دمکتی اسکرین بچوں کی بصارت نگل رہی ہے

نیلے آسمان پر ستاروں کے جھرمٹ میں چمکتا چاند، قوس قزح کے رنگوں میں نہاتا سورج یہ سب حسین نظارے آنکھ ہی سے دکھائی دیتے ہیں۔ آنکھیں انسانی جسم کا ایک ایسا حصہ ہیں جن کا ذکر طب سے زیادہ شعر و ادب کی کتابوں میں ملتا ہے۔ یہی آنکھیں بن کہے بہت کچھ کہہ جاتی ہیں، یہی آنکھیں ہمیں سب سے زیادہ دھوکا دیتی ہیں۔ ایک طرف صحرا میں چمکتے پانی کی جھلک دکھاتی ہیں، تو دوسری جانب نخلستان کو صحرا کے روپ میں پیش کرتی ہیں۔ آنکھیں نعمت خداوندی ہیں لیکن ہم میں بہت سے والدین دانستہ و نادانستہ طور پر اپنے بچوں کو اندھیروں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ہم اس بات کا مشاہدہ کسی بھی تقریب میں کرسکتے ہیں، جہاں بچہ تھوڑا سا رویا، تھوڑی ضد کی، والدین فوراً جیب سے موبائل نکال کر بچوں کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ بچے کیا دیکھ رہے ہیں یہ ایک الگ معاملہ ہے، قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان کا اسکرین ایکسپوژر کتنا اور کتنے نزدیک سے ہے، عموماً دیکھا گیا ہے کہ بچے موبائل کی برائٹنیس کو فُل کرکے محض دو انچ کے فاصلے پر گھنٹوں یوٹیوب پر ویڈیو یا کوئی گیم کھیل رہے ہوتے ہیں۔ لیکن والدین اس اہم مسئلے کو قطعی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنے معمولات میں مشغول رہتے ہیں۔ بینائی خدا کی دی ہوئی لامحدود نعمتوں میں سے ایک ہے، لیکن ان آنکھوں میں جب تک روشنی ہے ، اس وقت تک آپ کے بچوں کی زندگی میں رنگ ہیں۔ اپنے بچے کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے آج ہی پہلا قدم اٹھائیں، اس کا اسکرین ٹائم کم سے کم کریں، اسے موبائل گیمز کے بجائے ایسے کھیلوں کی ترغیب دیں جس میں جسمانی سرگرمی زیادہ ہو۔

SEE NOMINATION →
تمباکو: غمِ حیات کا مداوا تو نہیں

عالمی ادارہ صحت، نےپاکستان کو انسداد تمباکو نوشی کےضمن میں کام یاب اقدامات اٹھانے پر ایمرو ریجن میں نمبر وَن قرار دیا ہے۔ لیکن غربت ، بیماری اور معاشی مواقعے ضایع کرنے اور ملک کو سالانہ اربوں روپے کے علاج معالجے کے اخراجات اور پیداواریت کے نقصان سے بچانےکے لیے ماہرین کثیرالجہتی کوششوں پر زور دیتے ہیں۔ان کوششوں کا ایک اہم نکتہ تمباکو استعمال کرنے والے نئے صارفین پیدا ہونے سے روکنا ہے۔ اس کے لیے ہمیں بچّوں پر کام کرنا بہت ضروری ہے ، کیوںکہ بچپن یا لڑکپن میں ہربچّے کی زندگی میں کم ازکم ایک ایسا موقع ضرور آتا ہے جب وہ اس لعنت کا شکار ہوسکتا ہے۔یہ اس کے لیے بہت اہم اور فیصلہ کُن مرحلہ ہوتا ہے۔ اسے اس مرحلے سے بچانے کے لیے تمباکو کی مصنوعات کے نرخ بہت زیادہ کردینے اور بچّوں کی گزرگاہوں سے تمباکو کی تمام مصنوعات اور ان کے اشتہارات ہٹادینے کی تجاویز بہت موثر مانی جاتی ہیں۔

