ہارمونیم، رباب اور گٹار سے شدت پسندی کا مقابلہ کرتے مالاکنڈ کے فنکار

صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مالاکنڈ کا ایک چھوٹا سا گاؤں ’تھانہ‘ اپنی تاریخ اور 72 فیصد شرح خواندگی کی وجہ سے تو ممتاز حیثیت رکھتا ہی ہے، لیکن یہاں کے لوگوں میں ادب اور دوسرے فنون کا شغف بھی پایا جاتا ہے اور علاقے کے کئی فنکاروں نے قومی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ تھانہ کے موسیقار اور شاعر امجد شہزاد گذشتہ 20 برس سے ’ہنر کور‘ کے نام سے ایک میوزک اکیڈمی چلا رہے ہیں، جہاں ہرعمر کے لوگوں، بالخصوص نوجوان لڑکے لڑکیوں کو موسیقی اور اس کے آلات کی تربیت دی جاتی ہے۔ ان کے خیال میں چونکہ پختون معاشرے میں موسیقی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا لہٰذا اس وجہ سے اکیڈمی میں دوسرے فنون کے مقابلے میں موسیقی پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے کیونکہ یہ ایک بہت ہی پراثر فن ہے۔ امجد نے بتایا: ’پوری پختون بیلٹ دہشت گردی کے نرغے میں ہے۔ ہم بندوق والے لوگ تو ہیں نہیں کہ بندوق اٹھا کر مقابلہ کریں۔ ہمارے ساتھ ہارمونیم ہے، رباب ہے، طبلہ ہے۔ ہم اسی سے مقابلہ کرتے ہیں اور ہم اس میں جیتتے بھی ہیں۔‘

SEE NOMINATION →
کیلاش ثقافت محفوظ بنانیکا کام جاری ٗتین تاریخی گھر خریدنے کیلئے فنڈز ڈی سی کو منتقل

چترال کی وادی کیلاش طلماتی حسن کے ساتھ ساتھ اپنی انوکھی روایات اور قدیم ثقافت کیلئے شہرت رکھتی ہے کیلاش قبیلہ تین وادیوں رامبور،بمبورت اور بریر پر مشتمل ہے جس کی تقریبا دس ہزار آبادی میں چار ہزار کے قریب کیلاشی قبیلے کے لوگ رہتے ہیںمحکمہ آثارقدیمہ خیبرپختونخوا کی جانب سےاس منصوبے کے تحت کیلاش کی تین وادیوں رامبور ٗبمبوریت اور بریر میں تین گھر خرید کر اصل حالت میں محفوظ کئے جائیں گے اس حوالے سے محکمہ آثار قدیمہ نے پرانے تاریخی گھروں کو خریدنے کیلئے ڈپٹی کمشنر چترال کو فنڈز منتقل کر دیئے ہیں ان گھروں کوانکی ثقافت کے لحاظ سے مرمت کرکے انہیں محفوظ کیاجاسکے جبکہ کیلاش قبیلے کے مردوں کو دفنانے کیلئے پرائیوٹ قبرستان تھے حکومت نے کیلاش قبیلے کے مردوں کو دفنانے کیلئے قبرستان کی تعمیر کیلئے سرکاری سطح پر اراضی خرید لی ہے پہلے سے موجود قبرستان میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے بمبوریت میں مزید دو قبرستانوں کی تعمیر کیلئے اراضی خرید لی گئی ہے

SEE NOMINATION →