کورونا ویکسین نہ لگوانے کی سزا،سم بلاک کر دو

عید الاضحیٰ کے موقع پرگزشتہ برس کی مانند اس بار بھی کورونا ایس اوپیز پر کہیں عملدر آمد نہ کیا گیا جبکہ بعض نے حکومتی ہدایات و احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے معمولات زندگی جاری رکھے۔ ویکسینشن کے باوجود بھارت سے آمدہ ڈیلٹا وائرس کے وار اور کورونا کے بڑھتے کیسز نے ہر دوسرے شخص کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور جبکہ کورونا وائرس کی چوتھی لہر نے حکومت کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کوروناوائرس سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس اجلاس میں صوبہ بھرمیں ریسٹورنٹس اور شادی ہالز میں انڈور سروس ، آٹ ڈور ڈائننگ بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم جہاں امتحانات جاری ہیں ان پر یہ فیصلہ لاگو نہیں ہو گا یعنی امتحانات ایس اوپیز کے تحت اپنے شیڈول کے مطابق ہونگے ۔ شہریوں کے لےئے بالخصوص ”موبائل فون وارمز“ کے لئے سب سے بڑی تشویش ناک خبر یہ ہوئی کہ ویکسی نیشن نہ کروانے والوں کی موبائل سم بلاک کر دی جائے جس پر عوام اپنے موبائلز آن رکھنے کے لئے متفکر ہو گئے۔کورونا کی تشویشناک صورت حال دیکھتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچا جا سکتا ہے کہ حکومت قوم کے ساتھ اس بارکھلواڑ نہیں کر رہی بلکہ دعالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حالات کچھ بہتر نہیں ۔پاکستان میں کورونا کا دوسرا وار نہیں بلکہ پہلا وار ہی ختم نہیں ہوا تھا۔ اب چوتھی لہر خطر ناک بتائی جا رہی ہے۔ قوم ہوش کے ناخن لے۔

SEE NOMINATION →
پاکستان میں گلابوں کی پیداوار کی صنعت: سُرخ گلابوں کا کھیتوں سے درگاہ تک کا سفر

سندھ میں گلاب کے پھولوں کی کاشت سے ہزاروں خواتین اور بچیوں کی زندگی جڑی ہے جو ان کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔ اشفاق میمن کے مطابق گلاب کے کھیتوں میں کام کرنے والی زیادہ تر خواتین کا تعلق گوٹھ ظہیر بروچی، وانکی واسی اورگوٹھ غلام محمد وغیرہ سے ہے۔ ایسی ہی ایک خاتون 30 سالہ حکیماں ہیں جو چھ بچوں کی ماں ہیں اور قریبی گاﺅں کی رہائشی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اُن کے گاﺅں کے تمام لوگ ہی کھیتوں میں مزدوری کرتے ہیں اور انھیں پھول توڑنے کا معاوضہ 45 روپے فی کلو ملتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک دن میں وہ اور ان کی دو بیٹیاں مجموعی طور پر 20 کلو کے قریب پھول توڑ لیتی ہیں۔ حکیماں اور ان کی بیٹیوں کے تیزی سے چلتے ہاتھ بتا رہے تھے کہ وہ اس کام میں ماہر ہیں۔ پھول جمع کرنے کے لیے یہ خواتین اپنے بڑے سے دوپٹوں کی ایک سائیڈ میں تھیلا سا بنا لیتی ہیں۔ ان خواتین میں سے اکثر کے شوہر بطور لیبر پھولوں ہی کے کام سے وابستہ ہیں۔

