A new dimension

عالمی یوم ماحولیات اس بار ماحولیاتی نظام کی بحالی کی سوچ کو لے کر منایا جارہا ہےماحولیاتی نظام کی بحالی دراصل قدرتی ماحول سے جڑی ہے۔۔کراچی ماحولیات کے حوالے سے مثالی شہر نہیں۔ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کراچی کا علاقہ ڈیفنس جہاں اب بھی چند مقامات ایسے ہیں جو فطرت کے قریب ہونے کی وجہ سے نایاب پرندوں کو اپنی جانب راغب کررہے ہیں۔ ڈیفنس فیز 8 کی ریتیلی زمین اب بھی بہت سے جنگلی پودوں کی افزائش کرتی ہے اور یہی قدرتی ماحول کراچی سے روٹھے بہت سے پرندے کو یہاں راغب کررہا ہے مرزا نعیم بیگ وائلد لائف فوٹو گرافر ہیں یہ یہاں عارضی پڑاو ڈالنے والے پرندوں کی دلچسپ سرگرمیوں کو اپنےکیمرے میں قید کرتے رہتے ہیں۔ امور فیلکن کا پہلا فوٹوگرافک ریکارڈ ڈیفنس فیز 8سے ہی سامنے آیا کراچی میں نظر آنے والے پرندوں کے ریکارڈز مختلف تحقیقی مقالوں کا حصہ بن رہے ہیں۔ جس صبح کا آغاز چڑیوں اور خوش رنگ پرندوں کی چہچہاہٹ سے ہوا کرتا تھا اب وہاں گاڑیوں کے ناگوار شور سنائی دیتا ہے۔سماعتیں پرندوں کی بولیوں کو ترس رہی ہیں۔ایسے میں ماحولیاتی نظام برباد کرکے آپ چاہے کتنے ہی آشیاں بسالیں۔۔یہ فطری ماحول سے دور ہونے کی کمی ہم انسان ہمیشہ محسوس کرتے رہیں گے۔

SEE NOMINATION →
ژوب سے گزرتی سائبیریائی کونجوں کو غیر قانونی شکاریوں سے خطرہ

I am a Balochistan-based journalist. My area of coverage falls in the international route (Green flyway) of Siberian cranes – endangered species. The centuries-old migration through Pakistan is still an amazing phenomenon and the migration of cranes heralds the arrival of spring but unfortunately with each passing season, the flocks of cranes lose their numbers and strength due to their ruthless hunting and poaching along their route between the Siberian forests and Indian wetlands. Their perilous journey starts from Siberia in September-October and by March-April the cranes fly back to their native habitat. As soon the migration season approaches, dozens of influential hunting parties set up their camps along their route, from where they trap the long-necked birds in a large number. After the cranes are captured, the poachers cut their wings off and confine them to cages to smuggle and sale in the markets illegally. In many cases the cranes are forcefully crammed into small boxes which paralyze their legs. Although Pakistan is a signatory to the Bonn Convention on Migratory Species but the mal-practice is still in full swing. The story (text and video) has been published on Independent Urdu – www.independenturdu.com. The poachers and concerned officials have been interviewed on cranes hunting.

SEE NOMINATION →
کاربن ڈائی آکسائیڈ

ماحولیا تی تبدیلی کے بارے میں بیشتر پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شائد صر ف اہل مغرب کا مسئلہ ہے اور ہم اس سے مکمل طور پر محفوظ ہیں ،تاہم ایسا سمجھناقطعی غلط ہے ۔ہمارے ملک میں بھی ماحولیاتی تبدیلی اسی طر ح باعث نقصان ہے ،جس طر ح مغربی ممالک میں ہے ۔مزید بر آں پاکستا ن میںبتدریج کم ہوتی ہوئی برف باری ،دریائوں میں پانی کی کمی اور سرد یوں کا گھٹتا ہوادورانیہ چند ایسی علامات ہیں جو شاید ہمارے لیے تعجب کا باعث نہ ہو ں ،مگر سائنس دانوں کے لیے پریشان کن ہیں ۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ماحول دشمن گیس کہا جا تا ہے ۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ فضامیں کار بن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ انسانوں کی پیدا کردہ سب سے اہم گرین ہائوس گیس ہے جو حالیہ عشروں میں زمین کے درجہ ٔ حرارت میں اضافے کا باعث رہی ہے ۔ انسان، کوئلہ ،گیس اور تیل جلاکر یہ گیس پیدا کرتے ہیں جو فضامیں جمع ہو جاتی ہے۔ جنگلات اور پودے اس گیس کو فضا سے جذب کرلیتے ہیں ۔ہوائی میں واقع تجربہ گا ہ کے سر براہ جیمز بٹلر کے مطابق اس ماحول دشمن گیس کی مقدار ہر گھنٹے ،روزانہ اور ہر ہفتے بدلتی رہتی ہے۔2015 ء میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی ہوئی مقدار کے حوالے سے عالمی موسمیاتی ادارے (world meterological organization) کی جانب سے ایک رپورٹ تیار کی گئی تھی ،جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2015 ء پہلا سال ہے ،جس میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کی شرح 400 حصے فی ملین کی اوسط تک پہنچ گئی تھی ۔ اس ماحول دشمن گیس کی بڑھتی ہوئی شرح نے دنیا کو ایل نینو فیکٹر کی پریشان کن صورت حال سے دوچار کردیا تھا ۔ ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سےایل نینو فیکٹر جنگلات اور سمندر وں میں کاربن کو جذب کرنے کی صلاحیت کم کردیتا ہے۔ حال ہی میں کی جانے والی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ زمین کی فضا میں مضر گیس کا ربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح انسانی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے

