انسرجنسی کے دوران رپورٹنگ صحافی کیلئے پُلِ صراط پر چلنا

انسرجنسی کے دوران رپورٹنگ کرتے وقت صحافی پُلِ صراط پر چل رہا ہوتا ہے۔ صحافی جس ذرائع سے خبر کی تصدیق کرائے تو اُس پر کسی ایک کی حمایت یا ہمدردی کا الزام لگنا عام سے بات ہے۔ ایسی صورت حال میں صحافی خود کو کیسے محفوظ کر سکتا ہے؟ ایک خبر آتی ہے جہاں یہ حقائق دکھائے جا رہے ہوتے ہیں کہ کسی علاقے میں حملہ ہوا اور کتنے لوگ اس میں ہلاک ہوئے۔ یہاں خبر کی حقیقت تو بتانا بہت دور کی بات، الفاظ کے چناؤ کیلئے بھی ایک صحافی کو بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری انسرجنسی کے دوران جہاں ریاست کی جانب سے علیحدگی پسند اور شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں کی تشہیر اور کوریج کو سختی سے پابندی ہے، وہیں مسلح تنظیموں کی جانب سے بھی کوریج نہ دینے پر صحافیوں کو مشکلات کا سامنا ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں علاقائی سطح پر فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی محتاط رہتے ہیں۔ مسلح تنظیموں کی خبر نہ چلانے پر سنگین نوعیت کے نتائج بھگتنے کی دھمکیاں اور خبر چلانے کی صورت میں یہ ڈر کہ کہیں خود خبر نہ بن جائیں۔

SEE NOMINATION →
سانحہ بارہ مئی: شہدا ئے کراچی 14 برس بعد بھی انصاف کے منتظر

بزنس ریکارڈر روڈ پر قائم اردو نیوز چینل کے دفتر نے پٹیل ہسپتال (پٹیل پاڑہ) اور گرو مندر کے درمیان دو گروپوں کے درمیان مسلح تصادم کو براہ راست دکھانا شروع کر دیا، نیوز چینل کے دفتر کے سامنے مذبح خانے میں مسلح افراد کو با آسانی شناخت کیا جاسکتا تھا کہ ان کا تعلق کس جماعت سے ہے، تاہم پٹیل اسپتال کی چھت و اطراف سے مسلح افراد کی نشان دہی نہیں ہو پائی تھی کہ ان کا تعلق کسی قوم پرست یا سیاسی جماعت سے ہے، مذبح خانہ گرو مندر پر موجود مسلح افراد کو اطلاع ملی کہ ان کے عین مقابل نیوز چینل کی عمارت سے براہ راست ان کی فائرنگ کی کوریج و نقل و حرکت دکھائی جا رہی ہے تو ان کا رخ نیوز چینل کی عمارت کی جانب ہو گیا اور عمارت میں موجود میڈیا کارکنان کا کہنا تھا کہ انہیں لگا کہ جیسے قیامت آ گئی ہو، اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں انہوں نے اپنی جانیں بچانے کو ترجیح دی لیکن جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے براہ راست فائرنگ کو بھی مسلسل چھ گھنٹوں تک دکھاتے رہے، یہاں تک کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے وہاں پہنچ نہ گئے۔

SEE NOMINATION →