کیا شیریں فرہاد کی کہانی نے چکوال میں جنم لیا ؟

اسلام آباد سے 93 کلومیٹر ایم ٹو موٹر وے پر نیلہ دلہہ انٹر چینج آتا ہے۔ یہاں سے تقریباً چار کلومیٹر بعد ایک گاؤں نیلہ واقع ہے۔ جیسے ہی آپ گاؤں میں داخل ہوتے ہیں ایک خوبصورت مندر کی عمارت سامنے کھڑی نظرآتی ہے۔ پوٹھوہار میں جتنے مندر ہیں یہ ان سب میں نہایت اچھی حالت میں ہے۔ لگتا ہے اسے تقسیم کے آس پا س ہی بنایا گیا تھا۔ لیکن آج اس گاؤں میں آنے کا مقصد آپ کو کسی مندر یا قلعے کی سیر کرانا مقصود نہیں بلکہ آپ کو یہاں صدیوں سے چلی آتی ایک ایسی لوک داستان سے روشناس کرانا ہے جس کا تاریخی تعلق تو ایران سے بتایا جاتا ہے مگر مقامی لوگ اسے ایران کے بجائے دریائے سواں کے کنارے پر آباد اس گاؤں سے منسوب کرتے ہیں۔ گاؤں کا ہر بزرگ نہ صرف اس داستان کو بیان کرتا ہے بلکہ وہ کہتا ہے کہ ان کے آبا و اجداد سے یہ داستان اسی طرح سینہ بسینہ چلی آرہی ہے۔ اس داستان کو چکوال کے معروف مؤرخ انور بیگ اعوان نے اپنی کتاب ’دھنی ادب و ثقافت‘ مطبع 1967 میں بھی درج کیا ہے۔

SEE NOMINATION →
ڈاکٹر آصفہ اختر: انسانی جین کی گتھیاں سلجھانے والی انعام یافتہ پاکستانی نژاد محقق اور سائنسدان

جرمنی میں مقیم پاکستانی نژاد ڈاکٹر آصفہ اختر کو سنہ 2021 کے لائبنس انعام سے نوازا گیا۔ دنیا بھر سے دس سائنسدانوں کو اس ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا تھا، جسے جرمنی میں سائنسی تحقیق کا اعلیٰ ترین ایوارڈ سمجھا جاتا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر آصفہ سے ان کے کیریئر، نجی زندگی اور تعلیم سے ایک بین الاقوامی محقق اور سائنسدان بننے پر درپیش مسائل اور چیلنجز پر بات کی گئی جسے عام افراد کے لئے بہت ہی ساد انداز میں کہانی کی طرح بیان کیا گیا ۔ ڈاکٹر آصفہ اختر کی زندگی کی یہ چیلنجز بھری یہ کہانی پاکستانی خواتین اور نوجوان لڑکیوں کے لئے ایک زبردست موٹیویشن ہے کہ پاکستانی خواتین بھی صلاحیتیوں میں کسی سے کم نہیں ہیں۔ ڈاکٹر اختر کے مطابق آج نوجوان نسل کو جو سہولیات دستیاب ہیں وہ نوے کی دہائی میں ان کے کیریئر کی ابتدا کے وقت میسر نہیں تھیں۔ وہ کہتی ہیں ’نئی نسل کو یہ بات ذہن نشین کرنی ہو گی کہ ایک سائنسدان بننے کے لیے ارادے کا مضبوط اور مستقل مزاج ہونا ضروری ہے۔ رپورٹ میں ڈاکٹر اختر کی جینیات میں پیچیدہ تحقیق کو انتہائی سادہ انداز میں مثالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔

