Education; An unthinkable dream for Baloch students

An anonymous, poor, helpless and cruel scene imprints in the minds whenever Baloch or Balochistan are heard. Whether one speaks the truth or stay silent, they are killed. As if article 19 of the constitution of Pakistan, 1973, is not for Baloch people. On the other hand, Balochistan is the solely region in Asia that ranks first when it comes to poverty. But, if we talk about the natural resources of Balochistan, it is the richest. As we all are well-aware that for some Baloch, the only source to survive is Iran border. Astoundingly, the government recently announced to seize the border. However, Baloch sometimes have to face hazardous catastrophes while working on borders. But they don’t care because they have to feed their family because of paucity of jobs in the province. Similarly, Baloch people have no rights to acquire education peacefully in Pakistan. According to the Article 25-A of Constitution, the State shall provide free and mandatory education to all children of the age of five to sixteen years. But Balochistan lacks this appropriate right. Even, in Balochistan, above than 65% children are out of school which is desperately sickening. Here questions arises; “Why are not we let to live like other people of the country? Why is Balochistan treated a colony? Unfortunately, owing to dearth of opportunity and attention, a plethora of youths in Balochistan are indulged in bad activities like drugs, robbery and many others. Sadly, many young Baloch sell their mothers’ jewelries in order to buy cars with the aim to earn a little money for their families but police, levies, FC, customs and coast guards never let them work peacefully despite the truth. It is heartbreaking to jot down that when a Zamyad reaches from Lasbela to Turbat, he has to pay half of his earnings to the police, levies, CIA, customs or excise. We always listen from the government that Balochistan is developing. I want to ask the so-called politicians that what kind of development have you given to the Baloch nation when people are committing suicide due to lack of fundamental rights ?

SEE NOMINATION →
بچے اور بچیوں کا جنسی استحصال: انسانیت کی بدترین تذلیل

آئے روز کسی نہ کسی علاقے میں جنسی زیادتیوں کے واقعات نے معاشرتی انحطاط پذیری کے اصل اسباب کو جاننے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے تاہم با اثر شخصیت اور سماجی و اخلاقی تقاضوں کے نام پر زبان بندی ایک ایسا مرض بن جاتا ہے جس میں مجرم بے خوف و متاثرہ فرد سنگین مسائل میں اپنی زندگی کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ بچوں سے جنسی استحصال پر مخصوص ذہن رکھنے والے اپنی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور ریٹنگ بڑھانے کے لئے بھی متنازع معاملات میں مخالف طبقات کے خلاف منفی پراپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں، کسی کے غلط فعل کو کسی مذہب یا قومیت سے جوڑنے کا عمل کبھی بھی اچھا نہیں سمجھا جاتا تاہم جہاں مذہب کے نام پر ایسے واقعات سامنے آئیں تو پھر معاشرتی بگاڑ کی درستی کے لئے یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے کہ غیر جانب دار اور تعصب سے بالاتر ہو کر بغیر کسی صنفی امتیاز، نگ نسل اور مذہب اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لئے آگاہی کی ضرورت کو اپنایا جائے۔

