The dismal state of education needs in Balochistan needs urgent attention from authorities

As a result of the unimplemented laws, the province houses a bulk of almost 216 non-functional schools as it clearly indicates the gloomy future of Balochistan. So, the root cause behind the out-of school-children in the province is the ghost school and the forestanding reason behind the dropouts is because the province has many neglected areas where people are living in majority and have no schools at all. On the other side, the long distances from schools to homes seems the core reasons behind the outnumbering children who are quitting education. Having no basic facilities like-clean drinking water, toilets, boundary walls along with other amenities add the proportion of OOSC in a huge extend in the province. There are almost no essential and educational facilities in Balochistan as the infrastructures are demolished, equipments for studying are least available and teachers are few in number. Balochistan government has to allocate funds to build up educational institutions to renovate the forlorn and fragmented schools as the development of any state relays on only educating their young generation which is why the concerned authorities are responsible and should be in front line to resolve this noticeable issue of out of school children in bring them back to schools. The provincial and federal governments had better bring some noticeable changes in educational sector like, ensuring quality education by providing all the facilities – teachers and stuff, all in all, the border and deeper educational reforms can help millions of children to get their constitutional rights to education.

SEE NOMINATION →
ملیے سبزی منڈی میں سٹال لگانے والے پی ایچ ڈی طالب علم سے

آپ نے سبزی تو بہت بار خریدی ہوگی مگر کیا کبھی کسی پی ایچ ڈی سکالر سے سبزی خریدی ہے؟ اسلام آباد کے عدنان مایار نے مشکل حالات اور کٹھن مراحل سے گزرنے کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا اور اب فنانس میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، مگر ان کی کہانی کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ وہ کوئی ملازمت حاصل نہیں کر سکے ہیں اور اسلام آباد کی سبزی منڈی میں پیاز اور ٹماٹر کا سٹال لگاتے ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل) میں پی ایچ ڈی کے طالب علم عدنان مایار کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ والد کی وفات کے بعد 2005 میں جب انہوں نے محنت مزدوری کا سلسلہ شروع کیا تو ان کی عمر بمشکل 10 یا 11 برس تھی۔ انہوں نے کہا: ’جب میں 2005 میں یہاں آیا تو پڑھنے کا بہت شوق تھا، اس لیے سٹال پر کام کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ پڑھتا بھی تھا، سٹال پر بھی کام کرتا تھا اور کباڑ بھی چنتا تھا۔ بہت عرصہ یہ کام کیا، اس کے بعد لوڈنگ ان لوڈنگ کا کام بھی کیا۔‘ عدنان مایار نے بتایا کہ اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے ہوٹل پر بھی کام کیا اور منڈی میں ریڑھی بھی چلائی مگر تعلیم حاصل کرنا نہیں چھوڑا۔ بقول عدنان:’بچپن میں ڈاکٹر بننے کا شوق تھا مگر جب ایف ایس سی پری میڈیکل کیا اور اخراجات کے بارے میں پتہ چلا تو سمجھ آگئی کہ ڈاکٹر بننا میرے لیے ناممکن ہے اسی لیے میں فنانس کی فیلڈ میں آیا اور قائداعظم یونیورسٹی سے ملحقہ کالج میں بی کام میں داخلہ لے لیا۔‘ اس کے بعد انہوں نے فیڈرل اردو یونیورسٹی سے فنانس میں سپیشلائزیشن کے ساتھ ایم کام کیا۔ پھر رفاہ یونیورسٹی میں ایم ایس فنانس میں داخلہ لے لیا، جس کی تکمیل کے بعد اب وہ نمل سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں کیونکہ ڈاکٹر بننے کا خواب پورا کرنا ہے۔ عدنان کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ سوال کرتے ہیں کہ اتنی تعلیم حاصل کی ہے پھر بھی سبزی منڈی میں کام کر رہے ہو تو کبھی کبھی برا بھی محسوس ہوتا ہے کہ اتنی محنت کے بعد بھی اپنی پسند کی ملازمت حاصل نہیں کر پایا۔ عدنان کا تعلق مردان سے ہے اور ان کا خاندان وہیں ہوتا ہے۔ ان کے بقول ان کی اہلیہ نے بی اے کیا ہے اور اب ایم اے کر رہی ہیں، جبکہ اس جوڑے کی دو بیٹیاں ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اہلیہ کو ان کے سبزی منڈی میں کام کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ وہ ہمت بندھاتی ہیں اور والدہ بھی تعاون کرتی ہیں۔ ’یہ ان ہی کی دی ہوئی ہمت ہے کہ آج میں پی ایچ ڈی کر رہا ہوں۔‘ مستقبل کے بارے میں بات کرتے ہوئے عدنان مایار کا کہنا تھا: ’ہر انسان کی طرح میں بھی یہی سوچتا ہوں کہ کسی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ لیکچرر یا بطور لیکچرر تعینات ہو جاؤں۔ چاہتا ہوں کہ اس ماحول سے نکل کر ایسے ماحول میں جاؤں جہاں ریسرچ کا کام اچھے طریقے سے جاری رکھ سکوں۔‘

