آگ کی بددعا اور نیرو کا سکون!

جب بھی روم کے نیرو کو پڑھتا ہوں تو کراچی کے وہ معصوم بے گناہ شہری یاد آ جاتے جو سیکڑوں کی تعداد میں لسانیت کی سیاسی آگ میں مارے گئے، منی پاکستان جل رہا تھا، لیکن نیرو ’سب ٹھیک ہے‘ کہ بانسری بجا رہا تھا، سوات، شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت قبائلی علاقے و مالاکنڈ ڈویژن سمیت خیبر پختونخوا مکمل انتہا پسندی کے ہاتھوں جل رہے تھے، لیکن نیرو بانسری بجاتا رہا۔ بلوچستان ابھی تک جل رہا ہے، مچھ کے علاقے گشتری میں کان کنی کے محنت کشوں کو لسانی شناخت کے بعد پہاڑی علاقے میں مار دیا گیا، لیکن نیرو اب بھی ’سب ٹھیک ہے‘ کی بانسری بجا رہا ہے۔ ریاستی اداروں نے مختلف آپریشن کر کے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کیے ، کراچی کو لسانی دہشت گردوں سے بچایا تو شمال مغربی سرحدوں کے رہنے والوں کو قوم پرستی و مذہب کے نام پر مزید جلنے سے بچایا۔ بلوچستان میں پہاڑوں پر جانے والوں کو واپس بلانے و معاف کرنے کی دعوت دی گئی، لیکن جلتی آگ کی چنگاری اب بھی بھڑک رہی ہے، یہ آگ ابھی بجھی نہیں۔

SEE NOMINATION →