’پورے جنگل سے شیرنی اور پورے بالی وڈ سے ودیا بالن ہی کیوں؟‘

جانوروں کے تحفظ کے موضوع پر بالی وڈ کی نئی فلم ’شیرنی‘ آج کل سٹریمنگ سروس ایمازون پرائم پر مداحوں کے دل لبھا رہی ہے۔ فلم میں مرکزی کردار بھارتی سپر سٹار ودیا بالن نبھا رہیں ہیں جو ریاست مدھیہ پردیش کے جنگلات میں کام کرنے والی ایک فارسٹ آفیسر ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو نے فلم کے ہدایت کار امیت ماسورکر سے خصوصی گفتگو کی جس میں ان سے فلم کے کرداروں، مرکزی کردار کے لیے ودیا کے انتخاب اورفلم کے موضوع کے بارے میں بات چیت ہوئی۔ ہدایت کاری کی جانب آنے سے پہلے امیت ماسورکر انجینیئرنگ کے شعبے سے وابستہ تھے تاہم فلموں کی محبت انہیں ہدایت کاری کی طرف لے ہی آئی۔ انہوں نے بتایا: ’بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہیں وہ کرنے کو ملتا ہے جو انہیں پسند ہوتا ہے اور میرا شمار انہی خوش نصیب لوگوں میں ہوتا ہے۔‘ امیت سے پہلے دو تین فلموں کی ہدایت کاری کر چکے ہیں جن میں ’سلیمانی کیڑا‘ اور ’نیوٹن‘ شامل ہیں، جو 2018 کے آسکر ایوارڈ کی بہترین فارن لینجویج فلم کی کیٹیگری میں بھارت کی جانب سے نامزد بھی کی گئی تھی۔ فلم ’شیرنی‘ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس فلم کو ’ایمازون پرائم‘ پر کافی پذیرائی ملی ہے جس سے انہیں محسوس ہوتا ہے کہ کرونا کی وبا کے دوران یہ فلم عوام کے لیے انٹرٹینمنٹ کے ساتھ مثبت پیغام پہنچانے میں کامیاب ہوئی ہے.۔ انہوں نے کہا: ’انسان کو قدرت سے پیار ہوتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ فلم لوگوں کو چھو چکی ہے۔‘ قدرت اور اس کے تحفظ کے حوالے سے فلم بناننے کے لیے شیرنی کو ہی منتخب کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے امیت نے کہا: ’شیر فوڈ چین میں سب سے اوپر ہوتا ہے اور اسے بچائیں گے تو آپ ان تمام جانوروں کو بچا سکیں گے جو اس فوڈ چین میں نیچے ہوتے ہیں۔‘ ودیا بالن کو فلم کے مرکزی کردار میں کاسٹ کرنے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے ودیا کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے اور جب انہوں نے فلم کی مصنفہ سے پوچھا کہ کیا مرکزی کردار میں ودیا کو لیا جا سکتا ہے تو انہوں نے بھی ہاں میں جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ فلم ایک فارسٹ آفیسر پر مبنی ہے اس لیے اس کو بنانے سے پہلے ٹیم نے کئی خاتون فارسٹ آفیسرز سے ملاقاتیں کیں اور ان کے انٹرویوز کیے۔ ودیا بالن کے کردار سے متعلق انہوں نے بتایا: ’ودیا بالن کا کردار کُھلے دماغ کی خاتون کا ہے جو جانتی ہیں کہ انہیں غیر ضروری جھگڑے نہیں کرنے، دشمنیاں نہیں بنانیں اور ساری توجہ اپنے اصل ہدف کی جانب مرکوز رکھنی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اس فلم میں جنگل بھی ایک کردار ہے اور اس فلم کی عکس بندی بھی ایسے کی گئی ہے کہ جس سے دیکھنے والوں کو یہ لگے کہ صرف وہ ہی نہیں جنگل بھی انہیں دیکھ رہا ہے۔

SEE NOMINATION →
سوشانت کی موت کو ایک سال، بالی وڈ ہمیشہ کے لیے منقسم

14 جون 2020 کو بھارتی فلم انڈسٹری اس وقت سکتے میں چلی گئی جب ایک جوان اور کامیاب 34 سالہ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خود کشی کی خبر سامنے آئی۔ سوشانت کی موت نے ان کے مداحوں کو تو دکھ دیا ہی مگر ان کی موت نے بالی وڈ میں ایک ایسا ’پینڈورا باکس‘ کھول دیا، جس سے اقربا پروری، حسد، منی لانڈرنگ اور منشیات کے استعمال کی خبریں سامنے آنے لگیں۔ بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے سوشانت سنگھ کی موت نے بالی وڈ کی گلیمرس دنیا سے پردہ بھی اٹھایا اور ان کی موت کے ایک سال بعد بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید بالی وڈ ہمیشہ کے لیے منقسم ہوگیا ہے۔ سوشانت سنگھ راجپوت کا شمار بالی وڈ کے ان چند حقیقی ہیروز میں ہوتا تھا جنہوں نے بہت کم عرصے میں اور بغیر کسی سفارش کے سہارے انڈسٹری میں جگہ بنائی تھی۔ انہوں نے بیک گراؤنڈ ڈانسر کے طور پر انڈسٹری میں قدم رکھا جس کے بعد انہیں سٹار پلس کے ڈرامے ’کس دیش میں ہے میرا دل‘ میں کام کرنے کی آفر ہوئی جس میں سوشانت نے ہیرو کے چھوٹے بھائی کا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد سے ان کا کیریئر پرواز کرنا شروع ہو گیا۔ سوشانت نے 2013 میں فلم ’کائی پو چے‘ سے بالی وڈ میں قدم رکھا۔ بالی وڈ میں قدم رکھنا سوشانت کا وہ خواب تھا جس کی تکمیل کے لیے انہوں نے اپنی انجینیئرنگ کی تعلیم بھی ادھوری چھوڑ دی تھی۔ یہ خواب شاید ان کی زندگی پر بھاری پڑا اور اس کی تکمیل کے دوران ہی وہ محض 34 سال کی عمر میں اس دنیا کو چھوڑ گئے۔ 14 جون 2020 کو سوشانت کی لاش ممبئی کے علاقے باندرا میں واقع ان کے فلیٹ میں ملی تھی، جسے دیکھ کر بظاہر لگ رہا تھا کہ انہوں نے خود کشی کی ہے۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور ہر کسی کا پہلا ردعمل یہی تھا کہ آخر ایسا ہوا کیوں؟ سوشانت کی موت کے بعد یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ وہ ڈپریشن کا شکار تھے اور اس پر قابو پانے کے لیے ادویات کا استعمال کر رہے تھے۔ دوسری جانب ان کی موت کے سلسلے میں اداکارہ ریا چکروتی کا نام بھی سامنے آنے لگا اور انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ایسے میں 15 جون 2020 کو بھارتی اداکارہ کنگنا رناوٹ نے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ویڈیو میں سوشانت کی موت کا الزام بالی وڈ پرعائد کیا اور کہا کہ یہ ایک طے شدہ قتل تھا خودکشی نہیں جس کے ذمہ دار بالی وڈ کے ’بڑے‘ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقربا پروری نے سوشانت کی جان لی۔ کنگنا کے بیان کے بعد بالی وڈ فلم نگری کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑگئی اور بظاہر ایسا لگنے لگا کہ بالی وڈ دو دھڑوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ سوشانت سنگھ کی تصاویر جاری ہوئیں تو ان کے مداحوں نے بھی ان کی موت کو خودکشی کا نتیجہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا۔ کنگنا کے بیان کے بعد بھارتی میڈیا پر یہ خبر ہفتوں تک موضوع بحث رہی اورسوشل میڈیا پر کرن جوہر، عالیہ بھٹ اور سلمان خان کے خلاف ٹرینڈز چلنے لگے۔ جب سپریم کورٹ نے سوشانت سنگھ راجپوت کی موت کی تحقیقات کا حکم دیا تو ایسی کئی حقیقتوں سے پردہ اٹھا جن پر یقین کرنے کے لیے بالی وڈ کے مداح تیار نہ تھے۔ ان کے کیس میں ایک تحقیقاتی پہلو منی لانڈرنگ کا بھی نکلا اور اس پہلو سے بھی تحقیقات کی گئیں۔ انڈپینڈنٹ اردو نے بالی وڈ کے دو دھڑوں میں بٹنے کے حوالے سے شوبز صحافی عمیر علوی سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ ’بالی وڈ ہمیشہ سے دو حصوں میں ہی بٹا ہے۔ جہاں ایک طرف ’سٹار کڈز‘ ہوتے ہیں جنہیں صرف شوق کی بنا پر انڈسٹری میں چانس مل جاتا ہے جب کہ دوسرا وہ طبقہ ہے، جسے بے پناہ محنت کرکے اپنی جگہ بنانی پڑتی ہے۔ بالی وڈ میں سٹار کڈز ہمیشہ سے ایک مراعات یافتہ طبقہ رہے ہیں اور سوشانت سنگھ راجپوت کی موت نے اسے بس ایک مرتبہ پھر واضح کردیا ہے۔‘ سوشانت کی موت کے بعد کرن جوہر اور دیگر کے خلاف چلنے والی سوشل میڈیا مہم اور مستقبل میں اس کے اثرات کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ’اقربا پروری اسی وقت پروان چلتی ہے جب آپ کے پاس ٹیلنٹ نہیں ہوتا، اگر آپ کے پاس ٹیلنٹ ہے تو 10 فلمیں فلاپ ہوں گی لیکن 11ویں ہٹ ہو جائے گی جیسا کہ امیتابھ بچن کے ساتھ ہوا۔ ان کے تو والدین بالی وڈ کا حصہ نہیں تھے، ایسے ہی اگر ہم راجندر کمار کے بیٹے کمار گورو کی مثال لیں تو ان کی پہلی فلم ہٹ ہوئی تھی مگر پھر ان کی فلمیں ہٹ نہیں ہوئیں تو وہ خود ہی ختم ہو گئے۔ یہ بالی وڈ کا فارمولہ ہے جو ہمیشہ سے چل رہا ہے اور ہمیشہ چلتا رہے گا۔‘ سوشانت کی موت کی تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے ڈرگ سکینڈل سے متعلق عمیر علوی کا کہنا تھا کہ ’ہلہ بول اور پیج تھری جیسی فلموں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ بالی وڈ میں دراصل ہوتا کیا ہے، اس میں کوئی نئی چیز تو تھی ہی نہیں اور دوسری جانب بھارتی میڈیا تو سنسنی پر ہی زندہ ہے تو یہ بھی نیا نہیں ہے کہ شوبز انڈسٹری سے وابستہ افراد ممنوعہ ادویات لے رہے تھے۔‘ بھارتی شہر پونے میں موجود انڈین ایکسپریس کے لیے کام کرنے والے صحافی عتیق شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو کو اس حوالے سے بتایا کہ ’بالی وڈ سے تعلق رکھنے والے زیادہ تر افراد اور ان کی سوچ ہندومت کے دائیں بازو کے خیالات کے مخالف ہے، یہی وجہ ہے کہ مودی حکومت جو 2019 کے انتخابات کے بعد سے ہندوتوا نظریے کو نافذ کرنے کی خواہش رکھتی ہے اسے سوشانت کی افسوس ناک موت کے بعد موقع مل گیا کہ وہ بالی وڈ کو آڑے ہاتھوں لے سکے۔‘ انہوں نے کہا: ’میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ بالی وڈ میں دراڑ ہے۔ میرے خیال میں یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ مودی سرکار نے سوشانت کی موت کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کو بالی وڈ میں ’نظریاتی ہمدرد افراد‘ کے ساتھ مل کر اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی۔ بالی وڈ کے کچھ افراد کے علاوہ کسی نے بھی مودی سرکار کی اس حکمت عملی کے خلاف ’فائٹ بیک‘ نہیں کیا۔‘ عتیق شیخ نے مزید کہا: ’وزیر اعظم نریندر مودی خود کو اس نظام کو بدعنوانی سے پاک کرنے والے رہنما کے طور پر دکھانا چاہتے ہیں۔ وہ انسداد بدعنوانی کے نام پر منتخب ہوئے مگر وقت کے ساتھ ساتھ ریاست کو ’ہندوتوا‘ بنانے کی علامت بن گئے۔‘ ’لہٰذا حکومت نے پہلے سے ہی حکومت کے زیر اثر میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے سوشانت کی موت پر ایک تنازع کھڑا کیا تاکہ بالی وڈ میں ’آپریشن کلین اپ‘ کیا جا سکے۔ میڈیا نے حکومتی ایجنسیز کے ذریعے چیٹس (Chats) لیک کروائیں اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ بالی وڈ ایک ایسی انڈسٹری ہے جس کا انتظام منشیات کے عادی، اخلاقی طور پر دیوالیہ ملک دشمن اور اسلام پسند اقربا پرور افراد کے ہاتھوں میں ہے۔‘ بقول عتیق شیخ: ’خاص طور پر سوشانت کے کیس میں بالی وڈ کے ’بڑوں‘ کی جانب سے بہت کم مزاحمت کی گئی۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تمام تر تنقید کا نشانہ خواتین کو بنایا جا رہا تھا اور مرکزی ملزمہ ریا چکروتی بھی انڈسٹری کا ’برا نام‘ نہیں تھیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی جان لیا تھا کہ مودی سرکار ناقدوں کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھتی۔ اس سب کے نتیجے میں ملک بھر میں ایک خاتون کے کردار کو داغدار بنا کر پیش کیا گیا جنہیں اس سے پہلے صرف تعریفی کلمات سے ہی نوازا جاتا تھا۔‘ ایک سال بعد، سوشانت سنگھ اور اس کی موت سے جڑی پراسراریت کی اب کوئی اہمیت نہیں رہی کیونکہ بھارت کی توجہ کا مرکز اب کرونا وائرس کی دوسری لہر سے ہونے والی تباہی ہے۔

SEE NOMINATION →