SEE NOMINATION →
Education; An unthinkable dream for Baloch students

There is no doubt that Balochistan is the largest, in terms of area, and richest province of Pakistan with a plethora number of natural resources such as Saindak, Reko Dik, Gas, and many more. Despite this fact, the question remains unanswered that why are the people of a rich province (Balochistan) still dwell poor and are deprived of many primary amenities like water, electricity, gas, education, and food. The anxiety of the Covid-19 pandemic has been there for the last one year, but the fuss of hunger and poverty has been hazardous for the people of Balochistan more than the pandemic for the last seventy years because every so-called dictator in Balochistan has done nothing in the name of development, but instead they layout and pinch something new in the name of development and prosperity whether in the shape of Sui gas, coal, gold or any other mineral. The literacy rate of Balochistan is desperately low as compared to other provinces in Pakistan. Similarly, the literacy rate of Balochistan is 46% only which is extremely sickening. Among them, solely 20% of children reach matriculation. Additionally, among 26 percent of girls, only 2% from rural areas have difficultly make a way to school and learn basic learnings. Out of 3.6 million children in Balochistan, barely 1.3 million children reach school, and the remaining 2.3 million are out of schools either addicted to drugs, child abuse, or forced into child labor. As a result, underage boys and girls are tied in early marriage, which is a crime. The policies of the so-called politicians based on the colonial system and our stereotyped tribal traditions and frustrations are the biggest obstacles for education in the province. Everywhere in our society, no one is liberated and the people are chained with conservative minds. It is a vulgar and heinous thing whenever I question the children that why are they away from education or schools then the obvious answer is, “we are the children of laborers and farmers how shall we be officers and doctors by acquiring education?” The paucity of employment and the dearth of awareness campaigns in the province about education are the giant issues that Balochistan is lagging backwardness and countless children are out of school. The children, in the province, are compelled to jut down with hideous crimes like using drugs and picking up arms or ammunition. It seems disgusting and disappointing that due to the lack of educational amenities in the province, students are compelled to move to other big cities like Lahore or Islamabad. But sadly, they are beaten there and tortured mentally and physically. They are welcomed with sticks and afterward, the doors of scholarships are being closed for Baloch students everywhere. In such situations, many children are dropped out of school and returned to backwardness. Similarly, when a student suddenly thinks of doing something big then they are assaulted physically like Hayat Baloch. Subsequently, the murder is be proved an accidental death. Until the class system and oppression lie in Balochistan, scholars like Shaheed Shahdad and Ehsan Baloch resort to militancy to get their rights by violence. The long and on-going story of oppression does not end here. When one reads or writes and pursues his rights, he is considered as terrorists or Indian puppets and thrown into prisons or disappeared by forces like Feroz Baloch and Majid Baloch. When they seek protection in other countries to save their lives, their bodies are found dead there like Shaheed Sajid Hussain or Banuk Karima Baloch. Thus, getting educated in Balochistan remains a rare and unthinkable dream.