SEE NOMINATION →
نظامِ تعلیم کورونا کی زد میں

عالم گیر وبا کووِڈ 19- نے جہاں دنیا بھر کی معیشت، معمولاتِ زندگی متاثر کیے ، وہیں تعلیم کا پہیہ بھی گھومتے گھومتے اچانک رُک گیا ۔ آج سے قریباً ایک سال پہلے جب چین میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ،تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک نادیدہ وائرس پوری دنیا میں اس قدر تباہی مچادے گا کہ آن کی آن میں سارا کاروبارِ حیات ہی مفلوج ہوکے رہ جائے گا۔ ویسے تو پورا سال ہی تعلیمی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، لیکن جنوری سے موسمِ گرما کی تعطیلات تک کا عرصہ تمام ہی اداروں میں اہم سمجھا جاتا ہے کہ اسی دوران اسکولز میں نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوتا ہے۔ نویں، دسویں ، گیارہویں، بارہویں جماعتوں کے بچّے امتحانات کی تیاریوں میں مشغول ہوتے ہیں، ان کے پریلیمنری امتحانات کا سلسلہ ، کوچنگ سینٹرز میں ایکسٹرا کلاسز، نصاب جلد از جلد مکمل کروانے اور امتحانات کی تیاری کروانے کا عمل زورو شور سے جاری ہوتا ہے، تو دوسری جانب جنوری سے جامعات کی کلاسز بھی شروع ہوجاتی ہیں۔ سو، اس تناظر میں دیکھا جائے تو سال کے ابتدائی چھے ماہ تعلیمی حوالے سے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ مگر… 26 فروری 2020ء کے بعد سے جہاں پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث تمام شعبہ ہائے زندگی متاثر ہوئے، وہیں شعبۂ تعلیم بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ ویسے تو مُلکِ عزیز میں یہ شعبہ پہلے ہی خاصی عدم توجّہی کا شکار ہے، لیکن کورونا نے تو رہی سہی کسر بھی پوری کردی کہ ابتدائی طور پر پندرہ روز کے لیے بند ہونے والے تعلیمی ادارے پھر کہیں ستمبر میںجا کے کُھلے۔ اس دوران پوری دنیا کی طرح پاکستانیوں نے بھی ’’آئسو لیشن، قرنطینہ (Quarantine) ایس او پیز،لاک ڈاؤن، سوشل ڈسٹینسنگ ‘‘ جیسی اصطلاحات سیکھیں، تو ’’آن لائن کلاسز‘‘ کی اصطلاح بھی زبانِ زدِ عام ہوگئی۔ واضح رہے کہ آخر الذّکر وہ اصطلاح ہے، جس نے طلبہ کو سُست، کاہل بنانے کے ساتھ تعلیم سے مزید دُور کردیاہے ۔

SEE NOMINATION →
کورونا ویکسین نہ لگوانے کی سزا،سم بلاک کر دو

عید الاضحیٰ کے موقع پرگزشتہ برس کی مانند اس بار بھی کورونا ایس اوپیز پر کہیں عملدر آمد نہ کیا گیا جبکہ بعض نے حکومتی ہدایات و احکامات کو پس پشت ڈالتے ہوئے معمولات زندگی جاری رکھے۔ ویکسینشن کے باوجود بھارت سے آمدہ ڈیلٹا وائرس کے وار اور کورونا کے بڑھتے کیسز نے ہر دوسرے شخص کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور جبکہ کورونا وائرس کی چوتھی لہر نے حکومت کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کوروناوائرس سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس اجلاس میں صوبہ بھرمیں ریسٹورنٹس اور شادی ہالز میں انڈور سروس ، آٹ ڈور ڈائننگ بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم جہاں امتحانات جاری ہیں ان پر یہ فیصلہ لاگو نہیں ہو گا یعنی امتحانات ایس اوپیز کے تحت اپنے شیڈول کے مطابق ہونگے ۔ شہریوں کے لےئے بالخصوص ”موبائل فون وارمز“ کے لئے سب سے بڑی تشویش ناک خبر یہ ہوئی کہ ویکسی نیشن نہ کروانے والوں کی موبائل سم بلاک کر دی جائے جس پر عوام اپنے موبائلز آن رکھنے کے لئے متفکر ہو گئے۔کورونا کی تشویشناک صورت حال دیکھتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچا جا سکتا ہے کہ حکومت قوم کے ساتھ اس بارکھلواڑ نہیں کر رہی بلکہ دعالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حالات کچھ بہتر نہیں ۔پاکستان میں کورونا کا دوسرا وار نہیں بلکہ پہلا وار ہی ختم نہیں ہوا تھا۔ اب چوتھی لہر خطر ناک بتائی جا رہی ہے۔ قوم ہوش کے ناخن لے۔

