پاکستان میں 15 لاکھ بچوں کو مفت پڑھانے والی آن لائن اکیڈمی

’نون اکیڈمی‘ کے نام سے سعودی عرب سے شروع ہونے والی بین الاقوامی آن لائن اکیڈمی پاکستان بھر میں خصوصاً یہاں کے پسماندہ علاقوں میں تعلیمی انقلاب کا ذریعہ بن رہی ہے۔ نون اکیڈمی پاکستان کا آغاز گذشتہ برس کیا گیا تھا اور رواں ماہ تک 15 لاکھ پاکستانی طلبہ اس آن لائن اکیڈمی کے ذریعے نہ صرف مفت اور معیاری تعلیم بلکہ بہتر نتائج بھی حاصل کر رہے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ ایک سوشل لرننگ پلیٹ فارم ہے جو سعودی عرب سے ٹیسٹ بیسڈ ویب سائٹ کے طور پر شروع کیا گیا، تاہم بہترین نتائج کی وجہ سے یہ آہستہ آہستہ دنیا بھر میں پھیل گیا اور اب آٹھ ممالک کے 12 ملین طلبہ اس سے استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں نون اکیڈمی پاکستان کے اکیڈمک ہیڈ نیشنل بورڈ، سعد سلمان سلہری نے بتایا: ’ابتدائی طور پر ہم نے فیس بک اور یوٹیوب کے ذریعے اپنا مفت اور معیاری تعلیم کا پیغام طلبہ تک پہنچایا۔ کچھ بچوں نے جب کلاسز لینا شروع کیں تو انہیں اس سے فائدہ ہوا، جس کے بعد انہوں نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ ہم یہاں سے مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔‘ سعد سلمان کے مطابق: ’جس گروہ کو میں نے پڑھایا اس میں ایک لاکھ سے زیادہ بچے تھے۔ بچوں کے پاس یہ سہولت بھی ہوتی ہے کہ وہ لائیو لیکچر کے بعد ریکارڈنگ دیکھ سکیں۔ ایسے بچے دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے ہمارا شکریہ ادا کیا۔ کئی کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی اپنے سکولوں میں استاد دیکھا ہی نہیں۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ ہمیں یہاں پر استاد سے بات کرنے کا موقع مل رہا ہے۔‘ نون اکیڈمی پاکستان کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ طلبہ کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے باوجود اس ادارے نے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کو آن بورڈ لے رکھا ہے۔ اس ادارے کے اکیڈمک ہیڈ کیمبرج سٹریم ہارون طارق نے سات ورلڈ ریکارڈز بنا رکھے ہیں۔ انہوں نے او اور اے لیولز میں کل ملا کر 87 اے گریڈز حاصل کرکے ورلڈ ریکارڈ بنایا تھا۔ انڈپینڈنٹ اردو سے بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ ’2013 میں جب میں نے اپنا اے لیول مکمل کیا تو مجھے آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف میلبورن میں مکمل سکالرشپ ملی۔ وہاں پر میں نے کمپیوٹر سائنس پڑھی اور 2017 میں پاکستان واپس آیا۔ مجھے شروع سے ہی ٹیچنگ کا شوق تھا، 2020 میں جب نون اکیڈمی پاکستان آئی تو ان کا اور میرا پیغام ملتا جلتا تھا کہ معیاری اور مفت تعلیم مہیا کی جائے، لیکن ہاں جن بچوں کو زیادہ توجہ چاہیے تو وہ معاوضہ ادا کریں۔‘ صوبہ بلوچستان کے علاقے سوئی سے تعلق رکھنے والے نون اکیڈمی کے طالب علم سیف اللہ بگٹی کا کہنا تھا کہ ’میں ایک ایسے ضلعے سے تعلق رکھتا ہوں جہاں تعلیم کا کوئی نظام موجود نہیں، میں نے نون ایپ انسٹال کی جس کے ذریعے مجھے پاکستان کے بہترین اساتذہ سے پڑھنے کا موقع ملا۔ نون اکیڈمی کی بدولت میں نے ایف ایس سی میں بہت اچھے نمبرز لیے ہیں اور ایم ڈی کیٹ کی تیاری بھی مفت میں نون اکیڈمی سے ہی کی ہے۔‘ طلبہ learnatnoon.com پر جا کر سٹوڈنٹ اکاؤنٹ بناسکتے ہیں اور مضامین کے حساب سے اساتذہ کے گروپ جوائن کر سکتے ہیں۔ نون پاکستان کی ایپ کے ذریعے بھی آئی فون اور اینڈروئیڈ استعمال کرنے والے افراد اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ اس آن لائن لرننگ پلیٹ فارم پر بچوں کے لیے کوئز وغیرہ بھی کروائے جاتے ہیں اور انہیں ایسے انعامات بھی دیے جاتے ہیں جو آگے چل کر تعلیم حاصل کرنے میں طلبہ کی مدد کرسکیں۔

SEE NOMINATION →
برطانیہ میں جنسی حملوں کا شکار ایک پاکستانی لڑکی رپورٹ کیوں نہ کر سکی؟

اصل یہ وہ کلچر ہے جو عمومی طور پر پاکستانی معاشرے میں پایا جاتا ہے کہ شرمندگی اور معاشرتی خوف کے پیش نظر زیادتی کے واقعات کو رپورٹ نہیں کرتے اور ظلم کا نشانہ بننے والوں کو خاموش رہنے کا درس دیا جاتا ہے۔ خاموشی اس وقت ٹوٹ جاتی جب کوئی بچہ، بچی یا خاتون جنسی زیادتی کی وجہ سے قتل کردی جاتی ہے اور تلخ خبریں سوشل و الیکٹرانک میڈیا میں تشہیر کے بعد کچھ وقت کے لیے چلتی ہیں۔ ارباب اختیار اگر نوٹس لیتے ہیں، تو مجرم گرفتار ہو جاتے ہیں ورنہ انصاف کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ایک درندہ بھی کسی جانور کے بچے کو کھاتے ہوئے ہزار بار سوچتا ہوگا لیکن انسانی کھال منڈھے جو درندے ہمارے درمیان ہیں وہ معصوموں پر رحم نہیں کھاتے۔ غلاظت سے بھرے انسان نما درندے ننھے فرشتوں سے اپنی ہوس کی آگ جلا دیتے ہیں اور ان کی پوری زندگی کھا جاتے ہیں۔ بیشتر اخبارات میں چھپنے والی زبان ہو یا بعض نیوز چینل یا تفریحی ڈراموں میں نشر ہونے والے الفاظ، لوگ انھیں معیار سمجھ لیتے ہیں اس لیے عمومی طور پر دیکھا گیا کہ ہماری بول چال رہن سہن تہذیب سے عاری ہوتے جا رہے ہیں۔ معاشرتی اقدار کی تباہی کا ایجنڈا ٹی وی چینلز یا انٹر نیٹ کے ذریعے گھر گھر بغیر دستک داخل ہوچکا ہے۔ عریانیت و فحاشی سے ہماری روایات و ثقافت کو بچانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی۔ فحش مواد پر مبنی ویب سائٹس مختلف نیٹ ورک منصوبہ بندی کے تحت کمپنیاں ڈیزائن کر رہی ہیں اور پاکستانی سنجیدہ سائٹس پر بھی (ڈیٹنگ سائٹس) کے اشتہار نوجوانوں کو ترغیب دیتے نظر آتے ہیں۔

SEE NOMINATION →