لمز سے بریانی کے کاروبار تک کا سفر

اسلام آباد کے علاقے بلیو ایریا میں گھر کی بنی ہوئی بریانی فروخت کرنے والے محمد عمر کمال ہمیشہ سے اس کاروبار سے وابستہ نہیں تھے، لیکن حالات نے انہیں بریانی کے سٹال تک پہنچا دیا۔ عمر کمال نے لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) اور کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی سے انٹرپرائز مینجمنٹ کی ٹریننگ حاصل کر رکھی ہے اور پیشے کے اعتبار سے وہ ڈویلپمنٹ پروفیشنل ہیں، مگر بے روزگاری کی وجہ سے انہوں نے بریانی بیچنے کا کام شروع کر دیا۔ انہوں نے یونیورسٹی آف بہاولپور سے پولیٹیکل سائنس اور انگریزی جب کہ بہا الدین زکریا یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات عامہ میں ماسٹرز بھی کر رکھا ہے۔ وہ اپنی گاڑی میں گھر کی بنی ہوئی بریانی لاتے ہیں اور وفاقی دارالحکومت کے مصروف ترین کاروباری علاقے بلیو ایریا میں سیور فوڈز کے پاس آواز لگا کر اسے فروخت کرتے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا: ’میں یہاں پر اپنے گھر کی بنی چکن بریانی بیچ رہا ہوں، مگر میں نے لمز اور میک گل سے انٹر پرائز مینجمنٹ کیا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں پاکستان کا اکیلا فنڈ ریزنگ ایکسپرٹ ہوں کیونکہ میں نے فنڈ ریزنگ پر 15 سال کی ریسرچ کر رکھی ہے۔‘ عمر کمال کا مزید کہنا تھا: ’شاید میں پوری دنیا میں واحد پاکستانی ہوں جس نے فنڈ ریزنگ پر کتاب بھی لکھی ہے۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں فنڈ ریزنگ پڑھائی نہیں جاتی، اس لیے میں نے اس پر کورس مٹیریل بھی بنایا تھا مگر اب میں یہاں ہوں۔‘ انہوں نے بتایا: ’میں گذشتہ چار برس سے بیروزگار تھا اور لوگوں سے مدد مانگ رہا تھا کہ مجھے ملازمت یا کنسلٹنسی دے دو، پھر میں نے اللہ کے ساتھ اپنا تعلق ٹھیک کیا اور کہا کہ اللہ جی! میں اب تھک گیا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں خیال ڈالا کہ اپنا کام کیا جائے تاکہ لوگوں پر سے میرا انحصار ختم ہو جائے۔ میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ کیا ہم فوڈ کا بزنس کر سکتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ بالکل کر سکتے ہیں، سو اس طرح ہم نے کام کا آغاز کیا۔‘ انہوں نے بتایا: ’میری اہلیہ شیف ہیں اور بہت خوبصورت بھی ہیں، میں ان کا شکرگزار ہوں کہ وہ میرے لیے بریانی بناتی ہیں، جسے میں بہت فخر سے یہاں لا کر فروخت کرتا ہوں۔ اس سے پہلے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کاروبار میں اتنا مزہ اور نشہ ہے۔‘ عمر کمال کے مطابق: ’میں نے پانچ ہزار روپے سے بنائے گئے 15 ڈبوں سے یہاں کام شروع کیا تھا اور اب میں 30 سے 35 ڈبے روز فروخت کرتا ہوں۔ امید ہے کہ میں یہاں ہمیشہ آتا رہوں گا۔ آج میرے پاس بلینو گاڑی ہے اور مجھے امید ہے کہ میں اگلے سال مرسیڈیز خریدوں گا۔‘ انہوں نے مزید بتایا: ’یہاں سے کام شروع کرکے میں نے پی ڈبلیو ڈی کے علاقے میں ایک آؤٹ لیٹ لیا ہے، جہاں ہم باربی کیو، گھر کی بنی ہوئی آئس کریم اور بریانی بھی بیچ رہے ہوں گے، مگر میں پھر بھی یہاں ضرور آؤں گا چاہے پانچ یا چھ ڈبے فروخت کرنے کے لیے ہی، تاکہ میں واپس جا کر اپنی دکان سنبھال سکوں۔‘ عمر کمال کے مطابق: ’دو مہینے پہلے تک میرے دوست گھر چلانے میں میری مدد کر رہے تھے مگر اب الحمدللہ میں اپنے دوستوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر کسی کو میری مدد چاہیے تو مجھے بتائے۔‘ انہوں نے کہا: ’میں تمام لوگوں کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ خدا کے لیے مایوسی اور پاکستان کو برا بھلا کہنا چھوڑ دیں، میں پاکستان کی زمین پر کھڑا ہوں اور بہت زیادہ خوش و مطمئن ہوں۔ لوگوں کی منتیں کرنا اور مدد مانگنا چھوڑ دیں۔ میں نے صرف پانچ ہزار روپے سے یہ کاروبار شروع کیا تھا اور اب میں اس سے تین گنا زیادہ کما رہا ہوں۔‘ عمر نے مزید کہا: ’رزق حلال میں اور محنت میں کوئی شرم نہیں ہے۔ ہمارے بہت سے بھائی، بہن بیرون ملک جا کر اس سے زیادہ چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں اگر وہ یہ سب کام یہاں شروع کر دیں تو ہمارے ملک سے بیروزگاری کا مکمل خاتمہ ہو جائے۔‘

