The story of Parveen Bibi, from forced marriage to become an empowered woman.

Parveen is a divorced lady from Faisal Abad, having a boy from her first marriage. She was sold at the age of 28 years and sent to South Punjab. She was uneducated and unskilled.. One of her family members dodged her in the name of earning money in some other city . She was forced to marry the man who purchased her for 60, 000 rupees . She was forced to remain locked at home. She was not allowed to go out in the village. She was not allowed to meet other women. She gave birth to two girls. She spent her youth in a lurch and away from her family. Her son was in Faisal Abad, to whom she was not allowed to meet. In 2010 , her time changed with the arrival of flood . The whole village was collapsed. Different organizations arrived to help the people there. They gathered women there, to help and restore their lifestyles and help them financially. They conducted awareness and self growth training for them, So Parveen husband was forced to give permission to her to be involved in those sessions because he had his own financial interest. She was awarded animals to earn her livelihood. The crisis brought out an opportunity for her, she reshaped herself, she became confident, she started mobilizing people, she became a community leader and started changing behaviours of her locality. So her contribution makes women more empowered and independent.

SEE NOMINATION →
مہرانو: خیرپور کے تالپور خاندان کی شکار گاہ جنگلی حیات کی پناہ گاہ کیسے بنی؟

وسیع رقبے پر قائم یہ نجی پناہ گاہ گھنے جنگل، جھیلوں، انواع و اقسام کے قدیم درخت، قد آدم گھاس کے قطعات پر مشتمل ہے جن میں جانور دوڑتے بھاگتے اور قلانچیں بھرتے ہرن باآسانی نظر آتے ہیں۔ یہاں باقاعدہ ایک گھنا جنگل بھی ہے جہاں گھنے درخت، قد آدم گھاس جسے کبھی نہیں کاٹا جاتا اور اس کے اندر پھلتے پھولتے نایاب جانور موجود ہیں۔ دور دور تک جنگل اور جانوروں کا نظارہ کرنے کے لیے جیپ کے کئی راستے اس جنگل کے مرکز میں جاتے ہیں جہاں ایک چھوٹا کثیر المنزلہ شکار لاج ہے جس کی چھت سے جنگل کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ اس وسیع قدرتی پناہ گاہ میں موجود جانوروں میں ہرنوں کی کئی اقسام مثلا چنکارہ، پھاڑا اور کالے ہرن شامل ہیں جو اس پورے خطے میں نایاب ہپں اور انھیں معدومیت کا خطرہ لاحق ہے۔ اس کے علاوہ یہاں جنگلی سوروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ پاکستان میں ایسے سوروں کی آخری پناہ گاہ ہے جہاں ان کی افزائش ہو رہی ہے۔ مہرانو پاکستان میں پھاڑا ہرن (ہاگ ہرن) کا آخری گڑھ بھی ہے۔ اس ہرن کا سندھ میں کھال اور گوشت کے لیے بےرخمی سے شکار کیا گیا لیکن اب مہرانو میں اس کی نسل بلا خوف و خطر پروان چڑھ رہی ہے۔

SEE NOMINATION →
دنیا میں 40 فیصد سے زائد افراد، تنازعات سے متاثرہ

بادی النظر حکومت کی جانب سے غربت کے خاتمے اور کمی کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں لیکن معاشی پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے، مختلف مافیاز کی اجارہ داری کی وجہ سے غریب و متوسط طبقے کو ریلیف نہیں مل سکا اور غریب، مزید غریب ہوتا جا رہا ہے، اشیا ضروریہ میں اجناس کے علاوہ صحت عامہ اور بنیادی تعلیم کا حصول بھی اس قدر مشکل بنا دیا گیا ہے کہ ایک خاندان کو زندہ رہنے کے لئے مل کر کام کرنا پڑتا ہے، فرد واحد سے سات افراد کا کنبہ چلنا دشوار ہو چکا ہے، اس المیے کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے بچے اور گھریلو خواتین بھی اپنے اخراجات پورے کرنے کے لئے کم ترین اجرتوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں، جس کا نقصان براہ راست آنے والی نسل پر منتقل ہو رہا ہے، ہنر مندی اور اعلیٰ تعلیم کے ساتھ پیشہ وارانہ ذمے داریوں سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے غریب اور متوسط طبقے کو بدترین حالات کا سامنا ہوگا، جس سے نکلنے کے لئے اگر دور رس حکمت عملی وضع نہیں کی گئی تو نقصان ناقابل برداشت ہو سکتا ہے۔

SEE NOMINATION →