SEE NOMINATION →
مرطوب زمین، آلودہ پانی کو شفاف بنانے کا آسان طریقہ

پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز کی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق 2025 تک پاکستان میں پینے کا صاف پانی ناپید ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ صاف پانی کی قلت کی وجہ سےپورے ملک میں 90 فیصد کاشتکار سیوریج کے پانی سے فصلوں کو سیراب کرتے ہیں ۔ اس پانی میں بہت سی بھاری دھاتیں جیسے آئرن، نکل، کرومیم کے ذرات کے علاوہ انسانی فضلہ اور ہائیڈرو کاربن کے اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں جو اگنے وا لے پھلوں اور سبزیوں، خصوصا سبز پتوں والی سبزیوں میں شامل ہو کر گردے، جگر، جوڑوں کا درد ، کینسر، تولیدی نظام میں خرابی اور اعصابی امراض کا سبب بن رہے ہیں ۔ فیصل آباد میں انسٹیٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ کے محققین کی ایک ٹیم نے ڈاکٹر محمد افضل کی سربراہی میں اس مسئلے کا حل فلوٹنگ ٹریٹمنٹ ویٹ لینڈز یا تیرتی ہوئی دلدلی زمین کی صورت میں نکالا ہے جس میں ان کی معاونت اسی انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر محمد ارسلان اور ہیلم ہولٹز سینٹر فار انوائرمینٹل ریسرچ جرمنی کی سائنسدان ڈاکٹر جوشن این ملر نے کی ہے۔ فلوٹنگ ٹریٹمنٹ ویٹ لینڈز یا ایف ٹی ڈبلیو کے ابتدائی تجربات انتہائی آلودہ ایسے جوہڑوں میں کئے گئے جن میں رہائشی علاقوں اور صنعتوں کا گندا پانی آکر شامل ہو رہا تھا ۔ مقامی کسان فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے انہی جوہڑوں سے پانی حاصل کرتے تھے ۔ مگر یہ طریقۂ کار آبپاشی کے پانی کی صفائی کے ساتھ ایسے ذخائر کی صفائی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں سے پانی شہروں کو سپلائی کیا جاتا ہے۔

SEE NOMINATION →
ہارمونیم، رباب اور گٹار سے شدت پسندی کا مقابلہ کرتے مالاکنڈ کے فنکار

صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع مالاکنڈ کا ایک چھوٹا سا گاؤں ’تھانہ‘ اپنی تاریخ اور 72 فیصد شرح خواندگی کی وجہ سے تو ممتاز حیثیت رکھتا ہی ہے، لیکن یہاں کے لوگوں میں ادب اور دوسرے فنون کا شغف بھی پایا جاتا ہے اور علاقے کے کئی فنکاروں نے قومی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ تھانہ کے موسیقار اور شاعر امجد شہزاد گذشتہ 20 برس سے ’ہنر کور‘ کے نام سے ایک میوزک اکیڈمی چلا رہے ہیں، جہاں ہرعمر کے لوگوں، بالخصوص نوجوان لڑکے لڑکیوں کو موسیقی اور اس کے آلات کی تربیت دی جاتی ہے۔ ان کے خیال میں چونکہ پختون معاشرے میں موسیقی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا لہٰذا اس وجہ سے اکیڈمی میں دوسرے فنون کے مقابلے میں موسیقی پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے کیونکہ یہ ایک بہت ہی پراثر فن ہے۔ امجد نے بتایا: ’پوری پختون بیلٹ دہشت گردی کے نرغے میں ہے۔ ہم بندوق والے لوگ تو ہیں نہیں کہ بندوق اٹھا کر مقابلہ کریں۔ ہمارے ساتھ ہارمونیم ہے، رباب ہے، طبلہ ہے۔ ہم اسی سے مقابلہ کرتے ہیں اور ہم اس میں جیتتے بھی ہیں۔‘

SEE NOMINATION →
1835 سے قائم سکھر کی جنرل لایًبریری جہاں ملک کی معروف شخصہات اسکی دایمہ ممبر ہیںں

کھر شہر کے سنگم میں میونسپل آفسز کے ساتھ واقع جنرل لائبریری سکھر کا شمار ملک کی قدیم ترین لائبریریوں میں ہوتا ہے۔اس کا قیام ۱۸۳۵کوعمل میں آیا جب انڈس فلوٹیلا نامی جہاز راں کمپنی نے اپنے ملازمین کے لیے اسے قائم کیا بعد ازاں ۱۸۶۷ کو اسے جنرل لائبریری کا نام دے کراسے عوام کے لیے کھول دیا گیا 1893 میں اس کی باقاعدہ رجسٹریشن کروائی گئی۔ سکھر شہر میں پہاڑی کے پر فضا مقام پر جہاں میونسپل کے دفاتر کے بیچ میں واقع ہیں میں قدیم بلڈنگ جنرل لایبریری کی ہے اس لائبریری میں مذہب ،تاریخ ،اسلام، تجارت،معاشیات، فلسفہ، عمرانیات، قانون، اقبالیات، سوانح اور شاعری سمیت 30 سے زائد شعبوں میں ستر ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔ جبکہ کئی سو سال پرانی نایاب کتب اور قلمی نسخے بھی موجود ہیں ۔ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والی ملک کی نامور شخصیات جن میں سابق گورنر حکیم محمد سعید، سابق گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد سمیت پاکستان بھر میں سینکڑوں دائمی ممبران ہیں

SEE NOMINATION →