پیالی میں طوفان یا سونامی

نہ زمین پر امن نہ پانی میں اماں، نہ ہوا میں پناہ، یوں معلوم ہوتا ہے کہ بے امنی کے سپہ سالاروں نے اپنے عفریتی لشکرو ں کے ہجوم کے ہجوم، پہاڑوں کے غاروں اور سمندروں کے تہوں سے آزاد کرکے بے لگا م چھوڑ دئیے کہ وہ بے گناہ عوام پر بھوکے بھیڑیوں کی طرح چھپٹ پڑیں اور بوڑھے، بچے،عورتیں، بیمار، ضعیف کسی کی تمیز روا نہ رکھتے ہوئے جو سامنے آئے اُسیمخصوص مفادات کی آگ میں بھون کر چباتے چلے جائیں، یہ تو ان کا حال ہے جو اس حلقہ بے امن کے اندر ہیں لیکن جو باہر ہیں وہ بھی سکون کی نیند نہیں سو سکتے۔ ہر شخص اپنی اپنی جگہ سہما ہوا ہے کسی کو معلوم نہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے، ملک بھر میں ایک وحشت اور بے یقین صورت حال کی کیفیت طاری، سراسمیگی چھائی اورپریشانی پھیلی ہوئی ہے۔ ناتواں و غریب عوام ایک گوشے میں کھڑے کانپ رہے ہیں،”نیکی” ایک گونے میں دبکی ہوئی ہے، ایسا لگتا ہے کہ ساری دنیا اُبالی جارہی ہو، اور کوئی کہہ نہیں سکتا کہ جب یہ اُبال بیٹھے گا تو دنیا کیا سے کیا ہوچکی ہوگی، سیاسی افراتفری، اور نام نہاد عظیم تر مفادات کی اس وحشت ناک لڑائی کا انجام نہ جانے کیا ہو گا۔

SEE NOMINATION →
ملیے سبزی منڈی میں سٹال لگانے والے پی ایچ ڈی طالب علم سے

آپ نے سبزی تو بہت بار خریدی ہوگی مگر کیا کبھی کسی پی ایچ ڈی سکالر سے سبزی خریدی ہے؟ اسلام آباد کے عدنان مایار نے مشکل حالات اور کٹھن مراحل سے گزرنے کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور اب فنانس میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، مگر ان کی کہانی کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ وہ کوئی ملازمت حاصل نہیں کر سکے ہیں اور اسلام آباد کی سبزی منڈی میں پیاز اور ٹماٹر کا سٹال لگاتے ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) میں پی ایچ ڈی کے طالب علم عدنان مایار کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ والد کی وفات کے بعد 2005 میں جب انہوں نے محنت مزدوری کا سلسلہ شروع کیا تو ان کی عمر بمشکل 10 یا 11 برس تھی۔ انہوں نے کہا: ’جب میں 2005 میں یہاں آیا تو پڑھنے کا بہت شوق تھا، اس لیے سٹال پر کام کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ پڑھتا بھی تھا، سٹال پر بھی کام کرتا تھا اور کباڑ بھی چنتا تھا۔ بہت عرصہ یہ کام کیا، اس کے بعد لوڈنگ ان لوڈنگ کا کام بھی کیا۔‘ عدنان مایار نے بتایا کہ اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے ہوٹل پر بھی کام کیا اور منڈی میں ریڑھی بھی چلائی مگر تعلیم حاصل کرنا نہیں چھوڑا۔ بقول عدنان:’بچپن میں ڈاکٹر بننے کا شوق تھا مگر جب ایف ایس سی پری میڈیکل کیا اور اخراجات کے بارے میں پتہ چلا تو سمجھ آگئی کہ ڈاکٹر بننا میرے لیے ناممکن ہے اسی لیے میں فنانس کی فیلڈ میں آیا اور قائداعظم یونیورسٹی سے ملحقہ کالج میں بی کام میں داخلہ لے لیا۔‘ اس کے بعد انہوں نے فیڈرل اردو یونیورسٹی سے فنانس میں سپیشلائزیشن کے ساتھ ایم کام کیا۔ پھر رفاہ یونیورسٹی میں ایم ایس فنانس میں داخلہ لے لیا، جس کی تکمیل کے بعد اب وہ نمل سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں کیونکہ ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کرنا ہے۔ عدنان کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ اتنی تعلیم حاصل کی ہے پھر بھی سبزی منڈی میں کام کر رہے ہو تو کبھی کبھی برا بھی محسوس ہوتا ہے کہ اتنی محنت کے بعد بھی اپنی پسند کی ملازمت حاصل نہیں کر پایا۔ عدنان کا تعلق مردان سے ہے اور ان کا خاندان وہیں ہوتا ہے۔ ان کے بقول ان کی اہلیہ نے بی اے کیا ہے اور اب ایم اے کر رہی ہیں، جبکہ اس جوڑے کی دو بیٹیاں ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اہلیہ کو ان کے سبزی منڈی میں کام کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ وہ ہمت بندھاتی ہیں اور والدہ بھی تعاون کرتی ہیں۔ ’یہ ان ہی کی دی ہوئی ہمت ہے کہ آج میں پی ایچ ڈی کر رہا ہوں۔‘ مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے عدنان مایار کا کہنا تھا: ’ہر انسان کی طرح میں بھی یہی سوچتا ہوں کہ کسی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ لیکچرر یا بطور لیکچرر تعینات ہو جاؤں۔ چاہتا ہوں کہ اس ماحول سے نکل کر ایسے ماحول میں جاؤں جہاں ریسرچ کا کام اچھے طریقے سے جاری رکھ سکوں۔‘

