افغانستان میں اصلاحات کے عالمی پروگرام مالی بدعنوانی کے شکار

و دہائی کی اس جنگ میں جہاں انفرا اسٹرکچر کی بحالی کے نام پر 134 ارب ڈالر کے منصوبوں کو کابل انتظامیہ کے ساتھ شروع کیے گئے تو دوسری جانب امریکا کو اپنے 2400 فوجیوں کی جانی نقصان کے علاوہ جنگ میں ایک کھرب ڈالر کے اخراجات بھی اٹھانا پڑے۔ عالمی اداروں کا ماننا ہے کہ افغانستان میں سرکاری سطح پر کرپشن سنگین مسئلہ ہے، کرپشن کو روکنے کے لئے جہاں کابل انتظامیہ مفاداتی ٹکراؤ کے سبب ناکام نظر آئی ہے تو دوسری جانب امریکا جدید ترین جنگی ساز و سامان سے لیس فوج کے تعاون کے باوجود شکست سے دوچار ہوا، کابل انتظامیہ میں شامل بیشتر اراکین اور مخالفین کی جانب سے بھی متعدد بار کرپشن، فراڈ و رقوم کے ناجائز استعمال کے حوالے سے نشان دہی کی گئی لیکن امریکا کو اربوں ڈالر کی کرپشن کو قابو پانے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ کئی عالمی اداروں نے مالی بدعنوانیوں پر سخت تنقید کی۔ عالمی خارجہ امور پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق کابل انتظامیہ، بین الافغان مذاکرات میں بار بار روٹے بھی اسی وجہ سے اٹکا رہی ہے تاکہ اس کی کرپشن جاری رہے اور مستقبل کی نئی ممکنہ حکومت کے احتساب سے بچا جاسکے۔

SEE NOMINATION →
پی کے 8303 طیارے کے متاثرین کو رقم کن شرائط پر دی جارہی ہے؟

پی کے 8303 طیارے کے حادثے کو ایک سال مکمل ہونے پر یہ رپورٹ بنائی گئی جس میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کے لاہور سے کراچی آنے والی اس پرواز کو جولینڈنگ سے قبل ایک آبادی پر گر کر تباہ ہوا اس میں سوار مسافروں کے اہل خانہ کو اب تک ہوائی حادثے کی رقم کیوں نہیں مل سکی؟ جس پر یہ معلوم ہوا کہ پی آئی اے ایک ریلیز ڈسچارج ایگریمنٹ متاثرہ خاندانوں سے سائن کروانا چاہتا ہے۔ یہ معاہدہ یہ کہتا ہے کہ مٹاچرہ خاندان ایک کروڑ روپے وصول کرے اور اس معاہدے پر دستخط کردے کہ مستقبل میں وہ کبھی بھی اس حادثے کی تحقیقات پر نہ تو فریق بنیں گے نہ ہی کسی بھی ا دارے کو اس کا قصوروار ٹھہرائیں۔ مرنے والے 97 مسافروں کے اب تک تیس خاندان اس معاہدے پر دستخط کر کے رقم لے چکے ہیں جب کہ باقی متاثرہ خاندان قانونی جنگ لڑ رہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ آر ڈی اے پر سائن نہ کرکے وہ مستقبل میں ہونے والے حادثوں کے ذمہ داران کو انجام تک پہنچا سکتے ہیں۔ یہ تفصیلی رپورٹ اس اہم مسئلے کی نشاندہی پر بنائی گئی ہے