SEE NOMINATION →
”جاپانی پھل “۔ ۔ ۔ فائدے بے شمار

قدرت نے انسان کے لئے موسم کے لحاظ سے انواع و اقسام کے پھل‘ سبزیاں اور سینکڑوں دیگر نعمتیں عطا کی ہے۔ چنانچہ آج کل دکانوں اورگلی کوچوں میں ٹھیلوں‘ اسٹالز پر سیب‘ انار‘انگور‘ کیلا وغیرہ وافر مقدار میں ملتے ہیں۔ وہیں سنگترہ یا نارنجی رنگت لیکن شکل و شبہات میں ٹماٹر جیسا پھل دستیاب ہے جسے جاپانی پھل کہا جاتا ہے۔ جاپانی پھل کو ”آملوک“ اور انگریزی میں Persimmon کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں آملوگ نام سے ملنے والے پھل کی جسامت اس سے کہیں کم ہوتی ہے۔ سخت چھلکے میں بند جاپانی پھل کا نرم اور پلپلا گودا ابتدائی مراحل میں کسیلا ہوتا ہے جس کا ذائقہ فرحت بخش اور من کو لبھانے والا ہوتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں سطح زمین سے 3 تا5 ہزار فٹ کی بلندی پر کاشت کرنے والے اس پھل کا تعلق بنیادی طور پر چین سے ہے تاہم یہ جاپان میں جاپہنچا جہاں پر اس کی خاطر خواہ کاشت ہوئی اور دیگر ممالک کو برآمد کیا جانے لگا۔ پاکستان میں بھی جاپان سے برآمد ہوا جس کی بنا پر اسے جاپانی پھل کہا جانے لگا۔ جاپانی پھل کی کئی اقسام ہیں۔ جاپانی پھل کی آج بھی سب زیادہ کاشت چین میں ہوتی ہے جوکہ20 لاکھ ٹن سالانہ ہے۔ بعد ازاں کوریا3 لاکھ ‘ جاپان 2 لاکھ60 ہزار‘ برازیل ایک لاکھ30 ہزار اور آزربائیجان میں ایک لاکھ ٹن سالانہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ایف او ایس ٹی اے ٹی کے مطابق جاپانی پھل کی دنیا بھر میں پیداوار50 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہے۔

SEE NOMINATION →
Covid-19 Corona Vaccination. Pigeon Hobby.Vaccination of Birds is also important.Report Nadeem Shahzad. کرونا کوویڈ -19 ویٹرنری ڈاکٹر کا کہنا ہے پرندوں جانوروں سے کرونا نہیں پھیلتا ۔ لیکن کرونا ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے پالتو پرندہ کو سیزن کی ویکسی نیشن ضرور کروائیں۔ رپورٹ ندیم شہزاد دن نیوز کراچی 03 ا

کوویڈ کو پوری دنیا نے اپبی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس صورت حال میں انسانی جان کی تو بات کی گئی لیکن پرندوان اور جانوروں کی بات نہیں کی گئی ان کی زندگی پر توجہ خاص نہی رہی اور خاص طور پر پاکستان میں ۔میں نے اس پر پہلے کوویڈ کے آغاز میں ہی رپورٹ چلائی جانوروں سے کرونا کس حد تک پھیلتا ہے یا یہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ کراچی کے سب سے سینئر ویٹرنری ڈاکٹر کو اپنی رپورٹ میں لیا۔۔۔ اس کے بعد تین اگست کو اس کو آگاہی و دلچسپی کے پہلو کو مد نظر رکھتے ۔کبوتر کے شوقین لوگوں کی چھتوں پر گیا ان کے پاس جہاں ایک ایک مالک شوقین نے چھ سو سے سات سو کبوتر رکھے ہیں۔۔۔۔ ان پر رپورٹ بنائی شوق بھی لوگ دیکھیں اور اپنے پرندوں کی ویکسی نیشن بھی کروائیں۔۔ کرونا ویکسی نیشن کی طرح پرندوں کی سیزنل نزلہ زکام کھانسی سانس کی ےگلیف کی ویکسی نیشن کرائی جائے۔۔۔اور ایک کبوتر باز نے اپنے تمام چھ سو کبوتروں کو ویکیسی نیشن کرائی۔ یہ کراچی کا بڑا کبوتر باز ہے۔ ایک انجکشن 250 سے 300 کا لگا۔۔۔ کبوتر بازی کا شوق پاکستان بھارت میں عروج پر ہے۔۔ ان کے گروپوں میں اس خبر کو بہت پذئرائی ملی۔ پاکستان اور بھات میں مشترکہ کبوتر باز واٹس اپ گروپوں میں جب میری رپورٹ چلی ۔۔۔تو پرندوان کے شوقین لوگوں نے اس کو اہم سمجھتے ہوئے ویکسی نیشن کرائی۔۔۔۔ کوویڈ پر ایک کوشیش جو رنگ لائی۔۔۔۔ و Pigeon Hobby.Vaccination of Birds is also important.Report Nadeem Shahzad. کرونا کوویڈ -19 ویٹرنری ڈاکٹر کا کہنا ہے پرندوں جانوروں سے کرونا نہیں پھیلتا ۔ لیکن کرونا ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے پالتو پرندہ کو سیزن کی ویکسی نیشن ضرور کروائیں۔ رپورٹ ندیم شہزاد دن نیوز . کراچی 03 اگست