SEE NOMINATION →
لمز سے بریانی کے کاروبار تک کا سفر

اسلام آباد کے علاقے بلیو ایریا میں گھر کی بنی ہوئی بریانی فروخت کرنے والے محمد عمر کمال ہمیشہ سے اس کاروبار سے وابستہ نہیں تھے، لیکن حالات نے انہیں بریانی کے سٹال تک پہنچا دیا۔ عمر کمال نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) اور کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی سے انٹرپرائز مینجمنٹ کی ٹریننگ حاصل کر رکھی ہے اور پیشے کے اعتبار سے وہ ڈویلپمنٹ پروفیشنل ہیں، مگر بے روزگاری کی وجہ سے انہوں نے بریانی بیچنے کا کام شروع کر دیا۔ انہوں نے یونیورسٹی آف بہاولپور سے پولیٹیکل سائنس اور انگریزی جب کہ بہا الدین زکریا یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹرز بھی کر رکھا ہے۔ وہ اپنی گاڑی میں گھر کی بنی ہوئی بریانی لاتے ہیں اور وفاقی دارالحکومت کے مصروف ترین کاروباری علاقے بلیو ایریا میں سیور فوڈز کے پاس آواز لگا کر اسے فروخت کرتے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا: ’میں یہاں پر اپنے گھر کی بنی چکن بریانی بیچ رہا ہوں، مگر میں نے لمز اور میک گل سے انٹر پرائز مینجمنٹ کیا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں پاکستان کا اکیلا فنڈ ریزنگ ایکسپرٹ ہوں کیونکہ میں نے فنڈ ریزنگ پر 15 سال کی ریسرچ کر رکھی ہے۔‘ عمر کمال کا مزید کہنا تھا: ’شاید میں پوری دنیا میں واحد پاکستانی ہوں جس نے فنڈ ریزنگ پر کتاب بھی لکھی ہے۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں فنڈ ریزنگ پڑھائی نہیں جاتی، اس لیے میں نے اس پر کورس مٹیریل بھی بنایا تھا مگر اب میں یہاں ہوں۔‘ انہوں نے بتایا: ’میں گذشتہ چار برس سے بیروزگار تھا اور لوگوں سے مدد مانگ رہا تھا کہ مجھے ملازمت یا کنسلٹنسی دے دو، پھر میں نے اللہ کے ساتھ اپنا تعلق ٹھیک کیا اور کہا کہ اللہ جی! میں اب تھک گیا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں خیال ڈالا کہ اپنا کام کیا جائے تاکہ لوگوں پر سے میرا انحصار ختم ہو جائے۔ میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ کیا ہم فوڈ کا بزنس کر سکتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ بالکل کر سکتے ہیں، سو اس طرح ہم نے کام کا آغاز کیا۔‘ انہوں نے بتایا: ’میری اہلیہ شیف ہیں اور بہت خوبصورت بھی ہیں، میں ان کا شکرگزار ہوں کہ وہ میرے لیے بریانی بناتی ہیں، جسے میں بہت فخر سے یہاں لا کر فروخت کرتا ہوں۔ اس سے پہلے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کاروبار میں اتنا مزہ اور نشہ ہے۔‘ عمر کمال کے مطابق: ’میں نے پانچ ہزار روپے سے بنائے گئے 15 ڈبوں سے یہاں کام شروع کیا تھا اور اب میں 30 سے 35 ڈبے روز فروخت کرتا ہوں۔ امید ہے کہ میں یہاں ہمیشہ آتا رہوں گا۔ آج میرے پاس بلینو گاڑی ہے اور مجھے امید ہے کہ میں اگلے سال مرسیڈیز خریدوں گا۔