SEE NOMINATION →
Public Affairs

پاک افغان بارڈر چمن پر شہریوں کو درپیش مشکلات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چمن : پاک افغان چمن بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان مصروف ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ جو ہر روز ہزاروں مسافر اور تاجر اس راستے سے سرحد پار آتے جاتے ہیں۔ جب افغانستان میں طالبان کے امارت اسلامیہ کی قبضے میں آئے ہیں۔ ان دنوں سے افغانستان سے پاکستان آنے والوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے چمن شہر کے مقامی لوگوں کے آمدورفت میں بہت مشکلات پیدا ہوئے ہیں ۔ کئی دفعہ بارڈر کی بندش ہوئی اور بندش کیخلاف عوامی مظاہرے بھی ہوئے پھر حکومت پاکستان اور امارت اسلامیہ افغانستان کے مقامی انتظامیہ آفیسران کے مذاکراتوں سے بارڈر کو چار گھنٹوں سے آٹھ گھنٹوں تک بارڈر کھولنے کا اعلان کردیا۔ لیکن چمن کے تاجر برادری اور عوام نے اسے مسترد کرکے گیارہ گھنٹے کھولنے کا مطالبہ کیا لیکن تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔ اہلیان چمن و سپین بولدک کے علاوہ افغان پناہ گزین صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک مردوں کو اپنے کندھوں پر سامان لادے، خواتین کو برقع پہنے اور لمبی چادریں اوڑھے مردوں کے ساتھ چلتے، اپنی ماؤوں سے لپٹے بچوں سمیت سینکڑوں تھکے ہارے، گرد میں اٹے، ویل چئیر پر بیٹھے مریضوں اور کئی افراد کو پاؤں میں جوتوں کے بغیر پاکستان میں داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں بہت سے جوان لوگ بھی شامل ہیں۔ لوگ، خاص طور پر خواتین پاک افغان بارڈر چمن کے باب دوستی گیٹ پر بہت سی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ سرحد کے پار افغانستان میں بہت رش ہے۔ لوگوں کو دھکے دیے جا رہے ہیں۔ قطاریں لمبی ہیں اور آپ کو ہر طرف ملک سے نکلنے کے لیے بے تاب شہری نظر آتے ہیں۔ چمن کے ایک شہری جمال الدین اچکزئی نے پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر محمد صدیق مدنی کو بتایا کہ پاک افغان بارڈر چمن پر آمدورفت میں سخت مشکلات ہیں۔ پاکستانی حکومت کی جانب سے اوریجنل شناختی کارڈ اور افغانی تذکرہ کارڈ رکھتے ہوئے لوگوں کو چھوڑتے ہیں۔ دستاویزات کے فوٹوکاپی رکھنے والوں اور دستاویزات نہ رکھنے والوں کو واپس بھیج دیتے ہیں۔ بارڈر کے اس پار گزشتہ تین ہفتوں سے ایسے سینکڑوں افراد موجود انتظار کرنے بھیٹے ہیں۔ جو دستاویزات نہ رکھنے کی وجہ سے بارڈر پار کی اجازت نہیں دئے جاتے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بارڈر چمن پر بھی سخت گرمی ہے جو 38 سے لیکر 40 ڈگری تک رہتے ہیں۔ افغان پناہ گزین لوگ سخت مشکلات کا سامنا ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاک افغان بارڈر پر رش لگنے سے چمن سے کوئٹہ تک جانے والوں کیلئے بھی مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ شاہراہ پر چلنے والے ٹرانسپورٹ نے اپنے کرائے بھی دو سو فیصد اضافہ کردیا ہے۔ ویگن 700 سے لیکر 1000 روپے تک اور موٹر کاریں 1000 سے 1500 روپے تک کرائے لیتے ہیں۔ جس کی بدولت غریب طبقہ کیلئے سفر ناگزیر بن چکا ہے۔ اہلیان چمن نے ضلع چمن کے ضلعی انتظامیہ سے درخواست بھی کی ہے کہ چمن کوئٹہ شاہراہ پر ٹرانسپورٹ کے بے جا کرایوں کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھائیں لیکن تاحال کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے۔ ایک طرف طالبان افغانستان میں اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں تو دوسری جانب ہزاروں افغان شہری خوف کے مارے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ خوفزدہ اور نقل مکانی پر مجبور ان بہت سے افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد چمن بارڈر کے ذریعے پاکستان بھی آ رہی ہے۔ افغان پناہ گزین سنگین خان کا تعلق افغانستان سے ہے نے ایچ آر سی پی کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر محمد صدیق مدنی کو بتایا کہ وہ پاکستان میں رہتے ہیں۔ وہ ابھی ابھی ننگرہار سے واپس آئے ہیں جہاں وہ اپنی بیمار بہن کی عیادت کے لیے گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ طالبان سے زیادہ افغانستان کے لوگ غربت کی وجہ سے مر رہے ہیں۔لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں، معیشت کی حالت بُری ہے تو لوگ پاکستان اور ترکی جیسے دوسرے ممالک میں جا رہے ہیں۔ اسی طرح بغلان سے تعلق رکھنے والے اور فارسی زبان بولنے والے کوئلے کے ایک کان کن عبدالسلام اپنا سامان کندھے پر ایک چھوٹی سی بوری میں لے کر جا رہے تھے اور سیاہ رنگ کے برقعے میں ان کی اہلیہ محتاط انداز میں ان کے پیچھے چل رہی تھیں۔انھوں نے بتایا کہ ان کے آبائی علاقے میں کانیں بند ہیں اور ان کے پاس کام نہیں۔ وہ چمن سرحد سے تقریباً سو کلومیٹر دور ایک چھوٹے سے شہر کچلاک جا رہے ہے تاکہ کوئلے کی کانوں میں اپنے لیے روزگار کام تلاش کر سکیں۔ اسی طرح پاک افغان بارڈر چمن پر رش کی بدولت ٹرانزٹ ٹریڈ ٹرک ڈرائیوروں کو کلیئرنگ کے مشکلات بھی درپیش ہیں گزشتہ روز پاک افغان بارڈر شاہراہ پر ڈرائیوروں کی جانب سے کلیرنگ اور تاجروں سے اپنے مطالبات کے حق میں سینکڑوں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ٹرک کھڑے کرکے احتجاج کیا تھا ڈرائیور شیر علی ،طور جان اور زیفر ڈاکٹر کے مطابق ان کو دہاڑی نہ ملنے پر یہ احتجاج ریکارڈ کرایا جا رہا ہے احتجاج میں دور دراز علاقوں کے ٹرک ڈرائیور کھڑے تھے جو کئی دنوں سے اپنی دیہاڑی کے انتظار میں کھڑے تھے ڈرائیور شامل تھے انہوں نے کہا کہ ہم سے گاڑی لیٹ کرنے پر گاڑی کی ڈیمرج مانگتے ہیں مگر جب ہمارے ڈرائیور 4 سے 5 ہزار دہاڑی مانگتے ہیں تو ہمیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ہم یہ جتنے بھی ڈرائیور ہے ہم ایک ہے جب تک ہمیں دہاڑی مل نہیں جاتی یہ احتجاج اسی طرح جاری رہے گا دوسری جانب آل بلوچستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن ضلع چمن کے صدر نے ڈرائیوروں کا حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے ڈرائیور برادری کے ساتھ مکمل حمایت کرتے ہیں انہیں اپنے حق ملنے تک ہم ان کے ساتھ کھڑے رہینگے ۔ جبکہ ہڑتال کے باعث افغانستان کو جانے والے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز سینکروں کی تعداد میں جمع ہوچکے ہیں اور ڈرائیوروں نے اس وقت تک ہڑتال جاری رکھنے کاعہد کیاجب تک ان کو ان کاحق نہیں ملے گا اور ان کامطالبہ ہیں کہ وہ جتنے دن کھڑے رہے رہے ہیں ان کو دن کے حساب سے دیہاڑی دی جائے جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیاگیاتھا۔ پاک افغان بارڈر چمن پر مقامی تاجر برادری اور عوام کو وقت کی کمی کی بدولت سخت مشکلات کے سامنا ہیں۔ وقت کی کمی اور زیادہ رش کی وجہ سے بہت سے شہریوں نے کاروبار چھوڑ دی ہیں۔ جب یہاں سے بارڈر جاتے ہیں تو دو سے تین گھنٹے لگتے ہیں اور واپسی پر بھی یہی حال ہے۔ تو تاجر برادری کا جانا فضول ہیں۔ حکومت پاکستان اور امارت اسلامیہ افغانستان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بارڈر کو صبح آٹھ سے شام سات بجے تک کھول دیا جائے اور افغان پناہ گزینوں کیلئے علیحدہ راستہ منتخب کرکے اسے پاکستان چھوڑا جائے۔ #human_rights_commision_of_pakistan

SEE NOMINATION →