SEE NOMINATION →
دمکتی اسکرین بچوں کی بصارت نگل رہی ہے

نیلے آسمان پر ستاروں کے جھرمٹ میں چمکتا چاند، قوس قزح کے رنگوں میں نہاتا سورج یہ سب حسین نظارے آنکھ ہی سے دکھائی دیتے ہیں۔ آنکھیں انسانی جسم کا ایک ایسا حصہ ہیں جن کا ذکر طب سے زیادہ شعر و ادب کی کتابوں میں ملتا ہے۔ یہی آنکھیں بن کہے بہت کچھ کہہ جاتی ہیں، یہی آنکھیں ہمیں سب سے زیادہ دھوکا دیتی ہیں۔ ایک طرف صحرا میں چمکتے پانی کی جھلک دکھاتی ہیں، تو دوسری جانب نخلستان کو صحرا کے روپ میں پیش کرتی ہیں۔ آنکھیں نعمت خداوندی ہیں لیکن ہم میں بہت سے والدین دانستہ و نادانستہ طور پر اپنے بچوں کو اندھیروں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ہم اس بات کا مشاہدہ کسی بھی تقریب میں کرسکتے ہیں، جہاں بچہ تھوڑا سا رویا، تھوڑی ضد کی، والدین فوراً جیب سے موبائل نکال کر بچوں کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ بچے کیا دیکھ رہے ہیں یہ ایک الگ معاملہ ہے، قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان کا اسکرین ایکسپوژر کتنا اور کتنے نزدیک سے ہے، عموماً دیکھا گیا ہے کہ بچے موبائل کی برائٹنیس کو فُل کرکے محض دو انچ کے فاصلے پر گھنٹوں یوٹیوب پر ویڈیو یا کوئی گیم کھیل رہے ہوتے ہیں۔ لیکن والدین اس اہم مسئلے کو قطعی طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنے معمولات میں مشغول رہتے ہیں۔ بینائی خدا کی دی ہوئی لامحدود نعمتوں میں سے ایک ہے، لیکن ان آنکھوں میں جب تک روشنی ہے ، اس وقت تک آپ کے بچوں کی زندگی میں رنگ ہیں۔ اپنے بچے کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے آج ہی پہلا قدم اٹھائیں، اس کا اسکرین ٹائم کم سے کم کریں، اسے موبائل گیمز کے بجائے ایسے کھیلوں کی ترغیب دیں جس میں جسمانی سرگرمی زیادہ ہو۔

SEE NOMINATION →
خیبر پختونخوا میں اتائیوں کے خلاف مضبوط شکنجہ تیار

ہمارے معاشرے کو جہاں بہت سے مسائل کا سامنا ہے وہاں اتائیت کا ناسور بھی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے اتائیت کا تیزی سے پھیلتا ہوا یہ مہلک جال صحت مند معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہےپاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر، گلی محلوں میں اتائی ڈاکٹروں کی بھر مار ہے یہ اتائی ڈاکٹر مختلف بھیس بدل کر ہر جگہ موجود ہیں کہیں حکیموں کی صورت میں تو کہیں جعلی ڈسپنسرز کا لبادہ اوڑھے، کہیں جعلسازوں اور نہ تجربہ کار اسٹاف کے روپ میں تو کہیں جعلی پیروں اور فراڈ ڈاکٹروں کے روپ میں جدید دنیا میں جہاں صحت عامہ کے شعبہ میں ٹیکنالوجی کی بھر مار ہے وہاں دوسری طرف ہمارا معاشرہ ان اتائی ڈاکٹروں کی بدولت کئی مہلک امراض کا شکار ہے ہمارے معاشرے میںاتائی ڈاکٹروں کی بہت سی اقسام موجود ہیں۔جن میں جعلی ایلوپیتھک ڈاکٹر ، جعلی دندان ساز، جراح ،کمپاؤنڈر، جعلی حکیم اور ہومیو پیتھک ڈاکٹرز شامل ہیں۔ عوام کی اکثریت کو دو وقت کی روٹی بمشکل سے میسر ہوتی ہے ایسے میں علاج و معالجہ کروانا آسان نہیں ہے۔کیونکہ ادویات اورعلاج اس قدر مہنگا ہے کہ غربت کے مارے افراد بیماریوں سے لڑتے لڑتے بلاآخر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں،اس حوالے سے حکومت خیبر پختونخوا نے صوبے میں پرائیویٹ ہسپتالوں، طبی اداروں، کلینکس اور مراکز صحت کی رجسٹریشن کے لئے 2005 ء میں این ڈبلیو ایف پی میڈیکل اینڈ ہیلتھ انسٹی ٹیوشنز اینڈ ریگولیشن آف ہیلتھ کیئر سروسز آرڈیننس 2002ء کے تحت ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی تھی تاہم کئی وجوہات کی بناء پر اتھارٹی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکی۔ وقت کے بدلتے تقاضوں کے پیش نظر صوبائی حکومت نے مراکز صحت وہسپتالوں کو خدمات کی بہتری کی غرض سے ایک موثر قانون کے اندر لانے کے لئے 2015ء میں خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن (کے پی ایچ سی سی) ایکٹ نافذ کیا اور اسی سال اگست میں بورڈ آف کمشنرز تعینات کئے کمیشن اپریل 2016 ء میں فعال ہوگیا جو اب تک ایک خود مختار بورڈ کے زیر انتظام کام کر رہا ہے انسانی زندگیوں کو ان اتائیت سے بچانے اور غیر مستند اور غیر قانونی کلینکس ٗلیبارٹریاں اور دیگر صحت سہولیات فراہم کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لینے کیلئے خیبرپختونخوا ہیلتھ کئیر کمیشن قائم کیا گیا ، تب سے ہی یہ ادارہ اتائیوں کے اڈوں کو سیل اور ان کو جرمانے کر رہا ہے مگر ہوتا یہ ہے کہ جرمانہ ادا کرنے کے بعد وہی اتائی دوبارہ سے اپنا کلینک چلانے لگتا ہے