‘ انہوں نے مزید بتایا: ’یہاں سے کام شروع کرکے میں نے پی ڈبلیو ڈی کے علاقے میں ایک آؤٹ لیٹ لیا ہے، جہاں ہم باربی کیو، گھر کی بنی ہوئی آئس کریم اور بریانی بھی بیچ رہے ہوں گے، مگر میں پھر بھی یہاں ضرور آؤں گا چاہے پانچ یا چھ ڈبے فروخت کرنے کے لیے ہی، تاکہ میں واپس جا کر اپنی دکان سنبھال سکوں۔‘ عمر کمال کے مطابق: ’دو مہینے پہلے تک میرے دوست گھر چلانے میں میری مدد کر رہے تھے مگر اب الحمدللہ میں اپنے دوستوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر کسی کو میری مدد چاہیے تو مجھے بتائے۔‘ انہوں نے کہا: ’میں تمام لوگوں کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ خدا کے لیے مایوسی اور پاکستان کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیں، میں پاکستان کی زمین پر کھڑا ہوں اور بہت زیادہ خوش و مطمئن ہوں۔ لوگوں کی منتیں کرنا اور مدد مانگنا چھوڑ دیں۔ میں نے صرف پانچ ہزار روپے سے یہ کاروبار شروع کیا تھا اور اب میں اس سے تین گنا زیادہ کما رہا ہوں۔‘ عمر نے مزید کہا: ’رزق حلال میں اور محنت میں کوئی شرم نہیں ہے۔ ہمارے بہت سے بھائی، بہن بیرون ملک جا کر اس سے زیادہ چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں اگر وہ یہ سب کام یہاں شروع کر دیں تو ہمارے ملک سے بیروزگاری کا مکمل خاتمہ ہو جائے۔‘

SEE NOMINATION →
Parveen Bibi’s story: Selling for money and then forced marriage

Parveen was a divorced lady from Faisal Abad, having a boy from her first marriage. She was sold at the age of 28 years and sent to South Punjab. She was uneducated and unskilled.. One of her family members dodged her in the name of earning money in some other city . She was forced to marry the man who purchased her for 60, 000 rupees . She was forced to remain locked at home. She was not allowed to go out in the village. She was not allowed to meet other women. She gave birth to two girls. She spent her youth in a lurch and away from her family. Her son was in Faisal Abad, to whom she was not allowed to meet. In 2010 , her time changed with the arrival of flood . The whole village was collapsed. Different organizations arrived to help the people there. They gathered women there, to help and restore their lifestyles and help them financially. They conducted awareness and self growth training for them, So Parveen husband was forced to give permission to her to be involved in those sessions because he had his own financial interest. She was awarded animals to earn her livelihood. The crisis brought out an opportunity for her, she reshaped herself, she became confident, she started mobilizing people, she became a community leader and started changing behaviours of her locality. So her contribution makes women more empowered and independent.

SEE NOMINATION →