SEE NOMINATION →
خواتین کی قیادت ’’کووڈ ورلڈ‘‘ میں مساوی مستقبل کا حصول

مانا کہ ہم اکیسویں صدی کے اکیسویں سال میں سانس لے رہے ہیں لیکن خواتین کے حوالے سے کچھ لوگوں کی فرسودہ سوچ آج بھی نہیں بدلی کہ وہ یہی سمجھتے ہیں کہ عورت صرف گھر ، بلکہ با ورچی خانہ ہی سنبھال سکتی ہے۔ مگروہ کیا ہے ناں کہ ’’وقت سب کا آتا ہے‘‘، تو گزشتہ برس کورونا وائرس کی عالم گیر وبا نے یہ ثابت کر دیا کہ چاہے گھر سنبھالنا ہو، بچّے،دفتر یا مُلک خواتین کسی معاملے میں پیچھے نہیں۔ اور اب تو ان کی لیڈر شِپ اسکلز کے چرچے دنیا بھر میں ہو رہے ہیں۔ جیسے ایک ماں اپنے بچّے کے لیے تڑپ اُٹھتی اور وقت آنے پر سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے، بالکل ایسے ہی خواتین نےان وبائی ایّام میں فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے بطور ہیلتھ ورکرز، ٹیچرز، صحافیات اور سب سے بڑھ کر سربراہانِ مملکت کے طور پرجس موثر انداز سے کورونا وائرس کا مقابلہ کیا ، اس کی مثال نہیں ملتی۔ علاوہ ازیں، وائرس سے نمٹنے ، بچنے کے لیےان کے انوکھے خیالات، آئیڈیاز نے ثابت کر دیا کہ ان کا زاویۂ نگاہ کتنا وسیع، تخلیقی اوراچھوتاہے۔ ان کی مرتّب کردہ حکمتِ عملی اور اقدامات نے ظاہر کیا کہ قانون ،پالیسی اور فیصلہ سازی میں ان کا کردار قابلِ ستایش ہے۔ خواتین سربراہان نے نہ صرف صحت کے شعبے کے لیے موثر حکمتِ عملی ترتیب دی، بلکہ کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات ، سماجی و اقتصادی اثرات سے نمٹنے کی بھی ہر ممکن سعی کی۔ بر وقت موثراقدامات کیے ، فی الفور نوٹسز لیے ، پالیسیز بنائیں اور انتظامات کیے۔

SEE NOMINATION →
کورونا زدہ13ویں عالمی اردو کانفرنس کا کامیاب انعقاد

شہر قائد میںاتوار 6دسمبر 2020 کورونا وائرس سے متاثرہ مگر کامیاب 13ویں عالمی اردو کانفرنس کا آخری دن تھا۔چار روزہ کانفرنس کے افتتا حی اجلا س سے آخری روز تک کانفرنس کے منتظمین بالخصوص پاکستان آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ اور عہدیدران کو خراج تحسین پیش کیا جاتا رہا ۔کانفرنس کے مختلف چہروں پر ماسک لگائے، بار بار سینیٹائزرزکا استعمال کرتے ہوئے سیشنز میں احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا شرکاءایک دوسرے سے بغلگیر اور مصافحہ کرنے سے کتراتے دکھائی دئےے۔ بہر حال کانفرنس میں’ پھونک پھونک کر پیر رکھنے کے مصدق‘ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام 13ویں عالمی اردو کانفرنس میں براہ راست شرکت و خطاب کر نے والے اہل علم و دانشوروں نے کہا ہے کہ زبان کوئی بھی ہو نفرت نہیں محبت سکھاتی ہے اردو نے پوری دنیا میں محبت کا پیغام ہی پھیلایاہے۔ ادیبوں اور دانشوروں کو معاشرے کی رہنمائی کرنا چاہئے۔

SEE NOMINATION →