SEE NOMINATION →
Eco-friendly roofs of buildings in Lahore

Lahore is a horizontal city. Second largest in Pakistan and one of the fastest growing cities in the world. Housing consists of low rise 2 to 3 level homes with single or multiple families. Over the years private developers have acquired agricultural land close to the city and developed organized housing which caters to the increasing population and migration from smaller cities to Lahore for work opportunities and higher education. Productive Agricultural land has been replaced by flat roofs which absorb heat all day and emit it in the evening. To counter the heat, owners used air conditioning which adds to the problem because of the heat generated by the outdoor units. As the agriculture land is occupied by housing, food now comes from areas which are many kilometers out of town and add to the cost of daily use products like vegetables grain and dairy. One effective solution is Usable green roofs. With little extra cost, the heat absorbing roof top can be converted to a garden which can use the sunlight to its advantage. Food can be grown and small trees like lemon and oranges can also easily grown on roof tops. The house remains cool due to the earth and moisture on the roof and over all temperature of the neighborhood drops so do the electricity bills and cost of food items. Architect  Rashid Rasheed has been experimenting with such green roofs over the last 10 years. These roofs are fairly easy to make and maintain. With drop irrigation and sprinklers , they require very little water and the in used water can be drained and used again to irrigate plants on the ground level. Green roofs can also be easily combined with roof mounted solar Panels. They provide free energy which giving the roof shading for certain plants to grow better. These roofs can change the entire climate of Lahore and contribute to production of Food and create spare energy for vertical buildings or industry.

SEE NOMINATION →
ماحول دوست طیارے آنے والے ہیں

سائنس دانوں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان کو وسیع سے وسیع تر کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور ابھی بھی اس میں مزید نت نئی چیزیں متعارف کروانے میں سرگرداں ہیں ۔اس ضمن میں حال ہی میں ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی ائیر بس نے ایک ایسا طیارہ ڈیزائن کیا ہے جو ہائیڈروجن گیس پر چلنے والا اور کوئی آلودہ اخراج نہ کرنے والا پہلا طیارہ ہے ۔کمپنی کو اُمید ہے کہ یہ طیارہ 2035 ء تک پرواز کے لیے تیار ہوگا ۔ یہ دنیا کا پہلا کمرشل طیارہ ہے جوکسی بھی قسم کی آلودگی کااخرا ج نہیں کرے گااس کا ڈیزائن ایک عام طیارے کے جیسا ہی ہے ۔اس میں 200 مسافر کے بیٹھنے کی گنجائش ہے ۔کمپنی کے مطابق اس کے انجن کو ایک دفعہ بھرنے کے بعد 2300 میل تک چلایا جاسکتا ہےابھی اس کی پروا ز صرف اٹلانٹک اوشن تک رکھی گئی ہے ۔فی الحال یہ صرف ٹرانسکنٹینینٹل روٹس پر ہی پرواز کرے گا ۔کمپنی کے مطابق اس کو مختصر سفر کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے ۔اس کے لیے کمپنی کے پاس تین طر ح کے ڈیزائن کا کونسیپٹ ہے ۔جنہیں ’’زیروای ‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔پہلا ڈیزائن بالکل ایک عام کمرشل جہاز کی طرح ہے ۔تا ہم اس کے پر لمبے اور لچکدار ہوں گے۔دوسرا ڈیزائن ایک ایسے جہاز کا ہے، جس کے چھ بلیڈ والے پروپیلر ہوتے ہیں، جب کہ تیسرا ڈیزائن زیادہ جدید ہے، جس میں جہاز کے پر اور سیٹوں کا حصہ 'بلینڈڈ ہوگا۔یہ ابھی 1,150 میل تک سفر کرسکتا ہے

SEE NOMINATION →