SEE NOMINATION →
بلوچستان: علم کی روشنی پھیلاتی چلتی پھرتی ’’کیمل لائبریری

بلوچستان کے دیہی علاقوں میں شرح خواندگی انتہائی کم ہے۔ بہت سے علاقوں میں میلوں تک کوئی اسکول نہیں ہے اور جہاں ہیں وہاں اساتذہ کی کمی کے باعث باقاعدہ کلاسیں نہیں ہوتیں۔کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے 2020 میں جب کئی ماہ اسکول بند رہے تو وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار زبیدہ جلال کو اپنے آبائی علاقے میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کا ایک انوکھا خیال سوجھا۔ کچھ ہی عرصے میں انھوں نے مند کی رہائشی اپنی بہن رحیمہ جلال کی مدد سے " کیمل لائبریری" پراجیکٹ کا آغاز کیا جس کو گذشتہ گیارہ ماہ سے مند کی رہائشی حنیفہ عبدالصمد چلاتی ہیں ۔ یہ چلتی پھرتی لائبریری ہفتے میں چار دن اونٹ پر 250 سے زائد کتابیں لاد کر قریب کے دیہاتوں میں جاتی ہےاور بچوں کو ان کی پسند کی کہانیوں، معلومات عامہ اور تدریسی کتب ایشو کرتی ہے۔ بچے سارا ہفتے اس لائبریری کی آمد کا انتظار کرتے ہیں۔ اس پراجیکٹ کی کامیابی کا عالم یہ ہے کہ بچے ہی نہیں نوجوان لڑکیاں اور مائیں بھی اب حنیفہ سے اپنی پسند کی کتب منگواتی ہیں اور حنیفہ خواتین کو لکھنے پڑھنے میں مدد دینے کے علاوہ بچوں کی بہترین تربیت کے حوالے سے معلومات بھی دیتی ہیں۔ رحیمہ جلال اب اس پراجیکٹ کو مزید چار دیہاتوں تک پھیلانے کے علاوہ دو کمروں کی ایک لائبریری بھی بنا رہی ہیں جس کے لئے انھیں فنڈز کی ضرورت ہے۔

SEE NOMINATION →
پاکستان میں 15 لاکھ بچوں کو مفت پڑھانے والی آن لائن اکیڈمی

’نون اکیڈمی‘ کے نام سے سعودی عرب سے شروع ہونے والی بین الاقوامی آن لائن اکیڈمی پاکستان بھر میں خصوصاً یہاں کے پسماندہ علاقوں میں تعلیمی انقلاب کا ذریعہ بن رہی ہے۔ نون اکیڈمی پاکستان کا آغاز گذشتہ برس کیا گیا تھا اور رواں ماہ تک 15 لاکھ پاکستانی طلبہ اس آن لائن اکیڈمی کے ذریعے نہ صرف مفت اور معیاری تعلیم بلکہ بہتر نتائج بھی حاصل کر رہے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ایک سوشل لرننگ پلیٹ فارم ہے جو سعودی عرب سے ٹیسٹ بیسڈ ویب سائٹ کے طور پر شروع کیا گیا، تاہم بہترین نتائج کی وجہ سے یہ آہستہ آہستہ دنیا بھر میں پھیل گیا اور اب آٹھ ممالک کے 12 ملین طلبہ اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں نون اکیڈمی پاکستان کے اکیڈمک ہیڈ نیشنل بورڈ، سعد سلمان سلہری نے بتایا: ’ابتدائی طور پر ہم نے فیس بک اور یوٹیوب کے ذریعے اپنا مفت اور معیاری تعلیم کا پیغام طلبہ تک پہنچایا۔ کچھ بچوں نے جب کلاسز لینا شروع کیں تو انہیں اس سے فائدہ ہوا، جس کے بعد انہوں نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ ہم یہاں سے مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔‘ سعد سلمان کے مطابق: ’جس گروہ کو میں نے پڑھایا اس میں ایک لاکھ سے زیادہ بچے تھے۔ بچوں کے پاس یہ سہولت بھی ہوتی ہے کہ وہ لائیو لیکچر کے بعد ریکارڈنگ دیکھ سکیں۔ ایسے بچے دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے ہمارا شکریہ ادا کیا۔ کئی کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی اپنے سکولوں میں استاد دیکھا ہی نہیں۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہمیں یہاں پر استاد سے بات کرنے کا موقع مل رہا ہے۔‘ نون اکیڈمی پاکستان کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے باوجود اس ادارے نے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کو آن بورڈ لے رکھا ہے۔ اس ادارے کے اکیڈمک ہیڈ کیمبرج سٹریم ہارون طارق نے سات ورلڈ ریکارڈز بنا رکھے ہیں۔ انہوں نے او اور اے لیولز میں کل ملا کر 87 اے گریڈز حاصل کرکے ورلڈ ریکارڈ بنایا تھا۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ ’2013 میں جب میں نے اپنا اے لیول مکمل کیا تو مجھے آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف میلبورن میں مکمل سکالرشپ ملی۔ وہاں پر میں نے کمپیوٹر سائنس پڑھی اور 2017 میں پاکستان واپس آیا۔ مجھے شروع سے ہی ٹیچنگ کا شوق تھا، 2020 میں جب نون اکیڈمی پاکستان آئی تو ان کا اور میرا پیغام ملتا جلتا تھا کہ معیاری اور مفت تعلیم مہیا کی جائے، لیکن ہاں جن بچوں کو زیادہ توجہ چاہیے تو وہ معاوضہ ادا کریں۔‘ صوبہ بلوچستان کے علاقے سوئی سے تعلق رکھنے والے نون اکیڈمی کے طالب علم سیف اللہ بگٹی کا کہنا تھا کہ ’میں ایک ایسے ضلعے سے تعلق رکھتا ہوں جہاں تعلیم کا کوئی نظام موجود نہیں، میں نے نون ایپ انسٹال کی جس کے ذریعے مجھے پاکستان کے بہترین اساتذہ سے پڑھنے کا موقع ملا۔ نون اکیڈمی کی بدولت میں نے ایف ایس سی میں بہت اچھے نمبرز لیے ہیں اور ایم ڈی کیٹ کی تیاری بھی مفت میں نون اکیڈمی سے ہی کی ہے۔‘ طلبہ learnatnoon.com پر جا کر سٹوڈنٹ اکاؤنٹ بناسکتے ہیں اور مضامین کے حساب سے اساتذہ کے گروپ جوائن کر سکتے ہیں۔ نون پاکستان کی ایپ کے ذریعے بھی آئی فون اور اینڈروئیڈ استعمال کرنے والے افراد اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ اس آن لائن لرننگ پلیٹ فارم پر بچوں کے لیے کوئز وغیرہ بھی کروائے جاتے ہیں اور انہیں ایسے انعامات بھی دیے جاتے ہیں جو آگے چل کر تعلیم حاصل کرنے میں طلبہ کی مدد کرسکیں۔