SEE NOMINATION →
Mangroves of sind

کاکا پیر ولیج کے باسی تیمر کو اپنی روزی روٹی کا پیالہ کہتے ہیں۔مائی رقیہ اپنی نسل کی پرورش کرتے کرتے اب تیمر کے جنگلات کی حفاظت بھی ماں کی طرح کررہی ہے ۔۔۔مائی رقیہ کاکا پیر ولیج کے اس سرگرم کمیونٹی کا حصہ ہیں جنہوں نے مینگرووز کی بقا کے لئے اپنا خون پسینہ ایک کررہی ہے ۔کاکا پیر ولیج ہاکس بے پر واقع 350 گھروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گوٹھ ہے۔۔بیس بائیس سال ہوئے یہاں کے ہر فرد نے مینگروز کی آبیاری کو اپنی زندگی کا مقصد بناٗیا ۔۔مائی رقیہ اکثر بچپن کے ان دنوں کا تذکرہ کرتی ہیں جب ان پودوں کی جڑوں بے پناہ جھینگے اور مچھلیاں شکار کے لئے باآسانی مل جایا کرتی تھیں انساں کی زمین پر قبضے کی حوس تمر کی بربادی کا سبب بنی۔۔مافیا تمر کاٹتے،زمین کی بھرائی کرتے اور پھر پلاٹ بنادیتے کوئی روکنے والا نہ تھا۔۔۔تمر کی کٹائی تو مقامی افراد بھی ایندھن اور مویشیوں کے چارے کے لئے کرتے ہی ہیں لیکن اس احتیاط کے ساتھ کہ یہ کٹائی پودے کی افزاٗیش پر اثرانداز نہ ہو مقامی افراد تمر کے جنگلات کی حفاظت کسی خزانے کی طرح کرتے ہیں۔۔یہاں کے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ تمر کے یہ پودے ماحول کے لئے پھیپھڑوں کا کام کرتے ہیں اور عام درختوں کے مقابلے میں آکسیجن کا 4 گنا زائد اخراج کرتے ہیں۔۔یہی وجہ ہے کہ پچپن سے ہی لوک کہانیوں کے ذریعے بچوں کو قدرتی ماحول سے محبت کرنا سکھایا جاتا ہے گیڈر کو یہاں کے بچے ماما گیدڑ کہتے ہیں اور نورجہاں کی یہ کہانی جنگلی حیات سے محبت و شفقت کا درس دیتی ہے۔ جنگل کی خاموشی دل پر سحر طاری کردیتی ہے اور فطری مناظر کچھ یوں بکھرے نظر آتے ہیں کہ کیمرے میں انہیں قید کرنا لازم ٹہرتا ہے۔ سال میں ایک بار تمر کے پودے اپنا بیچ گراتے ہیں۔۔جنہیں دلدلی زمین ملے تو پھوٹ پڑتے ہیں 1950 میں تمر کے جنگلات 350،000 ہیکٹر پر پھیلے ہوئےتھے جو 1990 تک کم ہوکر محض 86،000 رہ گئے۔۔سمندر میں ڈالا جانے والا کچرا اور گندا پانی بھی ان جنگلات کی تباہی کا باعث ہیں ۔قدرتی ماحول کی بقا کے لئے کام کرنے والی تنظیم ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق مقامی افراد کے تعاون اور مختلف شجرکاری مہم کے باعث تمر کے جنگلات تباہی کے دہانے سے نکل کر اضافے کی جانب سفر شروع کرچکے ہیں سبز کچھووں \' کے بچے زندگی کا پہلا قدم اٹھارہے ہیں۔۔منزل گہرا سمندر ہے۔۔ماہرین کہتے ہیں کہ سرکاری اور انفرادی سطح پر ہمیں آبی حیات اور قدرتی ماحول سے شفقت اور محبت کے جذبات کو اپنانا ہوگا۔۔

