واٹر بورڈ کا NEKکے بجائے میانوالی کالونی میں کیماڑی ہائیڈرنٹ قائم کرنے کا انکشاف

کراچی: ادارہ فراہمی و نکاسی آب کے تحت شہر میں 7 ہائیڈرنٹ قائم ہیں، جن میں سے ایک این ایل سی اور بقیہ 6 ہائیڈرنٹس ہر ضلع میں پانی کی سپلائی ٹینکروں کے ذریعے کرنے کیلئے قائم کیئے گئے ہیں۔ جب کہ ضلع کیماڑی بننے کے بعد مذید ایک ہائیڈرنٹ قائم کرنے کی تیاری کر لی گئی ہے، جس کے لئے جگہ کا انتخاب این ای کے پر کیا گیا تھا جس کو سید ناصر حسین شاہ کے قریب سمجھے جانے والے ایک بلڈر نے تبدیل کرا کے منگھو پیر روڈ میانوالی کالونی میں کرا دیا ہے۔ اس ہائیڈرنٹ کا کمیشن طے کرنے کے لئے ایسا ٹھیکیدار سرگرم ہے جس کا اپنا بھی ایک ہائیڈرنٹ ہے، سید ناصر حسین شاہ سے قریبی تعلق کی وجہ سے ٹھیکیدار نے کرش پلانٹ ہائیڈرنٹ میں بھی شراکت داری کر رکھی ہے۔ کرش پلانٹ کے ہائیڈرنٹ کے ساتھ مذید 2 اضافی وغیر قانونی نل سید ناصر حسین شاہ کے نام پر قائم کئے گئے ہیں،جس پر نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمیر ساریو نے بھی خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

SEE NOMINATION →
مرطوب زمین، آلودہ پانی کو شفاف بنانے کا آسان طریقہ

پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز کی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ کے مطابق 2025 تک پاکستان میں پینے کا صاف پانی ناپید ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ صاف پانی کی قلت کی وجہ سےپورے ملک میں 90 فیصد کاشتکار سیوریج کے پانی سے فصلوں کو سیراب کرتے ہیں ۔ اس پانی میں بہت سی بھاری دھاتیں جیسے آئرن، نکل، کرومیم کے ذرات کے علاوہ انسانی فضلہ اور ہائیڈرو کاربن کے اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں جو اگنے وا لے پھلوں اور سبزیوں، خصوصا سبز پتوں والی سبزیوں میں شامل ہو کر گردے، جگر، جوڑوں کا درد ، کینسر، تولیدی نظام میں خرابی اور اعصابی امراض کا سبب بن رہے ہیں ۔ فیصل آباد میں انسٹیٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ کے محققین کی ایک ٹیم نے ڈاکٹر محمد افضل کی سربراہی میں اس مسئلے کا حل فلوٹنگ ٹریٹمنٹ ویٹ لینڈز یا تیرتی ہوئی دلدلی زمین کی صورت میں نکالا ہے جس میں ان کی معاونت اسی انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر محمد ارسلان اور ہیلم ہولٹز سینٹر فار انوائرمینٹل ریسرچ جرمنی کی سائنسدان ڈاکٹر جوشن این ملر نے کی ہے۔ فلوٹنگ ٹریٹمنٹ ویٹ لینڈز یا ایف ٹی ڈبلیو کے ابتدائی تجربات انتہائی آلودہ ایسے جوہڑوں میں کئے گئے جن میں رہائشی علاقوں اور صنعتوں کا گندا پانی آکر شامل ہو رہا تھا ۔ مقامی کسان فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے انہی جوہڑوں سے پانی حاصل کرتے تھے ۔ مگر یہ طریقۂ کار آبپاشی کے پانی کی صفائی کے ساتھ ایسے ذخائر کی صفائی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں سے پانی شہروں کو سپلائی کیا جاتا ہے۔

SEE NOMINATION →