شہر قائد میں آلودگی نے شجر کاری کو مات دے دی

زرینہ کے والد کراچی میں 2015 کی زبردست ہیٹ ویو کے دوران ہونے والی بارہ سو سے زائد اموات میں محض ایک ہندسہ تھے، لیکن زرینہ اور اس کے گھر والوں کے لیے ان کی پوری کائنات۔ چند دنوں پر مشتمل گرمی کی لہر نے چند ہی دنوں میں کئی سہاگنوں سے ان کا سہاگ چھین لیا، کسی بیٹے کے سر سے باپ کا سایہ چھین لیا تو کہیں کوئی بیٹی باپ کے دست شفقت سے محروم ہوئی، تو کسی اپ نے اپنے بڑھاپے کا سہارا بننے والے جوان بیٹے کے جنازے کو کاندھا دیا۔ ہماری اپنی ہی بے پرواہی اور کوتاہیاں اجل کا فرشتہ بن کر ہم پر نازل ہوئیں۔ جیتے جاگتے انسان لقمۂ اجل بنتے رہے اور سورج قہر بن کر برستا رہا۔ ”ہیٹ اسٹروک” نامی اس آفت نے محض تین دن میں 1200 سے زائد افراد کو لقمۂ اجل بنالیا۔ شہریوں کو لمحوں میں موت سے ہم کنار کرنے میں ہلاکت خیز گرمی کے ساتھ بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ، سڑکوں پر دھواں اڑاتی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور کسی شہری منصوبہ بندی کے بنا پورے شہر کو کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل کردینے والی تعمیرات نے بھی اپنا کردار بخوبی ادا کیا۔ حکومت پاکستان کی وزارت برائے ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے ہیٹ ویو پر جاری ہونے والی ٹیکنیکل رپورٹ میں ہیٹ ویو کی جو وجوہات بیان کی گئیں اس میں ہوا کی صورت حال، ہریالی کی کمی اور شہری علاقوں میں بننے والے ہیٹ آئی لینڈز کے اثرات شامل تھے۔ 2015 میں آنے والی ہیٹ ویو کے بعد شجرکاری کا ایک شور برپا ہوا جس پر کافی حد تک عمل درآمد بھی کیا گیا، لیکن شجرکاری کی اس مہم میں صرف ایک پہلو ”شجر کاری” پر ہی ساری توجہ مرکوز کی گئی اور ہیٹ ویو کا سبب بننے والے دوسرے اہم عوامل کو یکسر نظرانداز کیا گیا اور تا حال کیا جا رہا ہے۔ کراچی میں 2015 کے بعد جتنے پودے لگائے گئے اس سے کہیں زیادہ موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں سڑکوں پر روزانہ سڑکوں پر آکر کاربن کے اخراج میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم شہر کے دیگر علاقوں کی نسبت کنٹونمنٹ بورڈ کے ماتحت آنے والے علاقوں میں سبزہ اور درختوں کی تعداد زیادہ ہے۔ سی بی سی کے 51 اسکوائر کلو میٹر رقبے پر 28 پارکس اور 14 اعشاریہ 7 کلومیٹر رقبے پر گرین بیلٹس قائم ہیں۔

SEE NOMINATION →
Spring season of Bloom and gloom

کائنات کی رنگینی تو موسموں پرقائم ہے۔درجہ حرارت کے گھٹنے ،،بڑھنے اور ہواوں کا رخ بدلنے سے موسم بھی بدلتے ہیں۔درخت اور پودے بہار کا لبادہ اوٹھنے کو تیار ہیں لیکن اب بھی خزاں کے زرداور بھورےپتے گررہے ہیں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان 8 ویں نمبر پر ہے۔۔۔یہاں موسم شدت اختیار کرتے جارہے ہیں۔۔موسم بہار مختصر، گرمیاں طویل اور سردیاں دیر سے شروع ہونے لگی ہیں۔ بہار میں کھلنے والے پھولوں کی زندگی کم ہوتی جارہی ہے ۔۔یہ موسموں کی تبدیلی ہی تو ہے جو پودوں ،پھل اور سبزیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی نے موسم بہار کو یوں مختصر کیا کہ یہ 6 سے کم ہوکر 4 ہفتے تک محدود ہو گئی اور بارشوں کی کمی اور کبھی زیادتی نے زراعت کو بھی متاثر کیا۔۔۔ دن اور رات کے بدلنے اور موسموں کی تبدیلی ہی سے زمین پر رنگ بکھرتے ہیں لیکن انسانی سرگرمیوں نے درجہ حرارت پر اثرانداز ہوکر پودوں اور درختوں کے فطری عمل کو الجھا دیا ہے۔۔ ماہرین خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ مستقبل میں اس کا خمیازہ غذائی قلت کی صورت میں ہم انسانوں کو بگھتنا پڑسکتا ہے۔۔

SEE NOMINATION →
“Fishing is not enough to survive”: Coral bleaching hurts jobs in Pakistan

Human activities in Pakistan's coastline are altering the composition of fish communities, endangering hundreds of jobs in the area. Climate change causes a rise in the sea surface temperature, forcing the corals to expel the algae that help them feed. Corals are most under-threat ecosystems, and under a two ̊C warming scenario, up to 90% of the world's reefs could be degraded. Massive coral bleaching has severely impacted the fisheries and tourism sectors in Pakistan's Sindh and Balochistan provinces. In Pakistan's coastal areas, around 400.000 populations are dependent on fisheries for their livelihood. According to fishermen from Mubarak village of Sindh, their daily catch has been reduced to 10% only due to massive degradation in the marine ecosystem. In response, locals started catching tiny fish with small nets. This destructive approach prevents the breeding of juvenile fish and is now banned by the government. The locals began working in tourism then. Tourism in Pakistan contributes to 2.8% of its GDP, but massive tourist activities are causing severe harm to coral reefs in the Churna island of Baluchistan. The government has imposed a ban on scuba diving and water sports activities here. In this report, I quoted marine expert Dr. Fehmida Firdous, who launched awareness campaigns in the coastal belt to educate local people about the devastating impacts of coral bleaching on their lives and livelihood.

SEE NOMINATION →
پنجاب کی تازگی نگلتا اسموگ کا عفریت

پنجاب کی فضا کو مفلوج کرنے والی اسموگ سانس کے مریضوں کی تعداد میں 80 فیصد اضافے کا سبب بنتی ہے۔ پاکستان کا دوسرا بڑا شہر لاہور بھی اب آلودہ دھند سے متاثرہ دنیا کے دیگربڑے شہروں میں شمار ہونے لگا ہے، جس کے بعد یہ مسئلہ اب گزشتہ کئی سالوں کے دوران تسلسل کے ساتھ مزید بد سے بدتر ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کو دنیا میں صحت عامہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ ادارہ کی ایک نئی تحقیق کے مطابق دنیا میں مرنے والے ہر آٹھویں فرد کی موت کی وجہ فضائی آلودگی ہے اور دنیا میں ہر سال 55 لاکھ لوگ فضائی آلودگی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ان ہلاکتوں میں بیشتر اموات فیکٹریوں کے دھوئیں، لکڑی اور کوئلے کے زیادہ استعمال کے باعث ہوتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم میں سے کتنے افراد حقیقتاً اس خطرناک صورت حال کو سنجیدہ لے کر عملی کام کرتے ہیں۔ یہ مراحل کھٹن ضرور ہیں تاہم اس کیلئے اقدامات ہمیں اسموگ کے شروع ہونے سے قبل اٹھانے کی ضرورت ہے

SEE NOMINATION →