SEE NOMINATION →
بلوچستان میں چار ہزار سکول بند پڑے ہیں

بلوچستان میں چار ہزار سکول بند پڑے ہیں اور بلوچستان میں چار ہزار سکول بند پڑے ہیں سیکریٹری ثانوی تعلیم بلوچستان شیر خان بازئی کا کہنا ہے کہ اکثر سکولوں میں صرف ایک استاد تعینات ہے، اور جب کوئی استاد چھٹی لیتا ہے، ریٹائر ہوتا ہے یا پھر انتقال کر جاتا ہے تو سکول بند ہو جاتا ہے۔ ندیم خان جمعرات 11 فروری 2021 9:15 (تصاویر: ندیم خان) ساجدہ ایک روز کالج سے چھٹی کر کے گھر واپس جا رہی تھیں کہ راستے میں انہیں محلے کے بچے اپنے مسقبل سے بے خبر کچرے کے ڈھیر پر کھیلتے نظر آئے۔ یہ منظر ساجدہ کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوا، وہ اس سوچ میں پڑ گئیں کہ جس عمر میں بچوں کو سکول جانا چاہیے وہ کس طرح سکول نہیں جا رہے۔ تب ہی انہوں نے بچوں کو بلا معاوضہ پڑھانا شروع کیا۔ ساجدہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے قریب 50 کلومیٹر دور واقع ضلع مستونگ کے علاقے پڑنگ آباد، کلی کاریز کی رہائشی ہیں۔ 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق اس ضلعے کی کل آبادی 266461 ہے۔ یہاں اکثریت لوگوں کا گزر بسر کھیتی باڑی اور باغات پر ہے۔ ساجدہ نے 2010 میں جامعہ بلوچستان سے ایم اے اسلامیات اور پھر بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی، وہ گذشتہ دس سال سے زائد عرصے سے بلا کسی معاوضے کے بچوں کو اپنے گھر میں پڑھا رہی ہیں۔ ساجدہ نے بتایا: ’ہمارے صوبے میں تعلیم کی صورت حال خراب ہے۔ اکثر بچے کسی نہ کسی وجہ سے سکول نہیں جا پاتے، جب میں نے محلے کے بچوں کو گھر میں پڑھانے کا ارادہ کیا تو مجھے بچوں کے والدین سے اجازت لینے کی ضرورت محسوس ہوئی۔‘ مزید پڑھیے قبائلی طلبہ کلاسوں میں کھڑے ہو کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور پسماندہ خضدار میں امریکی طرز تعلیم بلوچستان میں تعلیمی شعور کا فروغ، لائبریری میں جگہ کم ’والدین نے بچوں کو پڑھانے سے صاف انکار کر دیا۔ لیکن بعد میں میری منت سماجت کے بعد بچوں کے والدین پڑھانے پر راضی ہو گئے۔ اور اب دس کے قریب بچے میرے گھر پر پڑھنے کی غرض سے آتے ہیں تاہم شدید سردی کے باعث پڑھائی کا یہ عمل کچھ عرصے تک رکا ہوا ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں نہ صرف اپنے ضلعے بلکہ پورے صوبے میں تعلیم کے نظام میں بہتری دیکھ سکوں۔‘ کرونا (کورونا) وائرس کی عالمی وبا کے دنوں میں جہاں نظام تعلیم متاثر ہوا تو وہیں ساجدہ نے احتیاطی تدابیر کو اپناتے ہوئے پڑھائی کے اس عمل کو جاری رکھا۔ daded43e-acd6-49d9-879c-ffbc397c4675.jpeg (ندیم خان) 2017 کی مردم شماری کے مطابق بلوچستان کی کل آبادی 12,344,408 ہے۔ صوبے کی وزات برائے ثانوی تعلیم ہر سال رئیل ٹائم سکول مانیٹرنگ سسٹم (آر ٹی ایس ایم) کے تحت بک لیٹ کی شکل میں اعداد شمار جاری کرتی ہے۔ جاری کردہ 19-2018 کی بک لیٹ کے مطابق صوبے میں کل سکولوں کی تعداد 14855 ہے، جس میں سے 73.4 فیصد یعنی 10971 سکولوں کی مانیٹرنگ کی گئی۔ ان سکولوں میں سے 2998 سکول بند پائے گئے۔ 73.4 فیصد سکولوں میں سے بچوں کے 31.1 فیصد جبکہ بچیوں کے 33.4 فیصد سکولوں میں بیٹھنے کے لیے میز، کرسیاں یا پھر چٹائی جیسی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ سیکریٹری ثانوی تعلیم شیر خان بازئی نے بند سکولوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’بند سکولوں کی تعداد اس وقت چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، سکول بند ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر سکولوں میں صرف ایک استاد تعینات ہے۔ جب کوئی استاد چھٹی لیتا ہے، ریٹائر ہوتا ہے یا پھر انتقال کر جاتا ہے تو سکول بند ہو جاتا ہے۔‘