SEE NOMINATION →
پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری

بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی، حیاتیاتی علوم(INTERNATIONAL CENTER FOR CHEMICAL AND BIOLOGICAL SCIENCES) جامعہ کراچی کے سربراہ، پروفیسر ڈاکٹر محمّد اقبال چوہدری پاکستان کے ایک ایسے سائنس دان ہیں، جن کی تحقیقی، علمی اور انتظامی کارکردگی، صلاحیتیں دنیا بھر میں نہ صرف سراہی جاتی ہیں، بلکہ اُنھیں ایک مثال کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اُنھوں نے آرگینک اور بائیو آرگینک کیمسٹری کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، اِس ضمن میں اُن کے 1175 کے قریب تحقیقی مقالہ جات عالمی جرائد کا حصّہ بن چُکے ہیں، جب کہ اُنھوں نے 76 کتب بھی لکھیں، جو امریکا اور یورپ سے شایع ہوئیں۔ علاوہ ازیں، 40 انٹرنیشنل اور یو ایس پیٹینٹ بھی اُن کے نام ہیں۔ ان کے سائنسی کام کو 27 ہزار سے زیادہ بار بطور حوالہ پیش کیا جا چُکا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اِن شان دار علمی و تحقیقی خدمات پر اُنھیں تمغۂ امتیاز، ستارۂ امتیاز اور ہلالِ امتیاز سے نوازا، جب کہ عالمی سطح پر بھی بہت سے اعزازات حاصل کرچُکے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اُنھیں چین کے بھی ایک بڑے ایوارڈ ’’دی 2020ء گونگسکی گولڈن سلک بال فرینڈ شپ‘‘سے نوازا گیا ہے۔ وہ وزیرِ اعظم پاکستان کی زیرِ نگرانی قومی کمیشن برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے رُکن ہیں، تو اسلامی ممالک کی تنظیم، او آئی سی کے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے قائم کردہ فورم، کامسٹیک کے کو آرڈی نیٹر بھی ہیں، جب کہ تمام بڑی عالمی سائنس اکیڈمیز کے فیلو بھی ہیں۔ اُنھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ درجنوں مُلکی، غیر مُلکی یونی ورسٹیز اور اداروں کے بورڈز کے فعال رُکن ہیں۔ دنیا کے 70 سے زاید ممالک میں منعقدہ سیمینارز میں اپنے تحقیقی مقالات پیش کر چُکے ہیں۔ اس رپورٹ میں اُن کی جہد مسلسل کا احوال ہے۔

SEE NOMINATION →