فضائی الودگی: سالانہ قریبا 70 لاکھ افراد کی اموات کا سبب

صاف ماحول صحت مند زندگی کی علامت و ناگزیر ہے۔ فضائی آلودگی کو انسانوں میں قبل ازوقت اموات کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس وقت فضائی آلودگی کی وجہ سے چوتھے نمبر پر قبل ’ازوقت اموات‘ واقع پذیر ہو رہی ہیں، اس سے قبل ہائی بلڈ پریشر، تمباکو نوشی اور بہتر غذا میسر نہ ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں ’قبل ازوقت اموات‘ سرفہرست ہے، اب فضائی آلودگی سے اموات کو بڑا اور اہم سبب قراردیا گیا ہے۔ اسٹیٹ آف گلوبل ائر 2020 رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ترقی پذیر ممالک میں صاف ہوا کا معیار سب سے کم ہے، جس کی وجہ سے ان ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔ تشویش ناک صورتحال یہ بھی سامنے آئی ہے کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے خواتین بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، کم وزن اور قبل ازوقت بچوں کی پیدائش اور اموات کی تعداد میں اضافے کے معاملات میں فضائی آلودگی کو مضر وجوہ قرار دی گئی ہیں

SEE NOMINATION →
child bearing pressure newly wed couples

پاکستان میں 4.45 فیصد لوگ بیروزگار ہیں اور ملک میں افراط زر پونے 11 فیصد ہے، جو آئے روز بڑھ رہی ہے۔ اس کی یقینیاً اور وجوہات بھی ہیں لیکن ایک بڑی وجہ آبادی کا بےہنگم طریقے سے بڑھنا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر حالیہ مردم شماری کے بعد بجائے اس پر بات ہوتی کہ آبادی کا یہ عفریت ملک کی وسائل کو کس طرح ہڑپ کر رہا ہے، اور اس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جاتے، الٹا تمام تر بحث کا محور یہ ہے کہ فلاں شہر اور فلاں صوبے کی آبادی کم کیوں ہے، اور فلاں کی زیادہ کیوں ہے۔اس ساری صورت حال میں ’بچے دو ہی اچھے‘ کا فارمولا بھی کچھ لوگوں کے لیے کارآمد دکھائی نہیں دیتا لیکن پھر بھی جہاں دیکھو وہاں ایک ہی چیز کا رونا ہے کہ ’بچہ کیوں نہیں پیدا کر رہے؟ کیا دنیا میں اس سے زیادہ ذاتی معاملہ کوئی ہو سکتا ہے؟ لیکن اس کے باوجود لوگ شادی شدہ جوڑے کی زندگیوں میں ٹانگ اڑانے سے باز نہیں آتے۔

SEE NOMINATION →