SEE NOMINATION →
Education; An unthinkable dream for Baloch students

There is no doubt that Balochistan is the largest, in terms of area, and richest province of Pakistan with a plethora number of natural resources such as Saindak, Reko Dik, Gas, and many more. Despite this fact, the question remains unanswered that why are the people of a rich province (Balochistan) still dwell poor and are deprived of many primary amenities like water, electricity, gas, education, and food. The anxiety of the Covid-19 pandemic has been there for the last one year, but the fuss of hunger and poverty has been hazardous for the people of Balochistan more than the pandemic for the last seventy years because every so-called dictator in Balochistan has done nothing in the name of development, but instead they layout and pinch something new in the name of development and prosperity whether in the shape of Sui gas, coal, gold or any other mineral. The literacy rate of Balochistan is desperately low as compared to other provinces in Pakistan. Similarly, the literacy rate of Balochistan is 46% only which is extremely sickening. Among them, solely 20% of children reach matriculation. Additionally, among 26 percent of girls, only 2% from rural areas have difficultly make a way to school and learn basic learnings. Out of 3.6 million children in Balochistan, barely 1.3 million children reach school, and the remaining 2.3 million are out of schools either addicted to drugs, child abuse, or forced into child labor. As a result, underage boys and girls are tied in early marriage, which is a crime. The policies of the so-called politicians based on the colonial system and our stereotyped tribal traditions and frustrations are the biggest obstacles for education in the province. Everywhere in our society, no one is liberated and the people are chained with conservative minds. It is a vulgar and heinous thing whenever I question the children that why are they away from education or schools then the obvious answer is, “we are the children of laborers and farmers how shall we be officers and doctors by acquiring education?” The paucity of employment and the dearth of awareness campaigns in the province about education are the giant issues that Balochistan is lagging backwardness and countless children are out of school. The children, in the province, are compelled to jut down with hideous crimes like using drugs and picking up arms or ammunition. It seems disgusting and disappointing that due to the lack of educational amenities in the province, students are compelled to move to other big cities like Lahore or Islamabad. But sadly, they are beaten there and tortured mentally and physically. They are welcomed with sticks and afterward, the doors of scholarships are being closed for Baloch students everywhere. In such situations, many children are dropped out of school and returned to backwardness. Similarly, when a student suddenly thinks of doing something big then they are assaulted physically like Hayat Baloch. Subsequently, the murder is be proved an accidental death. Until the class system and oppression lie in Balochistan, scholars like Shaheed Shahdad and Ehsan Baloch resort to militancy to get their rights by violence. The long and on-going story of oppression does not end here. When one reads or writes and pursues his rights, he is considered as terrorists or Indian puppets and thrown into prisons or disappeared by forces like Feroz Baloch and Majid Baloch. When they seek protection in other countries to save their lives, their bodies are found dead there like Shaheed Sajid Hussain or Banuk Karima Baloch. Thus, getting educated in Balochistan remains a rare and unthinkable dream.

