں درخت موجود ہیں جن پر کوئی پھل نہیں آتا یا محض بیج کی جسامت کا پھل آتا ہے۔ محقّقین کے مطابق ملک بھر میں صرف گیارہ ،بارہ سو ایکڑ رقبے پر پیداوار دینے والے درخت موجود ہیں۔ان کے مطابق بے کار پڑی کُل اراضی میں سے 0.67088 ملین ہیکٹرز رقبہ زیتون کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔ اگر ہم اس رقبے پر بہت سست روی سے بھی زیتون کے درخت لگانا شروع کریں تو ہمیں کم از کم مطلوبہ تعداد میں بھی پودے دست یاب نہیں ہوں گے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کام کے لیے ہمارے ہا نرسریز موجود نہیں ہیں۔اٹلی میں چوں کہ معیار کے مطابق نرسریز قایم ہیں لہذا وہ سالانہ زیتون کےلاکھوں پودے تیار کرتا ہے۔ترکی میں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔اگر ہمیں ملک میں زیتون کی کاشت کو فروغ دیناہے تو سب سےپہلے ملک میں معیاری نرسریزقایم کرناہوں گی، ٹشو کلچر ٹیکنالوجی بہ روئے کار لانا ہوگی اور جرم پلازم یونٹس کھولنا ہوں گے۔ یہ فیچردرج بالا اور دیگر متعلقہ اہم نکات کا احاطہ کرتا ہے۔

SEE NOMINATION →