SEE NOMINATION →
فیسٹولا دور حاضر کا اہم مرض ..

فیسٹولا (پیشاب بہنے کی بیماری) ناقابل علاج مرض نہیں ہے، لیکن اسے عمومی بیماری خیال کرکے وقت پر علاج نہیں کرایا جاتا، ایک اندازے کے مطابق دنیا میں 20سے 30لاکھ خواتین فیسٹولا کی بیماری کا شکار ہیں اور ہر برس قریباََ 50ہزار خواتین اس بیماری میں مبتلا ہورہی ہیں، ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباََ پانچ سے8ہزار خواتین سالانہ فیسٹولا کے مرض میں مبتلا ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے یہ امر قابل ذکر ہے کہ نسوانی بیماری کی وجہ سے شعور کی آگاہی نہ ہونے کے سبب علاج انتہائی قلیل تعداد اپنا علاج کراتی ہے، جس کی وجہ سے قابل علاج ہونے کے باوجود خواتین کا علاج کروانے کا رجحان بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود کے مطابق کم عمری کی شادیاں، دوران زچگی حفاظتی اقدامات نہ کرنے کے باعث پاکستان میں فیسٹولا (عورتوں میں پیشاب بہنے کی بیماری) کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مرض کے بارے میں زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کیا جائے

SEE NOMINATION →
تھر پارکر میں نومولود بچوں کی بلند شرحِ اموات کی وجہ کیا ہے؟

مٹھی اسپتال میں پہلے سے بک اور ریفرل کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ڈیلوری کا وقت یہاں کی ماوں کے لئے اس لئے مشکل ہے کہ بچوں کی پیدائش میں وقفہ نہیں ہوتا، غربت کے سبب، خوراک اور خون کی کمی ماوں کی صحت کو اتنا کمزور بنا چکی ہوتی ہیں کہ بچہ مقررہ وقت سے پہلے ہی ڈیلور ہوجاتا ہے جس کے بعد بچے کی زندگی بھی خطرے سے دوچار ہوتی ہیں۔ جب ماں انیمیا کا شکار ہو اور اسے ہر سال بچہ پیدا کرنا پڑے تو اس کی صحت کہاں سے اچھی ہوگی۔ ڈاکٹر کے مطابق تھر پارکر میں خاندانی منصوبہ بندی کا کانسیپٹ واضح نہیں یہاں تعلیم کی کمی بھی ہے اورمسلمان ہوں یا ہندو خاندان، ان میں فیملی پلاننگ کو تسلیم نہیں کیا جاتا وہ اس سے متعلق کئی غلط فہمیوں کا شکار ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اولاد خدا کی دین ہے اسے دنیا میں آنے سے روکنا درست اقدام نہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ جو ماں اسے دنیا میں لانے کا سبب ہے اگر وہ ٹھیک نہیں ہوگی تو بچہ کہاں سے تندرست پیدا ہوگا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر ڈیلوری کے وقت ماں اور بچہ زندگی اور موت سے لڑ تے ہیں اور کئی بچے پیدائش کے بعد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