SEE NOMINATION →
Balochistan’s failing Education needs reforms

The educational evaluation has been considered as the first priority and given much importance throughout the world since inception of the ancient era. To educate one, that means to educate an entire generation, is widely believed. Therefore, educating and learning conception had been focused greatly for the core purpose of bringing everlasting changes and development in the globe. Each society realized that sending their children & youths to educational institutions would bring a prosperous future and would learn how to live in the fast-developing era. Nemours researches have been done on this topic to better determine the actual condition of out-of- school children whose right to education has been a major challengeable issue. To face such a massive challenge and promote educational sector, Pakistan’s constitution has provided Articles for the purpose of filling the gap of illiteracy and out of school children in Pakistan. Article 37-B of 1973 states, “State shall remove the illiteracy and provide free and compulsory secondary education within minimum possible period.” And Constitutional Article 25-A “Right to education” has strongly affirmed that State shall exercise the actual responsibility to educate the children by providing free and compulsory education to the children aged five to sixteen. This research aims to figure out the grounds & failures of implementation of the constitutional Article-25.A in Pakistan. Even though the Pakistan’s constitution granted and took the responsibility to educate each child as determined ages, it seems failed to fulfill its constitutional promise whose un-implementation and un-fulfilment had arisen multiple issues related to education. Educating those children seems to be an out of syllabus task since the ratio of out of school children are at the highest peak with not being provided the right to read and write rather are busy with child labor due to the rapid growth of poverty. The right to education, given constitutionally is yet an unfulfilled wish and as consequently its un-implementation has been being highly increased with the speedy growth of the population. It is obvious that due to several problematic inconveniences, a great number of school-aged children are deprived to receive an education and the flow of this issue is ongoing and increasing rapidly in Balochistan. When such a huge population, unlearning, has been afar from their educational desires and opportunities, forsooth the actual responsibilities lie on the State whose article 25-A has widely been unfocused and un-implemented yet. And to determine the aforementioned factors, the highest number of out of school children are to be of Baluchistan’s where 78% of females are out of educational institutions. The ratio of Sindh's is all based on poorest families with 52% are entirely far from educational opportunity while 58% are to be only girls.

SEE NOMINATION →
سجاس کے تحت بیٹھک پروگرام، اسپورٹس پالیسی پر بحث اور تجاویز

کراچی میں صوبہ بھر کی تمام اسپورٹس کی ایسوسی ایشن کو سندھ کی نئی اسپورٹس پالیسی کے حوالے سے بحث کے لئے پروگرام بیٹھک میں مدعو کیا گیا۔ سجاس کی جانب سے بیٹھک پروگرام کا مقصد سندھ حکومت کی جانب سے نئی اسپورٹس پالیسی کو مرتب کرنے کے لئے مختلف ایسوسی ایشنز سے تجویز لینا تھاتاکہ ایک جا معِ اور مفصل و مضبوط اسپورٹس پالیسی مرتب کی جا سکے۔پروگرام میںسیکریٹری اسپورٹس اینڈ یوتھ افیئرید امیتا ز علی شاہ مہمانِ خصوصی تھے۔انہوں نےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسپورٹس پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جامع پلان نہ ہونے کے باعث مسائل پیدا ہوئے ہیں، محکمہ کھیل کا بنیادی کام ہی کھیلوں کو فروغ دینا اور کھلاڑیوں کی فلاح ہے، نئی پالیسی میں کھلاڑیوں کو انعامات اور عزازات دینے کا بھی ایک مکینزم بنارہے ہیں۔ کھلاڑیوں کی فلاح بہبود، عالمی سطح پر میڈلز جیتنے والوں کو انعامات دینے ، متوازی ایسوسی ایشنز کے خاتمہ، انفرا اسٹرکچر کا جال بچھانا اولین ترجیح ہے،گراس روٹ لیول پر کھیلوں کے فروغ کے لئے اقدامات کا لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ میدانوں اور اسٹیڈیمز کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کے ہاسٹلز بھی ہونے چاہیئں۔ محکمہ تعلیم سے مل کر اسکول اور کالج کی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیاں کرنا بھی ہماری پالیسی کا حصہ ہوگا۔ خواتین کے کھیلوں کے فروغ کے ساتھ ان کو مناسب نمائندگی دی جائے گی۔ کھلاڑیوں کے لئے پینشن کوچز اور آرگنائزر ز کے لئے ایوارڈز اور انعامات تجویز کیئے گئے ہیں جبکہ اسپورٹس ویلفیئر فنڈز کی تجویز کو اسپورٹس پالیسی میں شامل کیا جائے گا۔ پیش کردہ معقول تجاویز پالیسی کا حصہ بنیں گی۔