SEE NOMINATION →
جہانگیر ترین، از سر نو تحقیقات کا امکان؟

حقیقات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جہانگیرترین ہم خیال گروپ میدان میں ہے، بظاہر تو ان کے موقف بڑے سادہ ہیں کہ ان کے خلاف مبینہ طور پر سازش ہے اور وزیراعظم کو غلط معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، انہوں نے وزیراعظم کی مقرر کردہ کمیٹی سے ملنے سے انکار کر دیا تھا تاہم عمران خان نے ترین گروپ سے وابستہ اراکین اسمبلی سے ملنے کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے ملاقات کی۔ یہاں تک معاملہ الجھا ہوا نہیں، لیکن سوال یہ اٹھا کہ کیا جہانگیر ترین کو اپنی ہی بنائی جانے والی حکومت کے سائے تلے قانون کی حکمرانی پر یقین نہیں؟ انہوں نے وفاق و پنجاب میں اپنی جماعت کی حکومت بنانے کے لئے دن رات ایک کر دیے تھے، اب ایسا کیا ہے کہ وہ قانون کا سامنا کرنے سے زیادہ قریبی دوست کی شخصیت کو مزید ”متنازع“ بنانے کی سعی کر رہے ہیں، وہ اس امر کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں کہ وزیراعظم پر اپنے ساتھیوں کو مبینہ طور پر این آر او دینے کے الزامات اپوزیشن لگاتی رہتی ہے۔ شوگر سیکنڈل کے نتیجے میں ایک کمیشن تحقیقات کے لئے مقرر ہوا، جس کی روشنی میں کارروائی ہوئی، جب کہ وہ عدالت سے قبل از گرفتاری ضمانت بھی حاصل کر چکے ہیں تو پھر اپنے رفقاء کے ہمراہ حکومت پر دباؤ کیوں ڈال رہے ہیں کہ ان کے خلاف ہونے والی کارروائی غیر جانبدارانہ نہیں۔ جہانگیر ترین کے خلاف جب حنیف عباسی کی جانب سے دائر درخواست پر سپریم کورٹ نے 405 دنوں میں 50 سماعتوں کے بعد 101 گھنٹے عدالتی کارروائی کر کے 250 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا تو ان پر لگائے گئے الزامات درست قرار پائے، الیکشن کمیشن نے عدالتی فیصلے کے نتیجے میں انہیں 154 لودھراں کی نشست سے ڈی سیٹ کر دیا تھا۔ تحریک انصاف کی سیاست میں بڑا خلاء پیدا ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ جہانگیر ترین کا آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نا اہل قرار پانے کے بعد سیاسی مستقبل ختم ہو گیا، لیکن جہانگیر ترین نے اپنی جماعت کے ساتھ وابستگی برقرار رکھی۔

SEE NOMINATION →
افغانستان میں اصلاحات کے عالمی پروگرام مالی بدعنوانی کے شکار

امریکا کو افغان جنگ میں 2002 سے اب تک 19 ارب ڈالر سے محروم ہونا پڑا ہے۔ خیال رہے کہ امریکا، اس جنگ میں ہونے والے اخراجات کی خود نگرانی بھی کرتا ہے، لیک اس کے باوجود مبینہ طور پر سیگار کی رپورٹ انکشاف کرتی ہے کہ 19 ارب ڈالر کی خطیر رقم فراڈ اور ناجائز استعمال پر خرچ کی گئی۔ امریکا نے افغانستان میں تعمیر نو کے مختلف پروگراموں کے لئے قریبا 134 ارب ڈالر کی منظوری دی تھی، لیکن ان منصوبوں کا جب جائزہ لیا گیا تو انکشاف ہوا کہ کل بجٹ کے قریبا 30 فیصد یعنی 63 بلین کے اخراجات میں سے 19 بلین ڈالر فراڈ و ناجائز استعمال پر خرچ کیے گئے۔ سیگار کے مطابق امریکی کانگریس نے افغانستان میں جنگی اخراجات کے علاوہ 134 ارب ڈالر منظور کیے ، لیکن رقم کا بڑا حصہ صرف جنوری 2018 سے دسمبر 2019 تک تقریباً ایک اشاریہ آٹھ ارب ڈالر فراڈ اور ناجائز استعمال میں ضائع ہوئے۔

SEE NOMINATION →