SEE NOMINATION →
پختونخوا تمام شہریوں کو صحت کی مفت سہولیات دینے والا پہلا صوبہ

خیبر پختونخوا 31 جنوری 2021 تک ملک کا پہلا صوبہ بن جائے گا جس کے تمام شہریوں کوحکومت کے فیصلے کے مطابق مفت صحت کی سہولیات میسر ہوں گی اور وہ ملک بھر کے 500سرکاری اور نجی اسپتالوں میں خیبر پختونخوا کے تین کروڑ80اکھ سے زیادہ افراد مفت صحت کی دیکھ بھال کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ہیلتھ کارڈ کی انفرادیت یہ ہوگی کہ خیبر پختونخوا کا شناختی کارڈ رکھنے والا شخص ملک کے کسی بھی شہر میں مفت علاج کرا سکے گا۔مجموعی طور پر65لاکھ 90ہزار خاندان ہر سال 10 لاکھ روپے کی صحت کوریج حاصل کریں گے۔تاہم ابتدائی مرحلے میںاو پی ڈی علاج ، جگر اور ہڈیوں کے میرو ٹرانسپلانٹ کو پیکج کا حصہ نہیں بنایا گیا تاہم وزیر اعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر جگر اور بون میرو ٹرانسپلاٹ کے مہنگے علاج کو بھی بہت جلد پیکج کا حصہ بنایا جارہا ہےجس کے لئے الشفاء ہسپتال سے معاہدہ کیا جائے گا

SEE NOMINATION →
Covid-19 Corona Vaccination. Pigeon Hobby.Vaccination of Birds is also important.Report Nadeem Shahzad. کرونا کوویڈ -19 ویٹرنری ڈاکٹر کا کہنا ہے پرندوں جانوروں سے کرونا نہیں پھیلتا ۔ لیکن کرونا ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے پالتو پرندہ کو سیزن کی ویکسی نیشن ضرور کروائیں۔ رپورٹ ندیم شہزاد دن نیوز کراچی 03 ا

کوویڈ کو پوری دنیا نے اپبی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس صورت حال میں انسانی جان کی تو بات کی گئی لیکن پرندوان اور جانوروں کی بات نہیں کی گئی ان کی زندگی پر توجہ خاص نہی رہی اور خاص طور پر پاکستان میں ۔میں نے اس پر پہلے کوویڈ کے آغاز میں ہی رپورٹ چلائی جانوروں سے کرونا کس حد تک پھیلتا ہے یا یہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ کراچی کے سب سے سینئر ویٹرنری ڈاکٹر کو اپنی رپورٹ میں لیا۔۔۔ اس کے بعد تین اگست کو اس کو آگاہی و دلچسپی کے پہلو کو مد نظر رکھتے ۔کبوتر کے شوقین لوگوں کی چھتوں پر گیا ان کے پاس جہاں ایک ایک مالک شوقین نے چھ سو سے سات سو کبوتر رکھے ہیں۔۔۔۔ ان پر رپورٹ بنائی شوق بھی لوگ دیکھیں اور اپنے پرندوں کی ویکسی نیشن بھی کروائیں۔۔ کرونا ویکسی نیشن کی طرح پرندوں کی سیزنل نزلہ زکام کھانسی سانس کی ےگلیف کی ویکسی نیشن کرائی جائے۔۔۔اور ایک کبوتر باز نے اپنے تمام چھ سو کبوتروں کو ویکیسی نیشن کرائی۔ یہ کراچی کا بڑا کبوتر باز ہے۔ ایک انجکشن 250 سے 300 کا لگا۔۔۔ کبوتر بازی کا شوق پاکستان بھارت میں عروج پر ہے۔۔ ان کے گروپوں میں اس خبر کو بہت پذئرائی ملی۔ پاکستان اور بھات میں مشترکہ کبوتر باز واٹس اپ گروپوں میں جب میری رپورٹ چلی ۔۔۔تو پرندوان کے شوقین لوگوں نے اس کو اہم سمجھتے ہوئے ویکسی نیشن کرائی۔۔۔۔ کوویڈ پر ایک کوشیش جو رنگ لائی۔۔۔۔ و Pigeon Hobby.Vaccination of Birds is also important.Report Nadeem Shahzad. کرونا کوویڈ -19 ویٹرنری ڈاکٹر کا کہنا ہے پرندوں جانوروں سے کرونا نہیں پھیلتا ۔ لیکن کرونا ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے پالتو پرندہ کو سیزن کی ویکسی نیشن ضرور کروائیں۔ رپورٹ ندیم شہزاد دن نیوز . کراچی 03 اگست

SEE NOMINATION →