SEE NOMINATION →
جب چھٹی جماعت کی طالبہ استانی بنی

اس رپورٹ میں ایک ایسی لیاری سے تعلق رکھنے والی لڑکی کی کہانی ہے جس کا تعلق ایسی گھرانے سے ہے جہاں پر تعلیم حاصل کرنے کا تصور کرنا بھی برا سمجھا جاتا ہے۔لیکن اس نے نہ صرف خود تعلیم حاصل کی بلکہ اپنے علاقے کے بچوں کو تعلیم دینے کا سلسلہ شروع کیا اور یہ سلسلہ اس نے اپنے گھر سے شروع کیا ۔تھوڑا وقت گزرنے کے بعد اس نے لیاری میں ایک کمرے میں اسکول کھولا۔اس دوران اس کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرناپڑا لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور پر عزم اور بہادری سے اپنا مشن جاری رکھا ۔اس سفر میں اس کے باپ اس سے بہت زیادہ ناراض رہے،کیوں کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی تعلیم حاصل کرے ۔لیکن اس سب کے باوجود وہ تعلیم حاصل کرتی اور دوسروں کو بھی دیتی رہی۔آہستہ آہستہ اس نے ایک جگہ پر باقاعدہ اسکول کھولا،جہاں ساری مزدور بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔آج اس اسکول کی تین شاخیں ہیں ۔اس کی اس کارکردگی پر اس کو بہت ساری ایوارڈز بھی مل چکے ہیں ۔اور دو دستاویزات بھی بن چکی ہیں۔اب وہ ان اسکولز کے ساتھ اپنی شادی شدہ زندگی میں بہت خوش ہےاور دو بیٹیوں کی ماں ہے۔

SEE NOMINATION →
بلوچستان کا شعبہ تعلیم ایک مسائلستان

گزشتہ روز جامعہ بلوچستان کوئٹہ کے سٹی کیمپس میں تمام طلبا تنظیموں کا بلوچستان یونیورسٹی سمیت بلوچستان کے تمام تعلیمی اداروں کے مسائل کے حوالے سے مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جسمیں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے دونوں دھڑوں، پشتون اسٹوڈنٹس کے طلبا تنظیمیں اور دیگر محدود طلبا تنظیمیں شامل تھیں۔ اجلاس کا مقصد جامعہ بلوچستان میں اکیڈمک و دیگر انتظامی بدعنوانی کے خلاف صوبائی سطح پر قائم الائنس کی اجلاس کو یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مداخلت اور ثبوتاژ کرنا اور کیمپس کے اندر انہیں اجلاس کرانے میں روکنے کے رد عمل میں طلبا تنظیموں کا شدید ردعمل سامنے آنا شروع ہو گئے، آل بلوچستان طلبا الائنس کا پالیسی بیان کے مطابق ملک بھر میں کیمپس پالیٹکس اور طلبا یونینز پر غیر اعلانیہ پابندی اور ملکی آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت فریڈم آف اکسپریشن پر قدغن کے خلاف طلبا تحریک چلانے کا اعلان کردیا گیا۔

SEE NOMINATION →
Private Publishers allows to publish books under SNC obtaining NOC from MoE

اسلام آباد (ماہتاب بشیر)وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے ملک بھر میں پہلی سے پانچویں جماعت تک یکساں قومی نصاب کے نفاذ کے دوران نیشنل کریکولم کو نسل (این سی سی)کی جانب سے نجی پبلشرز کو سنگل نیشنل کریکولم (ایس این سی)سے ہٹ کر تعلیمی اداروں میں مرضی کی کتابیں چھاپی و تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے کی ہدایت کر دی گئی ہے، جس کے لئے نجی پبلشرز کو نیشنل کریکولم کو نسل سے این او سی حاصل کرنا ضروری ہو گا،وفا قی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود اس سے قبل اے اور او لیول امتحانات کو پاکستان میں یکساں نظام تعلیم کے ساتھ ساتھ چلنے پر رضا مندی ظاہر کر چکے ہیں جبکہ چند روز قبل انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہاتھا کہ ' یکساں قومی نصا ب طالب علموں کی تعلیم و تربیت کے لئے نافذ کیا گیا ہے مگر وزارت تعلیم نے کسی تعلیمی ادارے کو پابند نہیں بنایا کہ تمام تعلیمی اداروں میں ایک جیسی کتابیں ہی پڑھائی جائیں گی، سنگل نیشنل کریکولم کی جانب سے بنائے گئے نصاب کے مطابق نجی پبلشرز کتابیں چھاپ سکتے ہیں ، مگر اس کے لئے پہلے کریکولم کو نسل سے این او سی حاصل کرنا ضروری ہو گا۔

SEE NOMINATION →
Education; An unthinkable dream for Baloch students

There is no doubt that Balochistan is the largest, in terms of area, and richest province of Pakistan with a plethora number of natural resources such as Saindak, Reko Dik, Gas, and many more. Despite this fact, the question remains unanswered that why are the people of a rich province (Balochistan) still dwell poor and are deprived of many primary amenities like water, electricity, gas, education, and food. The anxiety of the Covid-19 pandemic has been there for the last one year, but the fuss of hunger and poverty has been hazardous for the people of Balochistan more than the pandemic for the last seventy years because every so-called dictator in Balochistan has done nothing in the name of development, but instead they layout and pinch something new in the name of development and prosperity whether in the shape of Sui gas, coal, gold or any other mineral. The literacy rate of Balochistan is desperately low as compared to other provinces in Pakistan. Similarly, the literacy rate of Balochistan is 46% only which is extremely sickening. Among them, solely 20% of children reach matriculation. Additionally, among 26 percent of girls, only 2% from rural areas have difficultly make a way to school and learn basic learnings. Out of 3.6 million children in Balochistan, barely 1.3 million children reach school, and the remaining 2.3 million are out of schools either addicted to drugs, child abuse, or forced into child labor. As a result, underage boys and girls are tied in early marriage, which is a crime. The policies of the so-called politicians based on the colonial system and our stereotyped tribal traditions and frustrations are the biggest obstacles for education in the province. Everywhere in our society, no one is liberated and the people are chained with conservative minds. It is a vulgar and heinous thing whenever I question the children that why are they away from education or schools then the obvious answer is, “we are the children of laborers and farmers how shall we be officers and doctors by acquiring education?” The paucity of employment and the dearth of awareness campaigns in the province about education are the giant issues that Balochistan is lagging backwardness and countless children are out of school. The children, in the province, are compelled to jut down with hideous crimes like using drugs and picking up arms or ammunition. It seems disgusting and disappointing that due to the lack of educational amenities in the province, students are compelled to move to other big cities like Lahore or Islamabad. But sadly, they are beaten there and tortured mentally and physically. They are welcomed with sticks and afterward, the doors of scholarships are being closed for Baloch students everywhere. In such situations, many children are dropped out of school and returned to backwardness. Similarly, when a student suddenly thinks of doing something big then they are assaulted physically like Hayat Baloch. Subsequently, the murder is be proved an accidental death. Until the class system and oppression lie in Balochistan, scholars like Shaheed Shahdad and Ehsan Baloch resort to militancy to get their rights by violence. The long and on-going story of oppression does not end here. When one reads or writes and pursues his rights, he is considered as terrorists or Indian puppets and thrown into prisons or disappeared by forces like Feroz Baloch and Majid Baloch. When they seek protection in other countries to save their lives, their bodies are found dead there like Shaheed Sajid Hussain or Banuk Karima Baloch. Thus, getting educated in Balochistan remains a rare and unthinkable dream.

SEE NOMINATION →